Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / این آر آئیز بھی جلد تحفظات کے خواہاں ‘ سیاست تحریک کی زبردست ستائش

این آر آئیز بھی جلد تحفظات کے خواہاں ‘ سیاست تحریک کی زبردست ستائش

بیرونی ممالک کے حالات بھی نا مساعد ‘ تحفظات واحد امید ۔ حکومت اپنے وعدہ کو پورا کرے ۔ سیاست میںمنعقدہ اجلاس سے جنا ب زاہد علی خاں کا خطاب

حیدرآباد 13 اکٹوبر (سیاست نیوز) تعلیم اور روزگار کے معاملہ میں دن بدن پسماندگی کا شکار تلنگانہ کا مسلمان ترقی سے بھی دور ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف تعلیمی مواقع اور دوسری طرف روزگار کے مواقع نہ ہونا نوجوان نسل کا مستقبل کو تاریکی میں جھونکتا جارہا ہے۔ لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی کے مصداق مسلم طبقہ دن بہ دن پسماندگی کا شکار ہوتا جارہا ہے اور اب خلیجی ممالک میں برسرکار نوجوان بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ خلیج میں نئے قوانین اور پالیسیاں بیرون ملک موجود افراد کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں اور اب ملک سے باہر روزگار مزید مشکل ہوتا جارہا ہے۔ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں بالخصوص حیدرآباد و تلنگانہ اضلاع سے وابستہ افراد کے حالات کا جائزہ لینے آج روزنامہ سیاست میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ بیرون ممالک سے موصولہ ای میلز اور خطوط کا جائزہ لیا گیا۔ بیرونی ممالک سے موصولہ پیامات میں 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کی زبردست ستائش کی گئی اور اس تحریک کو مضبوط کرنے اور کامیاب کرنے کی این آر آئیز نے تلنگانہ کے مسلمانوں سے درخواست کی۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست و سرپرست اعلیٰ 12 فیصد مسلم تحفظات تحریک کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تحریک کے روح رواں جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خاں مشیر اعلیٰ بھی موجود تھے۔ موجودہ حالات میں تحریک کی افادیت اور ضرورت پر غور و خوض کرتے ہوئے این آر آئیز کی فکر کی جناب زاہد علی خاں نے ستائش کی اور بی سی کمیشن کے ذریعہ 12 فیصد مسلم تحفظات کو فراہم کرنے کی مسلمانوں کی خواہش اور مطالبہ کو فوری پورا کرنے کی ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں نے کہاکہ آزادی ہند کے بعد 20 سال تک مسلمان بادشاہت کے نشہ میں تھے جب تک انھیں ہوش آیا تب تک مسلمان سب کچھ کھو بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہاکہ ٹھیک اس وقت مشرق وسطیٰ میں روزگار کے مواقع کے ذریعہ اللہ نے مسلمانوں کو بچالیا اور غریب مسلمان نے بھی چھوٹی رقم جمع کرتے ہوئے خلیجی ممالک جاکر اپنے گھر کی معاشی حالت کو سدھاکر لیا۔ لیکن اب عالمی سطح پر جو حالات تیار کئے جارہے ہیں جو منصوبہ و سازشیں بنائے جارہے ہیں ان سے غیر مقیم ہندوستانی بھی پریشان ہیں۔ ملک سے باہر جانا اور بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ ایسے میں اگر ریاستی حکومت تحفظات کے ذریعہ موقع فراہم کرتی ہے تو کئی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور سرکاری روزگار میں موقع فراہم ہوں گے اور کئی طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ کی شکل میں فائدہ ہوسکتا ہے اور روزگار کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ جو طلبا تعلیم سے فارغ ہوگئے ہیں انھیں کہیں سرکاری ملازمت اور سبسیڈی کے ذریعہ اسکیمات و ترقی بہبود کا فائدہ ہوسکتا ہے جو ہندوستان میں رہ کر انہی دور ملک کی ترقی میں رول ادا کرسکتے ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے کہاکہ این آر آئیز بالخصوص نوجوان نسل 12 فیصد تحفظات کو کافی اہمیت و قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ جو بچے والدین کا خوب ہوتے ہیں وہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ملک میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بیرون ملک روانہ کررہے ہیں۔ تاہم خلیج میں اب حالات مشکل ہوتے جارہے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ہندوستانیوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اندرون ملک بھی دیسی صنعت و قدرتی وسائل سے ملنے والے فائدے بھی ختم ہورہے ہیں۔ انھوں نے اضلاع کریم نگر اور کھمم کا تذکرہ کیا۔ ضلع کریم نگر میں دیہی سطح پر زندگی بسر کرنے والے مسلم خاندان بیڑی کے پیشہ پر روزی کا انحصار کرتے ہیں۔ مرد حضرات بیڑی جمع کرنا اور خواتین بیڑی تیار کرتی ہیں لیکن اب ایسے خاندان بھی پریشانی کا شکار ہیں۔ انھوں نے ریاست کے مسلمانوں کی حالت زار اور دن بہ دن بڑھتی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات انکی پسماندگی کی بنیاد پر بی سی کمیشن کے ذریعہ فراہم کرے۔ انھوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ بی سی کمیشن اور 12 فیصد تحفظات کے مطالبہ میں شدت پیدا کریں اور نمائندگیوں کے سلسلہ کو جاری رکھیں۔ انھوں نے کہاکہ سابق میں جو کوتاہیاں اور خطا ہوگئی اس کی سزا صدیوں تک بھگتنی پڑیگی ‘ تاہم اب اس روایت کو توڑ کر 12 فیصد تحفظات حاصل کرکے قوم کی ترقی میں رول ادا کرنا ہے اور آئندہ نسلوں کیلئے ترقی کی راہ ہموار کرنی ہے۔

TOPPOPULARRECENT