Monday , December 18 2017
Home / مضامین / این آر آئیز کا پیام، اہل وطن کے نام

این آر آئیز کا پیام، اہل وطن کے نام

 

کے این واصف
پیارے ہم وطنوں ، ہم خلیجی ممالک میں کام کرنے والے این آر آئیز دنیا کے دیگر ممالک میں آباد ہندوستانیوں سے الگ ہیں کیونکہ ہم کبھی ان ممالک کی شہریت حاصل نہیں کرسکتے ۔ ہم چاہیں کتنے ہی برس یہاں خدمات انجام دیں، ایک دن اپنے وطن لوٹتے ہی ہیں۔ ہم اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے ملک روانہ کرتے ہیں۔ وطن ہی میں جائیدادیں خریدتے ہیں۔ وطن ہی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں یا وطن ہی میں اپنے چھوٹے بڑے کاروبار قائم کرتے ہیں اور اس سب کا راست فائدہ وطن کے اقتصادی ڈھانچے کو پہنچتا ہے ۔ نیز ہم اپنے وطن سے جذباتی طورپر بہت زیادہ جڑے بھی رہتے ہیں یا یوں کہئے کہ ہم جسمانی طور پر یہاں رہتے ہیں مگر ہمارا ذہن و قلب وطن ہی میں رہتا ہے ۔ لمحہ لمحہ ہم اپنے ملک کے بارے میں سوچتے ہیںاور وطن کے لمحے لمحے کی خبر رکھتے ۔ ہماری وطن سے وابستگی کا یہ عالم ہے کہ ملک میں سرد ہوائیں چلیں تو یہاں ہمیں چھینکیں آتی ہے ۔

گوکہ ہم کئی کئی دہائیوں سے ملک سے باہر ہیں لیکن ملک میں بہار ہو کہ خزان ، راحت ہو کہ مصائب ، سکون ہو کہ ہنگامے دور رہ کر بھی ہم انہیں محسوس کرتے ہیں۔ وہاں کی خوشی میں خوش اور غم میں مغموم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمارے اپنے وہاں رہتے ہیں ۔ مسائل انسانی زندگی کا حصہ ہیں، اس سے کسی کورستگاری نہیں۔ وطن کے اجتماعی مسائل ، اپنے انفرادی مسائل، سماجی مسائل، خاندانی مسائل ہر مسئلہ سے ہم جڑے رہتے ہیں۔ ہم یہاں رہ کر بھی ان مسائل کے حل میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ چاہے وہ ملک میں انسانوں کے پیدا کردہ مسائل ہوں یا آفات سماوی ۔ مسائل پیدا ہوتے بھی اور ختم بھی ہوجاتے ہیں۔ مگر پچھلے تین سا ڑھے تین سال میں ملک میں جس قسم کے مسائل پیدا ہورہے ہیں یا پیدا کئے جارہے ہیں لگتا ہے یہ مسائل وقتی طور پر پیدا ہوکر ختم نہیں ہورہے ہیں بلکہ یہ مسائل ہماری سماجی زندگی کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف ہما رے لئے سوہانِ روح ہیں بلکہ ملک کی اقتصادی ، سماجی ، اخلاقی اور تہذیبی ڈھانچے کو کمزور کر رہے ہیں۔ اقتصادی اور سماجی سطح پر جس قسم کے حالات پیدا ہورہے ہیں یا قتل و غارت گری کا جو بازار گرم ہورہا ہے، نفرتوں کی جو وباء پھیلائی جارہی ہے وہ ملک کے امن پسند شہریوں کی زندگی میں ایک انجانے خوف کا احساس پیدا کر رہے ہیں اور ہم این آر آئیز میں بھی یہ انجانے خوف کا احساس گھر کر رہا ہے کیونکہ خود ہم وقفہ وقفہ سے وطن آتے ہیں، ہمارا سارا خاندان وہاں بستا ہے ، یا جب یہاں سے فارغ کردیئے جانے پر ہم دوبارہ وہیں سکونت اختیار کریں گے ۔ دوسری بات یہ کہ ہم خلیجی ممالک میں برسوں سے مقیم ہیں۔ یہاں کبھی کسی قسم کے خوف کا کوئی ماحول پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ یہاں بسے مقامی اور خارجی باشندے ایک پرامن زندگی بسر کرتے ہیں۔ اس کیلئے ہم این آر آئیز میں ملک میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ نوعیت کے ہنگاموں سے این آر آئیز میں خوف کا احساس کچھ زیادہ رہتا ہے ۔ لہہذا ہم اہل وطن کو ان مسائل کے حل کیلئے فوراً قدم اٹھانے پڑے ہے۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے لیکن ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا چوتھا ستون اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہورہا ہے۔ خصوصاً ہمارا الیکٹرانک میڈیا اور ان میں خصوصاً بڑے ٹی وی چیانلس جنہیں بڑے تجارتی گھرانوں نے خرید لیا ہے ، ان کے نئے مالکان ان چیانلس پر وہی کچھ دکھارہے ہیں جو ان کے دانی مفاد میں ہے ۔ یعنی ان کیلئے اب صحافت تجارتی لین دین ہوگئی ہے ۔ اب ٹی وی چیانلس کو عام آدمی یا عوامی مسائل ، صحافتی دیانتداری اور صحافتی اقدار سے کوئی مطلب نہیں۔ اس میں غلطی عوام کی بھی ہے کہ وہ اب بھی وہی چیانلس دیکھتے ہیں اوران کی TRP بڑھاتے ہیں جو صحافتی ذمہ داری کو نظر انداز کر کے صرف اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ ان کو ٹھیک کرنے کا یک ہی راستہ ہے کہ تمام امن پسند لوگ ، ملک میں جمہوری اقتدار کی بقاء چاہنے والے ، ملک کے ہر شہری کو مساوی حقوق دیئے جانے کے طرفدار ہوں ، ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کے خواہشمند ، لوگ ان بڑے تجارتی چیانلس کی سرپرستی بند کریں۔ ان چیانلس کو یکلخت دیکھنا بند کریں ۔ ان کی TRP گرادیں۔ تب ہی ان کے ذہن سے یہ خام خیالی دور ہوگی کہ وہ سرمایہ دار ہیں، بڑے چیانل کے مالک ہیں تو کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ انہیں بتایا جانا چاہئے کہ عوام کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے۔

دوستو ! صحافت کا کام نہ کسی کو بے جا تنقید کا نشانہ بنانا ہے نہ کسی کی چاپلوسی کرنا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔ برسوں قبل انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے مالک شری رامناتھ گوئنکا نے ایک انٹرویو میں بڑی اچھی بات کہی تھی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کانگریس کو شکست دے کر جنتا پارٹی اقتدار میں آئی تھی ۔ انٹرویو لینے والے نے ان سے سوال کیا تھاکہ جب تک کانگریس پا رٹی برسر اقتدار تھی ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ اس کی مخالفت کرتا تھا اور اب جنتا پارٹی کی مخالفت کرتا ہے تو گوئنکا نے کہا کہ اخبار کا کام نہ خوش آمدی کرنا ہے نہ بے جا تنقید ۔ انڈین ایکسپریس کی پالیسی Anty Establishment پالیسی ہے۔ ہمارا کام صرف برسر اقتدار پارٹی کو ان کی کمیوں اور کتاہیوں سے آگاہ کرنا ہے۔
جی ہاں ، ہر اخبار کو یہی پالیسی اپنانی چاہئے تاکہ حکومت کی کارکردگی پر صحافت کی نظر رہے۔ اگر ہمارے ملک میں صحافت پوری دیانتداری سے اس پالیسی پر قائم رہے تو کوئی حکومت یا ادارہ من مانی کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ اسی لئے تو صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔

دوستو ! اب ملک کی اکثریت ہمارے بڑے اور نام نہاد صحافیوں اور صحافتی اداروں سے مایوس اور ناامید ہوگئی ہے اور دوسری طرف ہماری قومی اور علاقائی سیاسی پارٹیوں نے بھی لگتا ہے پوری طرح ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ پچھلے تین سال میں عوام پر ایسے بیسیوں مسائل آئے جن پر اپوزیشن ملک گیر سطح پر ہنگامہ مچا سکتی تھی لیکن ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا یا پھر اگر اپوزیشن کوئی احتجاج کرتی بھی ہے تو ہمارا میڈیا اسے دبا دیتا ہے کیونکہ یہ بکے ہوئے چیانلس اپنے آقاؤں کو ناراض نہیں کرسکتے لیکن کچھ بھی ہو ہمیں اس طرح ہار نہیں ماننا ہے ۔ ہم وہ قوم ہیں جس نے ایمرجنسی کی ڈکٹیٹرشپ کو دھول چٹائی ، یہ ووٹ کی طاقت تھی جو آج بھی ہمارے پاس ہے ۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو عوام تک پہنچائیں ، اب جبکہ نام نہاد طاقتور میڈیا عوام اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہاہے ۔ سوائے این ڈی ٹی وی پر رویش کمار ہیں جو مستعدی کے ساتھ حق گوئی پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ جنتا کارپوریٹر کے نام سے بے باک صحافی ونود دوہا کی ’’جن گن من کی بات‘‘ اور وائر چیانل پر ونود دوہا کا گروپ حق گوئی سے کام لیتے ہوئے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو مسلسل بے نقاب کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ملک میں کئی بے باک صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جارہا ہے یا نڈر صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ۔ ان چھوٹے چھوٹے چیانلس پر یہ بے باک صحافی اپنا حق ادا کر رہے ہیں۔ ان چیانلس کو لوگ Subscribe نہیں کرتے ، معمولی طور پر بھی ان کی کوئی مالی مدد نہیں کرتے۔ یہ ہما ری بہت بڑی غلطی ہے۔ امن پسند اور جمہوریت کی بقاء میں دلچسپی رکھنے والے ان صحافیوں کی مدد کریں تاکہ یہ چھوٹے چیانلس جو اپنے چھوٹے وسائل میں بھی عوام کی ذہنی تربیت کر رہے ہیں، انہیں حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہیں جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق بتارہے ہیں۔ یہ لوگ بے باکی سے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہم اگر خود بول نہیں سکتے تو کم از کم نڈر بولنے والوں کو سنیں تو سہی۔ ان کی مالی مدد کریں تاکہ وہ اپنے چیانلس کو چلاسکیں۔ اس کے علاوہ Not in My Name کے نام سے جو مہم چلائی جارہی ہے ، اس کو بڑے پیمانے پر عوامی تعاون حاصل ہونا چاہئے ۔ 1789 ء میں فرانس کے آرٹسٹوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعہ انقلاب برپا کیا تھا ۔ ہمارے ملک میں آرٹسٹوں کی کمی نہیں۔ ملک کے امن پسند اور جمہوری نظام حکومت اور سماجی انصاف و مساوات میں یقین رکھنے والے آرٹسٹ ، ادیب ، شاعر ، اداکار، موسیقار ، گلوکار وغیرہ Not in My Name کے پروگرامس یا ایسی نوعیت کے دیگر پروگرامس تربیت دیں اور عوام کو حقیقت سے واقف کرائیں ۔ کارنر میٹنگس کا اہتمام کریں ، نکڑ Plays پیش کریں ، سوشیل میڈیا سے بھر پور استفادہ کریں۔ مگر سوشیل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ ، پھکڑ اور اوچھے قسم کے میل سوشیل میڈیا پر پھیلاکر اپنے آپ مشکل میں نہ ڈالیں مگر سوشیل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ ، پھکڑ اور اوچھے قسم کے میل سوشیل میڈیا پر پھیلاکر اپنے آپ کو مشکل میں نہ ڈالیں مگر سوشیل میڈیا ایک بڑی طاقت ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ صحت مند قسم کی تنقیدیں ، کارٹونس چھوٹی چھوٹی Documenteries وغیرہ شیر کریں کیونکہ آپ کی خاموشی نفرت کی پھیلائی گئی آگ پر تیل کا کام کرے گی ۔ ہمیں چاہئے کہ ملک گیر سطح پر ایک خاموش لہر چلائی جائے ۔ بکے ہوئے بڑے چیانلس کو یکلخت نظر انداز کریں۔ عوام تک یہ پیام پہنچادیں کہ ’’اب کی بار فلاں کی سرکار ، اب کی بار سچی سرکار ، اب کی بار قومی یکجہتی میں یقین رکھنے والی سرکار ، اب کی بار مساوات پسند سرکار ، اب کی بار حب الوطن سرکار ، اب کی بار ملک کی سالمیت میں یقین رکھنے والی سرکار۔

TOPPOPULARRECENT