Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ایم جے اکبر کے تبادلہ کے پس پردہ کون؟

ایم جے اکبر کے تبادلہ کے پس پردہ کون؟

چیف سکریٹری کو حیدرآباد ایم پی کا مکتوب، سکریٹری کومقامی جماعت کی سرپرستی بے نقاب
حیدرآباد۔ 7 ۔ مارچ (سیاست نیوز) ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ سے محمد  جلال الدین اکبر آئی ایف ایس کے اچانک تبادلہ کے پس پردہ محرکات کا سیاست نے جو انکشاف کیا تھا ، وہ درست پائے گئے۔ گزشتہ دیڑھ سال سے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ، عہدیدار مجاز وقف بورڈ ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور سروے کمشنر وقف جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں نمایاں رول ادا کرنے والے عہدیدار کے اچانک تبادلہ کے پس پردہ مقامی سیاسی جماعت ہے۔ روزنامہ سیاست کو حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد اویسی کا وہ مکتوب حاصل ہوچکا ہے ، جس میں انہوں نے ایم جے اکبر کی برطرفی اور ان کے خلاف کارروائی کی درخواست کی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ 27 فروری کو تحریر کیا گیا یہ مکتوب چیف سکریٹری گورنمنٹ آف تلنگانہ کے نام پر ہے اور 28 فروری کو اویسی برادران نے اتوار کے باوجود چیف منسٹر سے ملاقات کی تھی۔ چیف سکریٹری کے دفتر میں 29 فروری کو یہ مکتوب حوالے کرتے ہوئے اکنالیجمنٹ حاصل کیا گیا۔ بظاہر چیف منسٹر سے ملاقات کے موقع پر ایک علحدہ مکتوب میڈیا کے لئے جاری کیا گیا جس میں اقلیتوں سے متعلق مسائل کا ذکر ہے جبکہ ایم جے اکبر کے خلاف لکھے گئے مکتوب کو انتہائی راز میں رکھا گیا ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی تائید میں لکھے گئے اس مکتوب نے مقامی جماعت کی سکریٹری کو حاصل سرپرستی کو بے نقاب کردیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی حیثیت سے ایم جے اکبر نے اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے تھے، وہ مقامی جماعت کو ہرگز پسند نہیں تھے کیونکہ جن افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی وہ مقامی جماعت سے قریب ہے۔ ایم جے اکبر پر متولیوں اور غیر مجاز قابضین پر مشتمل وقف مافیا کے خلاف کارروائی کو روکنے کیلئے دباؤ بنایا گیا اور جب وہ اس دباؤ کا شکار نہیں ہوئے تو انہیں عہدیدار مجاز کی ذمہ داری سے سبکدوش کرایا گیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے ایم جے اکبر کے کارناموں کے معترف خود چیف منسٹر اور مقامی جماعت کے فلور لیڈر بھی ہیں ، جنہوں نے نیشنل اکیڈیمی آف کنسٹرکشن کی تقریب میں ایم جے اکبر کی ستائش کی تھی قواعد کے برخلاف فیصلوں اور من مانی طور پر بعض افراد کے حق میں احکامات کی اجرائی کے خلاف ایم جے اکبر نے آواز اٹھائی تھی۔ رکن پارلیمنٹ نے ایم جے اکبر کے خلاف جو مکتوب تحریر کیا ہے ، اس میں انتہائی معمولی باتوں کو بنیاد بنایا گیا۔ بجٹ کی عدم اجرائی اور اس کے عدم استعمال کے بارے میں عوام سے شکایت کی بات کہی گئی جبکہ اس کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سفر کیلئے ڈیزل حاصل کرنے کے مسئلہ کو اہم بدعنوانی کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ کسی بھی محکمہ میں عہدیدار زائد خرچ کی تکمیل اپنے متعلقہ کارپوریشن سے ہی کرتے ہیں۔ کارپوریشن سے اسٹاف اور ڈرائیور کو حاصل کرنے کی بھی شکایت کی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکتوب دراصل کارپوریشن میں تیار کیا گیا اور اس کے پس پردہ سکریٹری اور ان سے قربت رکھنے والا ریٹائرڈ عہدیدار شامل ہے ۔ صرف کارپوریشن سے متعلق معمولی امور کو بنیاد بناکر عہدہ سے برطرفی اور تحقیقات و کارروائی کا مطالبہ کرنا باعث حیرت ہے۔ اقلیتی بہبود کے اداروں اور مقامی جماعت کے من پسند عہدیداروں کی بدعنوانیاں کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ حج ہاؤز میں سیکوریٹی گارڈ سے لیکر ماتحت عہدیداروں تک ہر کوئی اس سے واقف ہے۔ ایم جے اکبر نے جب بے قاعدگیوں کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں نشانہ بنانے کیلئے اپنی سرپرست جماعت کا سہارا لیا گیا۔ ان سرگرمیوں کا اصل سرغنہ وہی شخص بتایا جاتاہے جو بقول اقلیتی بہبود ملازمین کے سکریٹری کا ’’ہم نوالہ اور ہم پیالہ‘‘ ہے اور وہ ریٹائرمنٹ کے باوجود تمام مراعات کے ساتھ عہدہ پر برقرار ہے۔ فینانس کارپوریشن سے صرف 40 لیٹر زائد ڈیزل کے استعمال پر برطرفی کا مطالبہ کرنے والے مسجد نانا باغ بشیر باغ کے کرایہ داروں سے 30 سال کے کرایہ کی معافی کے اسکینڈل اور 400 کروڑ مالیاتی اوقافی اراضی کے تحفظ پر خاموش ہیں۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کے مکتوب سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ دیانتدار اور اصول پسند افراد کے بجائے بدعنوان اور اشاروں پر کام کرنے والے عہدیدار ہی قیادت کو پسند ہیں تاکہ ان کے مفادات کی تکمیل ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT