Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / ایم پی پی ای بی اسکام : چیف منسٹر چوہان کانگریس کا نشانہ

ایم پی پی ای بی اسکام : چیف منسٹر چوہان کانگریس کا نشانہ

تحقیقاتی اداروں پر ثبوت مٹانے کا الزام ، ڈگ وجئے و دیگر قائدین کی پریس کانفرنس

تحقیقاتی اداروں پر ثبوت مٹانے کا الزام ، ڈگ وجئے و دیگر قائدین کی پریس کانفرنس

بھوپال ۔16 فبروری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام)کانگریس نے آج چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کو ایم پی پی ای بی اسکیم کے مسئلہ پر نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کمپیوٹر سے ضبط شدہ اصل ایکسل شیٹ میں تبدیلی کی گئی تاکہ انھیں اور ان کی فیملی کو بچایا جاسکے اور اُن کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ تاہم مدھیہ پردیش کے وزیرقانون اور اُمور مقننہ و پارلیمانی اُمور نروتم مشرا نے ان الزامات کو ’’بے بنیاد اور غیردرست‘‘ قرار دیا اور کہا کہ متواتر انتخابات میں لگاتار شکستوں سے دوچار ہونے کے بعد یہ چوہان کے امیج کو ’’بگاڑنے ‘‘ کی کوشش ہے ۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) جو مدھیہ پردیش پروفیشنل اگزامنیشن بورڈ (مختلف حکومتی عہدوں کیلئے بھرتی کا امتحان ) اسکام کی اسپیشل ٹاسک فورس کے ذریعہ تحقیقات کی نگرانی کررہی ہے ، اُسے اپنے الزامات کی تائید میں دستاویزات پیش کرنے کے بعد کانگریس قائدین نے دعویٰ کیا کہ اصل ایکسل شیٹ بگاڑ دی گئی ۔ سینئر کانگریس قائدین بشمول کانگریس جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ ، کمل ناتھ ، جیوتیر ادتیہ سندھیا ، سریش پچوری، صدر پی سی سی ارون یادو اور ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ستیہ دیو کٹارے نے جوائنٹ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ اس اسکام کی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے اور چوہان مستعفی ہوجائیں۔ ڈگ وجئے نے کہا : ’’میں نے حلفیہ طورپر حقیقی ایکسل شیٹ پیش کردی ہے جو حذف شدہ ڈاٹا سے حاصل کی گئی ، جو 131 سلسلہ وار نمبرات پر مشتمل ہے ۔ سی ایم کا تذکرہ 48 مقامات پر ہے ۔ تحقیقاتی اداروں نے اُلٹ پھیر کرتے ہوئے سی ایم کی جگہ 21 مقامات پر منسٹر بنادیا ، ایک مقام پر مسرز اور سات مقامات پر اوباما بھارتی جی تحریر کردیا گیا ہے ۔ مزید یہ کہ 18 جگہوں پر سی ایم کو بالکلیہ حذف کرتے ہوئے خالی جگہ چھوڑ دی گئی ‘‘۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس کے علاوہ اصل ایکسل شیٹ میں 17 جگہوں پر منسٹر 2، منسٹر 3 اور منسٹر 4 کے حوالے اسپانسر ؍ سفارش کار کی حیثیت سے کی گئی لیکن ان تمام جگہوں پر لفظ ’منسٹر‘ لکھ دیا گیا ۔ کانگریس قائدین کے ساتھ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کے ٹی ایس تلسی اور ویویک تنکھا بھی تھے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ یہ تمام الزامات قانونی صلاح مشورہ کے بعد عائد کررہے ہیں۔ تلسی نے ثبوتوں کے مبینہ بگاڑ کا تقابل امریکہ کے مشہور واٹر گیٹ کیس کے ساتھ کیا۔

TOPPOPULARRECENT