Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / ایوان پارلیمنٹ میں ہونے والے واقعات پر میرا دل خون ہوگیا

ایوان پارلیمنٹ میں ہونے والے واقعات پر میرا دل خون ہوگیا

نئی دہلی ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں خلل اندازی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ ایوان میں جو کچھ واقعات پیش آرہے ہیں ، وہ جمہوریت کیلئے المناک ہے اور ان پر ان کا دل خون ہوگیا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے تلنگانہ مسئلہ پر لوک سبھا کی کارروائی میں خلل اندازی پر اور عبوری ریل بجٹ کی پیش

نئی دہلی ۔ 12 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں خلل اندازی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ ایوان میں جو کچھ واقعات پیش آرہے ہیں ، وہ جمہوریت کیلئے المناک ہے اور ان پر ان کا دل خون ہوگیا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے تلنگانہ مسئلہ پر لوک سبھا کی کارروائی میں خلل اندازی پر اور عبوری ریل بجٹ کی پیشکش کے دوران خلل اندازی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کا پیش آنا المناک ہے حالانکہ خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ وزیراعظم کا یہ تبصرہ تلنگانہ مسئلہ پر آج ہنگامی کے بعد منظر عام پر آیا جس کی وجہ سے وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے کا عبوری ریل بجٹ برائے 2014-15 ء کی پیشکش بھی ناکام ہوگئی تھی اور انہیں انکشاف کی وجہ سے اپنی تقریر مختصر کرنی پڑی تھی۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی عبور کمل ناتھ نے بھی لوک سبھا کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بدبختانہ بات ہے۔ ہر قسم کے نظم و ضبط شکنی کے واقعات دیکھے جارہے ہیں۔ آئندہ لوک سبھا کیلئے یہ ایک بری مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد واضح ہے کہ ایوان ہر رکن کا ہے، اس کے وقار کا تحفظ تمام طبقات کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی مخصوص طبقہ کی ملکیت نہیں ہے۔ حکومت اور تمام ارکان کا فرض ہے کہ ایوان کے وقار کا تحفظ کریں اور قواعد کے مطابق کارروائی کو یقینی بنائیں۔

پارلیمانی جمہوریت تبادلہ خیال ، مباحث ، اختلاف اور یکسوئی کا نام ہے۔ اس سوال پر کہ کیا یہ حکومت کا فرض نہیں ہے کہ ایوان کا انتظام درست طریقہ سے کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے تمام ارکان کا فرض ہے۔ ایوان پر قابو پانا صرف حکومت کا فرض نہیں ہے۔ ایوان پر اسپیکر اور ارکان قابو پاتے ہیں۔ مرکزی وزیر ایم ایم پلم راجو نے عجلت میں تلنگانہ بل پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی پر ناراضگی انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ موجودہ صورت میں تلنگانہ بل اور آندھراپردیش کی تقسیم مکمل ناانصافی ہے اور اس کو حقیقت کا روپ نہیں لینا چاہئے ۔ انہوں نے سیما آندھرا کے اپنے پارٹی ساتھیوں کے شور و غل کو جس میں چار وزراء بھی شامل تھے، جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مجوزہ تقسیم کے خلاف لوک سبھا میں ’’آخری لڑائی‘‘ ہے۔ کئی مسائل پر 15 ویں لوک سبھا میں پہلے بھی ایسا ہی ہوچکا ہے۔ وہ ایک پریس کانفرنس میں پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی پر وزیراعظم کے تبصرہ پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT