Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / این ڈی اے کے وجود کو خطرہ لاحق، مشکلات میں اضافہ

این ڈی اے کے وجود کو خطرہ لاحق، مشکلات میں اضافہ

جنوبی ہند کی ریاستوں میں سیاسی اتحاد، فلمی ستارے اہم کردار ادا کریں گے

حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) ملک کے اقتدار پر قابض نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کا وجود خطرہ میں پڑگیا ہے اور اس محاذ کے لئے اب مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ناانصافیوں اور وعدہ خلافیوں پر ناراض تلگودیشم کی علیحدگی کے بعد اب دونوں ہی تلگو ریاستوں کی مقامی جماعتوں نے بی جے پی کے خلاف کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کی مخالفت شروع کردی۔ تلنگانہ ریاست کے چیف منسٹر نے تو ایک متبادل محاذ کی تشکیل کا بھی اعلان کردیا۔ لیکن ان تمام قائدین اور جماعتوں کا متحدہ ایجنڈہ تیار ہوچکا ہے۔ امکان ہے کہ اس جھنڈے اور ایجنڈے والے محاذ کا باضابطہ اعلان بھی ہوگا اور مقاصد بھی بیان ہوں گے لیکن اس کیلئے کوششیں بہت قبل ہی شروع کردی گئی تھیں۔ کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دینے والی بی جے پی کو کرارا جواب دینے میں ناکام کانگریس اور یو پی اے کے بجائے اب جنوبی ہند سے منہ توڑ جواب بی جے پی مکت ساؤتھ انڈیا کا نعرہ دیا جارہا ہے۔ جنوبی ہند کی 5 ریاستوں میں اب سیاسی اتحاد کی کوششیں جاری ہیں بلکہ عملاً اس کا آغاز بھی ہوچکا ہے اور اس دوڑ میں فلمی ستارے سب سے آگے ہیں۔ جنوبی ہند کی سیاسی تاریخ میں فلم انڈسٹری سے جڑے افراد کا بہت بڑا رول رہا ہے اور کئی مرتبہ ان افراد نے سیاسی نقشوں کو ہی بدل دیا اور ایک مقصد سے سیاست میں قدم رکھنے والے ان افراد کی بہت ساری قربانیاں پائی جاتی ہیں۔ تلگودیشم کا قیام ہو یا پھر ٹامل کی انا ڈی ایم کے یا موجودہ دور کی آندھرا سیاست میں پون کلیان ہو یا پھر ٹاملناڈو میں معروف فلم اسٹار کمل ہاسن جنوبی ہند کا نعرہ بلند کرتے ہوئے جنوبی ہند کو ہر لحاظ سے بچانے میں کمل ہاسن اور پون کلیان سامنے آرہے ہیں لیکن آندھراپردیش کے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو کی سیاسی صلاحیتوں اور انتظامی اُمور اور اقتداری گرفت کی عوام قدرداں ہیں۔ ترقی اور ترقیاتی منصوبوں میں یا پھر سرمایہ داروں کو راغب کرنے میں چندرابابو کا کوئی سیاسی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جنوبی ہند کے علاوہ ہندوستان بھر میں بابو کی سیاسی دور اندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی مانا جاتا ہے کہ بابو کچھ کرنے کا حوصلہ اور ہمت رکھتے ہیں اور تبدیلی کے لئے ان کی پالیسیاں بہت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ جنوبی ہند کی 5 ریاستوں میں بی جے پی دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کی ہمت سے اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی تھی تاکہ کرناٹک جیسی اہم ریاست جہاں کانگریس قابض ہے اس ریاست کو بھی کانگریس سے مکت کیا جاسکے اور ساتھ ہی کیرالا میں بھی قدم جمانے کا موقع تیار کیا جاسکے۔ ان تلگو ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے شاید علاقائی پارٹیوں کے وجود کو خطرہ یعنی اپنے سیاسی وجود کو ختم کرنے کی خاموش پالیسی کو بھنک لیا اور بی جے پی کے سیاسی عزائم سے چوکس ہوگئے اور جنوبی ہند کو بچانے کی فکر میں جٹ رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ جنوبی ہند کے نام پر مقامی ریجنل سیاسی پارٹیاں اپنے وجود اور بقاء کے اصل مقصد سے کوششیں کررہی ہیں بلکہ ان سیاسی جماعتوں تلگودیشم، ٹی آر ایس، جنا سینا، اے آئی ڈی ایم کے، وائی ایس آر کانگریس، ڈی ایم کے، بائیں بازو، جنتادل سیکولر، بیجو جنتادل، مسلم لیگ وغیرہ کے پس پردہ کام کرنے والے سیاسی ذہن تھنک ٹینک بھی ایک عرصہ سے ذہن سازی اور فکر میں جٹے ہوئے ہیں۔ کمل ہاسن کا سیاسی داخلہ بھی اس بات کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام سیاسی جماعتوں میں آپسی اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان میں کئی تو ایک دوسرے کے کٹر حریف اور مخالفین بھی ہیں لیکن جنوبی ہند کو بی جے پی سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ہند کو بی جے پی سے پاک کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کے علاوہ علاقہ کی ترقی بھی کارفرما ہے۔ اس علاقہ کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ آبادی اور آمدنی کے لحاظ سے ملک کی معیشت میں 30 فیصد حصہ دینے والی 5 ریاستوں کو یکسر طور پر نظر انداز کیاجارہا ہے۔ ان 5 ریاستوں سے ملک کے خزانے اور کل آمدنی کا 30 فیصد ہوتا ہے۔ لیکن جب ان ریاستوں کو منظوریاں اور حصہ دینے کی بات آتی ہے تو وہ واپس مشکل سے 18 فیصد واپس آتا ہے جبکہ 12 فیصد شمالی ہند اور دیگر معاشی طور پر کمزور ریاستوں کو منتقل ہوتا ہے۔ ترقی اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے جنوبی ہند کی ریاستیں سب سے آگے ہیں۔ باوجود مزید ترقی میں مدد کرنے کے فنڈس کی کمی رعایتوں میں کمی اور سہولیات کو روکنا اس علاقہ کی ترقی میں رکاوٹ تصور کیا جارہا ہے اور مقامی سیاسی جماعتوں میں اس بات کا بھی خوف ہے کہ ایک مرکز والی سیاسی جماعت کے قدم جمنے کے بعد نہ علاقہ کا سکون باقی رہے گا اور نہ ہی ان کا وجود بلکہ ہر لحاظ سے انھیں کمزور کردیا جائے گا۔ جنوبی ہند کی سیاسی جماعتوں میں ہر جماعت کے یہاں چند ارب پتی افراد ہیں۔ ان میں تلگو ریاستوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں جیسا کہ سابق میں کرناٹک کے سیاسی مستقبل میں اثرانداز ہوا کرتے تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT