Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ایم جے اکبر کے تبادلہ کا شاخسانہ ، اقلیتی بہبود کے معاملات پر گہری نظر

ایم جے اکبر کے تبادلہ کا شاخسانہ ، اقلیتی بہبود کے معاملات پر گہری نظر

سیاست ویب سائٹ پر نیوز کے انکشاف پر لاکھوں قارئین کا ردعمل ، انسداد بدعنوانیوں کے لیے حکومت چوکس
حیدرآباد۔ 9۔ مارچ (سیاست نیوز) ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے جلال الدین اکبر کے تبادلہ کے بعد کئی ایسے انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں جس میں چیف منسٹر کے دفتر کو بھی جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے حق میں حیدرآباد ایم پی اسد اویسی کے مکتوب کو سیاست میں سب سے پہلے منظر عام پر لایا جس کے بعد سرکاری حلقوں میں تبادلہ کی وجوہات کو لیکر کافی مباحث دیکھے جارہے ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے آفس میں روزنامہ سیاست میں شائع ہونے والی خبروں اور مختلف گوشوں سے ملنے والی نمائندگیوں کی بنیاد پر محکمہ اقلیتی بہبود کے تمام معاملات پر گہری نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بدعنوانیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کو روکا جاسکے۔ ایم جے اکبر کے تبادلہ کے خلاف سیاسی اور سماجی حلقوں میں جاری مخالفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سوشیل میڈیا پر حیدرآباد ایم پی کے مکتوب کے افشاء کو سیاست ویب سائیٹ پر 24 گھنٹے میں 2 لاکھ سے زائد افراد نے نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ کئی دردمند دل رکھنے والوں نے تبادلہ کی مذمت کی ہے۔ جس انداز میں ایم جے اکبر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت کو تبادلہ کیلئے مجبور کیا گیا، اس پر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کئی عہدیدار ایک سے زائد گاڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ ایم جے اکبر نے کبھی بھی اپنی مقررہ گاڑی سے ہٹ کر کوئی گاڑی استعمال نہیں کی۔ دیگر عہدیداروں کے گھر والوں اور بچوں کیلئے علحدہ علحدہ گاڑیاں استعمال کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے گاڑی کا استحقاق نہ رکھنے کے باوجود ایک ریٹائرڈ شخص کو گاڑی اور ڈرائیور فراہم کیا گیا۔ وہ اس لئے کہ مذکورہ شخص اعلیٰ عہدیداروں کی ضروریات کی تکمیل میں مہارت رکھتا ہے۔ ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو تمام اعلیٰ عہدداروں کے معاملات کی جانچ کرنی چاہئے کہ کون کتنی گاڑیاں اور کتنی زائد سہولتوں سے استفادہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ عہدیداروں اور ماتحت عہدیداروں کے اثاثہ جات کی جانچ کی جانی چاہئے تاکہ ایم جے اکبر کی دیانتداری اور دیگر عہدیداروں کی سرگرمیوں کا پردہ فاش ہوسکے۔ اعلیٰ عہدیداروں کی بے نامی جائیدادیں اہم مقامات پر موجود ہیں، حتیٰ کہ ایک بڑے کامپلکس میں اعلیٰ عہدیدار کی حصہ داری کی اطلاعات ملی ہیں۔ جس شخص نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی حیثیت سے ایک دن بھی چھٹی نہیں لی اور دفتری اخراجات اپنے جیب سے مکمل کئے، اس پر 40 لیٹر ڈیزل زائد استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا جو حقائق سے بعید ہے۔

سماج میں کرپشن کے خاتمہ اور اقلیتی اداروں میں دیانتدار عہدیداروں کے تقرر کی دہائی دینے والی مقامی سیاسی جماعت کے صدر نے چیف سکریٹری کو ایم جے اکبر کے خلاف الزامات پر مبنی مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ جس شخص کی تائید اور ایماء پر وہ مکتوب لکھ رہے ہیں، خود وہ ایک کروڑ روپئے سے زائد کے مبینہ گھٹالے میں ملوث ہے۔ ایم جے اکبر کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے ، اس پر چیف منسٹر کے دفتر کے عہدیدار بھی حیرت میں ہیں۔ واضح رہے کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے جس ریٹائرڈ عہدیدار کو دوبارہ بازمامور کرنے کیلئے مقامی جماعت نے چیف منسٹر سے نمائندگی کی ، انہیں حقیقی برتھ سرٹیفکٹ کے مطابق جنوری 2011 ء میں ہی وظیفہ پر سبکدوش ہونا تھا لیکن سرٹیفیکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے وہ مزید پانچ سال تک  اس عہدہ پر غیر مجاز طور پر فائز رہے

اور ان برسوں میں ایک اندازہ کے مطابق ایک کروڑ روپئے سے زائد تنخواہ اور دیگر الاؤنسیس حاصل کیا۔ فینانس کارپوریشن کے ریکارڈ کے مطابق یکم فروری 2011 ء تا 31 اکتوبر 2014 ء تک مذکورہ شخص نے تنخواہ اور دیگر الاؤنسس کے طور پر 53 لاکھ 32 ہزار 211 روپئے حاصل کئے تھے۔  سی بی سی آئی ڈی نے اس معاملہ کی تحقیقات کی اور عثمانیہ یونیورسٹی نے بھی سرٹیفکٹ میں الٹ پھیر کو تسلیم کیا۔ اس کے باوجود ایسے شخص کی تائید کرنا مقامی جماعت کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف مافیا کے حق میں مذکورہ شخص نے وقف بورڈ سے کئی ریکارڈ فراہم کئے تھے۔ شیخ محمد ا قبال اور ایم جے اکبر کے دور میں جن متولیوں اور قابضین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا، ان کے حق میں فینانس کارپوریشن کے اس ریٹائرڈ عہدیدار نے کام کیا اور بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم وقف ریکارڈ بھی وقف بورڈ سے غائب کئے گئے تاکہ متولیوں کو فائدہ ہو۔ اس شخص نے اپنے ایک رشتہ دار کو شہر کی ایک اہم درگاہ پر متولی مقرر کرنے کی کوشش کی لیکن شیخ محمد اقبال نے درخواست کو مسترد کردیا تھا، بعد میں سکریٹری اقلیتی بہبود کو استعمال کرتے ہوئے اس مقصد کی تکمیل کی گئی۔ جب ان کے ایک بھائی کے خلاف وقف بورڈ کا مقدمہ واپس لینے کی کوشش کی گئی تو ایم جے اکبر نے قواعد کے برخلاف کارروائی سے انکار کیا جس کے نتیجہ میں ان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا اور انہیں عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا۔ الغرض محکمہ اقلیتی بہبود میں ہر سطح پر ایم جے اکبر کے تبادلہ کی مخالفت کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT