Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / این سی پی کی تائید حاصل کرنے پر بی جے پی کی مذمت

این سی پی کی تائید حاصل کرنے پر بی جے پی کی مذمت

ممبئی 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت کے خط اعتماد حاصل کرنے سے پہلے اِس پر ایک اور تیر چلاتے ہوئے شیوسینا نے اپنی سابق حلیف پارٹی کو انتباہ دیا کہ اگر وہ عوام کے دیئے ہوئے اختیارات کا عدم احترام کرتے ہوئے این سی پی کی تائید حاصل کرے تو وہ ریاست کے خزانے کو ایک چوہے کی طرح کھا جائے گی۔ مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر

ممبئی 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت کے خط اعتماد حاصل کرنے سے پہلے اِس پر ایک اور تیر چلاتے ہوئے شیوسینا نے اپنی سابق حلیف پارٹی کو انتباہ دیا کہ اگر وہ عوام کے دیئے ہوئے اختیارات کا عدم احترام کرتے ہوئے این سی پی کی تائید حاصل کرے تو وہ ریاست کے خزانے کو ایک چوہے کی طرح کھا جائے گی۔ مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فرنویس نے کبھی کہا تھا کہ وہ حکومت عوام کے لئے چلانا چاہتے ہیں لیکن اُنھوں نے حکومت ایک ایسی پارٹی کی تائید حاصل کرکے چلانے کا فیصلہ کیا ہے جو ریاست کے خزانے کو ایک چوہے کی طرح کھا جاتی ہے۔ کیا آپ ایک چوہے کی فرضی تائید حاصل کرنا چاہیں گے۔ اپنے ترجمان ’سامنا‘ کے ایک اداریہ میں شیوسینا نے اپنی سابق حلیف پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی، شیوسینا کی تائید حاصل کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ تحریک اعتماد پر رائے دہی کے دوران اپنی عزت بچاسکے۔ لیکن وہ شیوسینا کے ریاستی حکومت میں کردار کے بارے میں مذاکرات میں پیش رفت نہیں چاہتی۔ بی جے پی ہم سے خواہش کرتی ہے کہ یکساں نظریات اور اُصولوں کی بنیاد پر تائید فراہم کی جائے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ نظریات اور اُصول جو این سی پی کے ہیں صرف مہاراشٹرا کو لوٹنے کیلئے ہیں۔ لیکن آپ کو اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ غیر مشروط تائید حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ شیوسینا نے بی جے پی سے سوال کیاکہ اب کون کس کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔ یہ ایک عجیب منظر ہے جہاں وسیع ترین اختیارات حاصل کرنے والی پارٹی ایک ایسی پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا رہی ہے جس کا مظاہرہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں انتہائی ناقص رہا ہے۔ این سی پی کو چوتھے موقف میں اِس بار کیوں ڈھکیل دیا گیا۔ اس کے اصولوں کا بی جے پی کی باتوں سے کیا تعلق ہے۔ جبکہ این سی پی کو عوام نے چوتھے مقام پر پہونچادیا ہے۔ حکومت کو بچانا بی جے پی کی واحد ترجیح ہے۔ اس کے لئے وہ مجلس اتحاد المسلمین کی تائید حاصل کرنے پر بھی تیار ہوسکتی ہے جو عوام کے ذہنوں میں زہر گھول رہی ہے۔ دریں اثناء بی جے پی قائد جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہاکہ پارٹی کسی بھی سیاسی پارٹی سے مشروط تائید حاصل نہیں کرے گی جبکہ تحریک اعتماد پر ریاستی اسمبلی میں آج رائے دہی مقرر ہے۔ قبل ازیں شیوسینا کے قائد رام داس کدم نے کہا تھا کہ پارٹی چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس کے خلاف رائے دے گی جو آج ریاستی اسمبلی میں خط اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسمبلی کا جاریہ اجلاس فرنویس کے لئے انتہائی اہم ہے کیونکہ حکومت کو باہر سے فراہم کی جانے والی تائید واضح نہیں ہے۔ بی جے پی کی سابقہ حلیف شیوسینا وقفہ وقفہ سے اپنا موقف تبدیل کررہی ہے۔ فی الحال بی جے پی کو مہاراشٹرا اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لئے 22 ارکان کی کمی ہے۔ اس کے 288 رکنی اسمبلی میں 122 ارکان ہیں۔ شیوسینا کے 63 اور این سی پی کے 41 ارکان ہیں۔ این سی پی نے بی جے پی حکومت کو غیر مشروط بیرونی تائید فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ شیوسینا نے این سی پی کی تائید حاصل کرنے پر اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT