Friday , October 19 2018
Home / شہر کی خبریں / این نرسمہاریڈی کیخلاف مقدمہ درج کرنے اسٹیٹ الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ

این نرسمہاریڈی کیخلاف مقدمہ درج کرنے اسٹیٹ الیکٹورل آفیسر سے مطالبہ

کارگزار صدر تلنگانہ پی سی سی ریونت ریڈی کی رجت کمار اور امراپالی سے ملاقات
حیدرآباد ۔13 اکٹوبر (سیاست نیوز) کارگزار صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر اے ریونت ریڈی نے ان کے تعلق سے سینئر قائد تلنگانہ راشٹرا سمیتی مسٹر این نرسمہاریڈی کے کئے گئے ریمارکس کے خلاف فی الفور کیسیس درج کرنے کا ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر سے پرزور مطالبہ کیا۔ مسٹر ریونت ریڈی جنہوں نے آج ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر مسٹر رجت کمار اور جوائنٹ چیف الکٹورل آفیسر شریمتی امراپالی سے ملاقات کرکے مسٹر این نرسمہاریڈی کے خلاف ایک یادداشت پیش کرکے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ریونت ریڈی نے بتایا کہ صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی نگرانکار چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے انہیں 10 کروڑ روپئے دینے کا پیشکش کرنے سے متعلق مسٹر این نرسمہاریڈی کے کئے ہوئے ریمارکس کے خلاف اسٹیٹ چیف الیکٹورل آفیسر سے شکایت کی گئی اور اس بات کی خواہش کی کہ مسٹر نرسمہاریڈی کے ریمارکس کا ازخود سخت نوٹ لیتے ہوئے کیس درج کروائیں یا ان کی شکایت کی روشنی میں سہی مسٹر نرسمہاریڈی کے خلاف کیس درج کروایا جانا چاہئے۔ علاوہ ازیں مسٹر این نرسمہاریڈی کا بیان قلمبند کرکے صدر تلنگانہ راشٹرا سمیتی و نگرانکار چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی خواہش کرنے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ریاست تلنگانہ مسٹر مہیندر ریڈی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے (مہیندر ریڈی نے) گذشتہ عرصہ میں ٹی آر ایس کی ناگارجنا ساگر میں منعقدہ ٹریننگ کلاسیس میں شرکت کرچکے ہیں جس کے پیش نظر ان کی نگرانی میں ریاست میں غیرجانبدارانہ انداز میں انتحابات منعقد ہونے کا انہیں ہرگز بھروسہ و اعتماد نہیں ہے۔ علاوہ ازیں مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے انہیں (ریونت ریڈی کو) دھمکی دی ہے اور ٹی آر ایس کے مختلف قائدین بھی انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ لہٰذا اب ان حالات میں ریاستی پولیس کے حفاظتی دستوں کے تعلق سے بھی انہیں بھروسہ نہیں ہے جس کے پیش نظر انہیں مرکزی سیکوریٹی فورسیس کے ذریعہ سیکوریٹی فراہم کرنے کا چیف الیکٹورل آفیسر ریاست تلنگانہ سے پرزور مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT