Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / این ڈی اے حکومت سے تلگودیشم علیحدہ، بی جے پی سے دوستی ختم

این ڈی اے حکومت سے تلگودیشم علیحدہ، بی جے پی سے دوستی ختم

آندھرا پردیش کو خصوصی موقف نہ دینے پر چندرا بابو نائیڈو برہم، آج پارٹی کے 2 مرکزی وزراء کا استعفی

حیدرآباد۔/7 مارچ، ( سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی نے آج کہا کہ اس کے وزراء مرکز کی این ڈی اے حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے اور اپنے استعفے پیش کردیں گے۔ آندھرا پردیش کیلئے خصوصی زمرہ کا موقف حاصل کرنے تلگودیشم کی کوشش میں ناکامی کے بعد چندرا بابونائیڈو نے مرکز پر برہمی ظاہر کی۔ یہ فیصلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور تلگودیشم کے درمیان بڑھتے تعطل کے باعث کیا گیا ہے۔ این ڈی اے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے تلگودیشم صدر نے اپنے پارٹی قائدین کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے وزیر فینانس ارون جیٹلی کے موقف پر بھی تنقید کی۔ فنڈز کی اجرائی سے متعلق ارون جیٹلی کا بیان کسی صورت میں درست نہیں ہے۔ مرکز کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز کا تلگودیشم حکومت نے حساب کتاب نہیں دیا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہاکہ ان کی پارٹی کے تقریباً 95 فیصد ارکان اسمبلی، ارکان کونسل، ارکان پارلیمنٹ بی جے پی کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز، آندھرا پردیش کے عوام کے جذبات کی توہین کررہا ہے۔ انہوں نے آندھرا پردیش کی تقسیم کے موقع پر کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے مزید دباؤ ڈالنے پر زور دیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ مودی حکومت میں شامل تلگودیشم کے 2 وزراء کل استعفی کا اعلان کریں گے۔ وزیر ہوا بازی اشوک گجپتی راجو اور مملکتی وزیر سائنس و ٹکنالوجی وائی ایس چودھری کل اپنے استعفے پیش کریں گے۔ اس اعلان سے قبل تلگودیشم قائدین نے کہا کہ بی جے پی انہیں اس موقف کیلئے مجبور کیا ہے اسی لئے پارٹی نے حکومت سے علیحدہ ہونے کا تلخ فیصلہ کیا ہے۔ دہلی میں تلگودیشم رکن پارلیمنٹ ٹی جی وینکٹیش نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو ہی حکومت سے علحدہ ہونے یا برقرار رہنے کا قطعی فیصلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ بجٹ سیشن کے اختتام سے قبل یا بعد ہوگا۔ تلگودیشم سے وابستہ سیاستدانوں نے کہا کہ پارٹی نے کئی بار مرکز کو موقع دیا تھا اور این ڈی اے سے علحدگی کا فیصلہ موخر کیا جاتا رہا لیکن مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ اب مرکز سے علحدگی کا وقت آچکا ہے۔ لوک سبھا میں تلگودیشم کے 16 ارکان اور راجیہ سبھا میں 6 ارکان ہیں۔نائیڈو کی حکومت میں بی جے پی کے دو وزراء ہیں ان میں وزیر صحت کامنینی سرینواس اور وزیر انڈومنٹس پی منیکلا راؤ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان دونوں وزراء نے بھی تلگودیشم سے استعفے دے دیئے ہیں۔بی جے پی کے ان قائدین نے کہا کہ دہلی میں پارٹی کی قیادت سے ہدایت ملنے کے چند منٹوں میں ہی علحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT