Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / این ڈی اے دور اقتدار میں اقلیتیں بدترین خدشات کا شکار

این ڈی اے دور اقتدار میں اقلیتیں بدترین خدشات کا شکار

علیگڑھ 4 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) معروف ماہر قانون و وائس چانسلر نلساریونیورسٹی آف لا حیدرآباد فیضان مصطفی نے مرکز میں جاریہ سال کے اوائل میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے

علیگڑھ 4 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) معروف ماہر قانون و وائس چانسلر نلساریونیورسٹی آف لا حیدرآباد فیضان مصطفی نے مرکز میں جاریہ سال کے اوائل میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کے مرکز میں اقتدار پر آنے کے بعد سے اقلیتوں کے بدترین خدشات درست ثابت ہونے لگے ہیں۔ پروفیسر فیضان مصطفی علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے محکمہ کامرس کی جانب سے منعقدہ ایک قومی سمینار میں ’’ ہندوستان میں اقلیتوں کی اجتماعی ترقی ‘‘ کے عنوان پر لیکچر دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی قوم سینئر آر ایس ایس قائدین کے بیانات میں ظاہر ہونے والے رجحانات کو نظر انداز نہیں کرسکتی اور اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جو لوگ اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں انہیں وزارتی عہدوں کے انعام دئے جا رہے ہیں اور انتہائی تشویشناک انداز میں تعلیم کو زعفرانی رنگ دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق اکثریتی برادری کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ کسی طرح کا رحم یا رعایت نہیں ہیں۔ ان حقوق کی دستوری وجوہات ہیں۔ یہ حقوق قومی مفاد میں ہیں اور یہ دستوری ضمانتوں پر مشتمل ہیں۔

ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی جانب سے ایک جمہوری ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی مدافعت کی یاد دہانی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ظاہر کردیا ہے کہ کسی بھی ملک میں اس وقت تک مستحکم توازن پیدا نہیں ہوسکتا جب تک اقلیتوں کو کچلنے کی کوششیں کی جائیں یا انہیں اکثریت کے طریقہ کی توثیق کیلئے مجبور کیا جائے ۔ انہوں نے بی جے پی سے کہا کہ وہ اقلیتوں کے تعلق سے خود اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور ساری دنیا کو بتادے کہ وہ کثرت میں یقین رکھتی ہے ۔ انہوں نے مرکزی وزیر اقلیتی امور نجمہ ہپتہ اللہ پرتنقید کی اور کہا کہ انہوں نے وزیر بننے کے بعد ہندوستان میں اقلیت کی اصطلاح پر ہی غیر ضروری بحث شروع کردی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کسی ایسے گروپ کو جملہ آبادی کا صرف 15 فیصد ہو اقلیتی حقوق کے تحت تحفظ نہیں دیا جاسکتا ؟ ۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمیشہ کہا ہے کہ اقلیتوں کو آبادی کے اعتبار سے شمار کیا جاتا ہے اور اس اصول میں کسی طرح کا انحراف نہیں ہوسکتا ۔ سمینار کے افتتاحی پروگرام کے مہمان خصوصی سکریٹری وزارت اقلیتی امور اروند میارام نے این ڈی اے حکومت کی پالیسیوں کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی اور پروگرامدونوں ہی اعتبار سے حکومت کی ساری توجہ ہمہ جہتی ترقی پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے نمٹتے ہوئے اجتماعی ترقی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے ۔ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے ملک کے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کی بہتری کیلئے کئی خصوصی پروگرامس چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش یہی ہے کہ اقلیتوں کو قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے جس سے انہیں ہندوستانی معیشت میں ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT