Monday , December 11 2017
Home / سیاسیات / ایم پی اسمبلی میں اسد اویسی کے خلاف تحریک ملامت

ایم پی اسمبلی میں اسد اویسی کے خلاف تحریک ملامت

بھوپال۔/18مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ’’ بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کہنے سے انکار پر ایم آئی ایم لیڈر اسد الدین اویسی کے خلاف مدھیہ پردیش اسمبلی میں آج ایک کانگریس رکن کی پیش کردہ تحریک ملامت کو حکمران بی جے پی کی تائید پر اتفاق آراء سے منظور کرلیا گیا۔ کانگریس رکن اسمبلی جیتو پٹواری نے وقفہ صفر کے دوران ایک تحریک پیش کرتے ہوئے اسد اویسی کے موقف کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی پارٹی بنیاد پرستوں کے نظریات کے خلاف ہے۔ ریاستی وزیر اُمور مقننہ اور بی جے پی لیڈر نروتم مصرا نے آج پٹواری کی پیش کردہ تحریک ملامت کی تائید کی اور اویسی کی ہٹ دھرمی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دیڑھ سال کے دوران اس طرح کی قوم دشمن سرگرمیوں کا حد سے زیادہ مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں ہمیشہ رام۔ رحیم کا مساوی طور پر احترام کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر وزیر پنچایت گوپال بھارگوا نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن اسپیکر ستیا سرن شرما نے انہیں روک دیا۔ دریں اثناء پونے کے ایک سماجی کارکن ہیمنت پاٹل نے آج بامبئے ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست پیش کی۔’ بھارت ماتا کی جئے‘ کہنے سے انکار پر ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی اور رکن اسمبلی وارث پٹھان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ درخواست گذار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ اسد اویسی کی حالیہ تقاریر کی تحقیقات کروائی جائے جس میں بھارت ماتا کی مبینہ تضحیک کی گئی ہے کیونکہ ان کی اشتعال انگیز تقاریر سے قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے کیونکہ یہ تقاریر قانون عوامی نمائندگان اور دستور کے بنیادی اُصولوں کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں شیوسینا نے مجلس کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کے خلاف رسمی کارروائی کی بجائے ہمیشہ کے لئے اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردینے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT