Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / ایوان میں احتجاج حق بجانب، اپوزیشن پر الزام غیرمنصفانہ

ایوان میں احتجاج حق بجانب، اپوزیشن پر الزام غیرمنصفانہ

Ghulam Nabi Azad at Parliament on Thursday. Express photo by Praveen Jain 04.01.18

پارلیمنٹ کی بدولت جمہوریت زندہ ہے، راجیہ سبھا میں غلام نبی آزادکا خطاب
نئی دہلی ۔ 28 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ میں جاری احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے آج کہا کہایوان مںی عوامی مسائل کو پرزور انداز میں اٹھائے جانے پر اپوزیشن کو موردالزام ٹھہرانا غیرمنصفانہ ہوگا۔ ایک ایسے وقت جب راجیہ سبھا کے تقریباً 60 ارکان سبکدوش ہورہے تھے، غلام نبی آزاد نے بینکنگ اسکام، کاویری تنازعہ، آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف جیسے اہم مسائل پر جاری احتجاج کوحق بجانب قرار دینے کیلئے اس موقع کو منتخب کیا۔ ان مسائل پر ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان بالا کی کارروائی گذشتہ تین ہفتوں سے مسلسل تعطل و التواء کی نذر رہی ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر نے زور دیکر کہا کہ ’’پارلیمنٹ کے سبب جمہوریت زندہ ہے۔ ہمارا احتجاج کبھی بھی کرسی صدارت یا مخصوص افراد کے خلاف نہیں رہا ہے۔ یہ احتجاج سیاسی محرکات پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ رفقاء کے خلاف نہیں ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بری طرح متاثر کرنے والے مختلف اہم مسائل اٹھائے جارہے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے اس موقع پر کہا کہ ’’میں قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اس ملک میں جمہوریت زندہ ہے تو یہ محض پارلیمنٹ کی مرہون منت ہے‘‘۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ اپوزیشن کو ایسے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھانے کا حق ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کرسکے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ شاید یہ ٹیلیویژن سٹس پر اچھا نہیں دکھتا لیکن ارکان پارلیمنٹ بینکنگ اسکام، کاویری آبی تنازعہ، آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف جیسے مسائل پر آواز اٹھارہے ہیں جو قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانے کے عمل کا ایک حصہ ہے اور ایسا کرنے میں ارکان کا کوئی شخصی مفادات اور غلط محرکات نہیں رہتے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ چند میڈیا اداروں نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کو صدرنشین کے خلاف قرار دیا لیکن ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں شوروغل اور ہنگامہ آرائی کیلئے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو موردالزام ٹھہرانا غیرمنصفانہ ہوگا کیونکہ ان ارکان کے دروازے اپنے حلقوں کے عوام کیلئے روزانہ 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں جنہیں سینئر عہدیداروں کے خلاف ان پر پورا بھروسہ رہے کیونکہ سینئر سرکاری عہدیدار صرف دفتر کے اوقات اور وہ بھی وقت حاصل کرنے کے بعد ہر ملاقات کیلئے دستیاب ہوا کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT