Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / این ڈی اے دور حکومت میں فرقہ پرستی اور بدعنوانیاں عروج پر

این ڈی اے دور حکومت میں فرقہ پرستی اور بدعنوانیاں عروج پر

نریندر مودی قیادت کے خلاف آواز اٹھانے کانگریس کارکنوں کو مشورہ: وی ہنمنت راؤ
حیدرآباد /15 اگست (سیاست نیوز) سکریٹری اے آئی سی سی و رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے این ڈی اے دور حکومت میں فرقہ پرستی اور بدعنوانیاں عروج پر پہنچنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز اٹھانے کانگریس کارکنوں کو مشورہ دیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نریندر مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے بعد فرقہ پرست تنظیموں اور ہندوتوا طاقتوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور وہ منظم طریقہ سے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے سنہرے اوراق کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نصاب تیار کرنے والے اداروں اور یونیورسٹیز میں فرقہ پرست ذہنیت کے حامل افراد کا تقرر کیا جا رہا ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی وزیر سشما سوراج اور چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے سندھیا نے ملک کے لٹیرے للت مودی کی تائید کی ہے، جس کے خلاف کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتجاج کیا۔ ساتھ ہی ویاپم اسکام میں ملوث چیف منسٹر مدھیہ پردیش کی بدعنوانیوں کو بھی منظر عام پر لاتے ہوئے تینوں سے استعفوں کا مطالبہ کیا، تاہم بدعنوانیوں کے خاتمہ کا وعدہ کرکے اقتدار حاصل کرنے والے نریندر مودی نے بدعنوانیوں میں ملوث قائدین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انھوں نے تلنگانہ کانگریس قائدین اور کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی قائدین اور این ڈی اے حکومت کی بدعنوانیوں اور بی جے پی کی جانب سے پردہ پوشی کے خلاف شروع کردہ مہم کا منہ توڑ جواب دیں۔ انھوں نے کہا کہ مذہب اور طبقہ کے نام پر سیاست کرکے بی جے پی عوام کو تقسیم اور امن و امان کے لئے خطرہ پیدا کر رہی ہے، جس کے خلاف کانگریس کیڈر کو آواز بلند کرنا چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے اپیل کرچکے ہیں کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے لئے تحریک شروع کریں، کیونکہ بی جے پی اور تلگودیشم نے آندھرا پردیش کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT