Wednesday , December 13 2017
Home / سیاسیات / این ایس سی این (کے) پر پانچ سال کیلئے امتناع عائد

این ایس سی این (کے) پر پانچ سال کیلئے امتناع عائد

ناگالینڈ کی تخریب کار تنظیم کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کابینہ کا فیصلہ ، روی شنکر پرساد کا بیان
نئی دہلی ۔ 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے ساتھ طئے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے ناگالینڈ کے باغی گروپ این ایس سی این (کے) پر 5 سال کے لئے امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ اس تقریب کار گروپ کی جانب سے وقفہ وقفہ سے کئی حملے کئے جارہے تھے۔ ایسے ہی ایک حملے میں جون کے دوران منی پور میں 18 سپاہی ہلاک ہوگئے تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ مرکزی کابینہ کے اجلاس میں اس انتہاء پسند گروپ کے خلاف امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیرمواصلات روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’’این ایس سی این (کے) کئی دھماکوں، گھات لگا کر کئے جانے والے حملوں اور بمباری کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس گروپ کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر 5 سال کیلئے امتناع عائد کردیا گیا ہے‘‘۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس گروپ کی حالیہ سرگرمیوں پر تفصیلی غوروخوض اور تبادلہ خیال کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ میانمار کی ایک تحریک ایس ایس کھپلانگ کی قیادت میں سرگرم اس گروپ نے مارچ کے دوران جنگ بندی سمجھوتے ہوئے ترک کردیا تھا اور کئی ممنوعہ انتہاء پسند تنظیموں کے ساتھ اتحاد کیا تھا، جن میں پریش بروا کے زیرقیادت اُلفا بھی شامل ہے۔ انہوں نے مئی کے دوران یونائیٹیڈ لبریشن فرنٹ برائے جنوب مشرقی ایشیاء قائم کیا تھا۔ 4 جون کو منی پور میں گھات لگا کر کئے جانے والے حملے میں 18 ہندوستانی سپاہیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے کھپلانگ کا پتہ بتانے والوں کیلئے 7 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کئے جانے کے بعد یہ امتناع عائد کیا گیا ہے۔

سمجھا جاتا ہیکہ کھپلانگ میانمار کے سرحدی ٹاؤن ٹاگا میں روپوش ہے۔ اس کے ایک نائب نکی سومی کے سر پر 10 لاکھ روپئے کا انعام مقررکیا گیا ہے۔ این ایس سی این (کے) سے 1000 انتہاء پسند وابستہ ہیں جو سرحدی علاقوں میں قائم کیمپوں میں مقیم ہیں۔ چند باغیوں پر 9 جون کو ہندوستانی فوجی کمانڈوز نے حملہ کیا تھا۔ واضح رہیکہ این ایس سی این (آئی ایم) نے 3 اگست کو حکومت کے ساتھ امن سمجھوتہ کیا تھا تاکہ گذشتہ 60 سال سے جاری مسلح جدوجہد کو ختم کیا جاسکے۔ یہ تنظیم اپنی حریف این ایس سی این (کے) پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کررہی تھی۔ ان دونوں تنظیموں کے درمیان ایک طویل عرصہ سے تصادم جاری ہے۔ ناگا سیول سوسائٹی کا ایک وفد حکومت کی اجازت سے پہلے ہی میانمار روانہ ہوچکا ہے جہاں کھپلانگ کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’’اجلاس میں تفصیلی غوروبحث کے بعد ثبوتوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔ مرکزی معتمد داخلہ راجیو مہرشی نے کہا کہ این ایس سی این (کے) کو ایک طویل قانونی عمل اور تفصیلی غوروبحث کے بعد ممنوعہ تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ روی شنکر پرساد نے کہا کہ این ڈی اے حکومت، شمال مشرقی ہند میں سرگرم تمام تخریب کار گروپوں کے ساتھ بات چیت کی خواہشمند ہے اور یہ بات چیت ماضی میں اٹل بہاری واجپائی حکومت کی جانب سے معلنہ پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔ ذرائع نے کہا کہ این ایس سی این (کے) کو غیرقانونی تنظیم قرار دیئے جانے کے مسئلہ پر کابینہ میں حکومت میں اختلافات پائے گئے۔ وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار اس تنظیم پر امتناع کیلئے اصرار کررہے تھے جبکہ حکومت کی طرف سے ناگا امن بات چیت کیلئے مقرر کردہ ایلچی آر این روی نے اس گروپ کے ساتھ بات چیت کے دوبارہ آغاز کی تائید کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT