Thursday , December 14 2017
Home / سیاسیات / این ڈی اے میں پوشیدہ ناراضگی ، ایل جے پی بظاہر صلح پر آمادہ

این ڈی اے میں پوشیدہ ناراضگی ، ایل جے پی بظاہر صلح پر آمادہ

’’آگ کے بغیر دھواں نہیں اُٹھتا‘‘چراغ پاسوان کا بیان، مانجھی اور کشواہا کو زیادہ نشستوں کی شکایت

نئی دہلی 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی انتخابات کے لئے نشستوں کی تقسیم کے فارمولہ پر این ڈی اے کے حلیفوں ایچ اے ایم اور آر ایل ایس پی کے ساتھ ’’بہتر رویہ‘‘ اختیار کرنے پر اظہار ناراضگی کے بعد ایل جے پی نے آج صلح کا اظہار کردیا۔ قبل ازیں بی جے پی قائدین سے سلسلہ وار کئی ملاقاتیں کی گئیں جن میں کہا گیا تھا کہ ’’آگ کے بغیر دھواں نہیں اُٹھتا‘‘ لیکن نشستوں کی تقسیم کے تنازعہ کی خوشگوار یکسوئی کے دعوے کا لحاظ کئے بغیر رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی میں اِس کو 40 نشستیں دینے پر ناراضگی کی لہر ہنوز پائی جاتی ہے۔ ایل جے پی کے ذرائع نے کہاکہ پارٹی میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ سابق چیف منسٹر جتن رام مانجھی اور مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کی پارٹیوں کے ساتھ ’’بہتر رویہ‘‘ اختیار کیا گیا ہے اور ریاست میں اُن کے سیاسی اثر و رسوخ کی بہ نسبت اُنھیں زیادہ نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے کل نشستوں کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ 243 رکنی بہار اسمبلی میں سے 40 نشستیں ایل جے پی، 23 آر ایل ایس پی اور 20 ایچ اے ایم کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ صدرنشین ایل جے پی پارلیمانی بورڈ چراغ پاسوان نے جو لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کے فرزند ہیں کہاکہ ہماری پارٹی میں کوئی غصہ نہیں ہے تاہم نشستوں کی تقسیم کے فارمولہ پر اختلافات کی وجہ سے بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ ہمیں قبل ازیں جو کچھ کہا گیا تھا اور کل جو اعلان کیا گیا اُس پر ہم صدمہ سے دوچار ہیں۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ آگ کے بغیر دھواں نہیں اُٹھتا۔ اُنھوں نے کل رات دیر گئے قومی صدر بی جے پی امیت شاہ سے ملاقات کرکے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ مخلوط اتحاد کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں تاہم ہم کوشش کریں گے کہ ایل جے پی کے اندیشوں کو ممکنہ حد تک دور کیا جاسکے۔ بی جے پی کے صدر سے ایل جے پی نے اپیل کی ہے کہ ہم خوش ہیں کہ ہمارے اندیشوں کو اہمیت دی گئی اور ہم تنازعہ کی یکسوئی کی سمت پیشرفت کررہے ہیں۔ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کو بھی آج صبح صدر ایل جے پی نے طلب کیا تھا جنھوں نے اختلافات جاری رہنے کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ پاسوان کے مشوروں کا این ڈی اے ضروری احترام کرتا ہے۔

رام ولاس پاسوان ایک بلند قامت قائد ہیں۔ این ڈی اے کی تمام حلیف پارٹیوں کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ طور پر جدوجہد کرتے ہوئے بہار اسمبلی انتخابات میں برسر اقتدار اتحاد کو کامیابی دلوانے کی کوشش کریں گے۔  نشستوں کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

چراغ پاسوان نے کہاکہ ایل جے پی پہلے برہم تھی کیوں کہ اُس کی خواہش تھی کہ زیادہ نشستیں حاصل کی جائیں تاہم رام ولاس پاسوان نے اِس مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا اور کہاکہ وضاحت پیش کرنا اِن کے فرزند چراغ پاسوان کی ذمہ داری ہے۔ اُنھوں نے اس سوال پر کہ کیا ایل جے پی کے چند امیدوار بی جے پی کے ٹکٹوں پر مقابلہ میں کھڑے کئے جائیں گے جیسا کہ مانجھی کے ساتھ کیا گیا تھا، اُنھوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس سوال پر کہ کیا ایل جے پی کو قبل ازوقت نشستوں کی تعداد کی اطلاع دے دی گئی تھی، اُنھوں نے کہاکہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ ایل جے پی کے ذرائع کے بموجب ایچ اے ایم کی این ڈی اے میں شمولیت سے پہلے بی جے پی کی تجویز تھی کہ وہ 75 فیصد نشستوں کے لئے مقابلہ کرے گی اور باقی نشستیں ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کیلئے چھوڑ دی جائیں گی۔ ہر لوک سبھا حلقہ سے ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو 6 نشستیں دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔ ایل جے پی نے 7 لوک سبھا نشستوں کے لئے مقابلہ کیا تھا چنانچہ اِسے 42 اور آر ایل ایس پی کو 18 نشستیں ملنی چاہئے تھیں۔ بہار کے سابق صدر ایل جے پی نریندر سنگھ ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT