Tuesday , December 11 2018

این ڈی اے کی ’’مزدور دشمن ‘‘پالیسی کیخلاف جدوجہد کی اپیل

سی آئی ٹی یو کشمیر کے زیراہتمام اجلاس میں تریگامی کا خطاب ، دیگر قائدین کی تقاریر
جموں ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ایم کے سینئر قائد ایم وائی تریگامی نے آج مرکزی حکومت کی ’’مزدور دشمن‘‘ پالیسیوں پر حملہ کرنے کیلئے متحدہ جدوجہد کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سماج کا ہر طبقہ مزدور دشمن معاشی پالیسیوں کا بوجھ برداشت کررہا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت قوانین محنت وضع کررہی ہے جو مکمل طور پر کارپوریٹ حامی اور مزدور دشمن نوعیت کے ہیں اور ان کے نتیجہ میں یقینا مزدور طبقہ کے سماجی صیانت کے فوائد سے وہ محروم ہوجائیں گے۔ اس جارحانہ اقدام کے نتیجہ میں کارکنوں کے حالات ملازمت منفی طور پر متاثر ہوں گے۔ تریگامی نے دو روزہ ریاستی کمیٹی کے اجلاس میں جو سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر شاخ کے زیراہتمام منعقد کیا گیا تھا، خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اجلاس کا اختتام مزدور طبقہ کی بی جے پی زیرقیادت حکومت کے دوران حالت زار پر مباحث کے بعد اختتام ہوا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہر تحصیل اور ضلع کی سطح پر اس قسم کی کانفرنسیں اور سمینار منعقد کئے جائیں گے تاکہ عوام دشمن سرکاری پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں پیشرفت ہوسکے۔ تریگامی صدر ریاستی سی آئی ٹی یو بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18ء کے درمیان جو دولت حاصل کی گئی، ان کا ایک فیصد فائدہ بھی عام آبادی تک نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ثمرات سماج کے وسیع تر طبقات تک نہیں پہنچ سکے۔ فروغ ہمیشہ ضروری ہوتا ہے اور اگر اس کے ثمرات سماج کے وسیع تر طبقات تک نہ پہنچ سکیں تو یہ فروغ لاحاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماج کا ہر طبقہ نوفراخدل معاشی پالیسیوں کا بوجھ برداشت کررہا ہے اور کاشتکاروں کی خودکشیوں کے واقعات حکومت کے دعوؤں کے باوجود بڑھتے جارہے ہیں۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہیکہ کاشتکاروں کو مدد فراہم کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ سی آئی ٹی یو کو مختلف ٹریڈ یونینس کو مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف متحدہ جدوجہد کی قیادت کرنی چاہئے۔ یہ پالیسیاں مرکزی حکومت کی جانب سے وضع کی جارہی ہیں۔ قومی سکریٹری سی آئی ٹی یو کشمیر سنگھ ٹھاکر نے مرکزی حکومت کے تازہ ترین اقدامات سے واقف کروایا جو سرکاری زیرانتظام شعبوں کی جیسے بینکوں ، انشورنس، ریلویز، دفاع، بی ایس این ایل اور کارپوریٹ گھرانوں میں کئے جارہے ہیں تاکہ کثیر قومی کارپوریشنوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

TOPPOPULARRECENT