Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ایوان کے لیے انتخاب ایک اعزاز کے ساتھ بھاری ذمہ داری، جوابدہی ضروری

ایوان کے لیے انتخاب ایک اعزاز کے ساتھ بھاری ذمہ داری، جوابدہی ضروری

آندھرا پردیش ارکان اسمبلی کے تربیتی پروگرام سے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کا خطاب، آداب و شائستگی برقرار رکھنے کی تلقین

آندھرا پردیش ارکان اسمبلی کے تربیتی پروگرام سے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کا خطاب، آداب و شائستگی برقرار رکھنے کی تلقین
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی : ( پی ٹی آئی ) : لوک سبھا کی اسپیکر سمرتا مہاجن نے آج کہا کہ قانون سازوں ( ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی ) کو ایک مکمل اور وسیع تر نظریہ کا حامل رہنا چاہئے کیوں کہ وہ اپنے تمام متعلقین ( حلقہ کے عوام وغیرہ ) کے لیے جوابدہ ہوتے ہیں ۔ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کے ارکان اسمبلی کے لیے منعقدہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر لوک سبھا نے کہا کہ ’ آپ صرف ان کے لیے جوابدہ نہیں ہیں جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا بلکہ ان کے لیے بھی جوابدہ ہیں جنہوں نے آپ کو ووٹ نہیں دیا ۔ چنانچہ آپ کا نظریہ ، آپ کی بصیرت اور کام 360 ڈگری کی طرح مکمل اور جامع ہونا چاہئے ۔ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ منتخب ہونے کے بعد آپ صرف ارکان مقننہ ہی نہیں رہ جاتے بلکہ آپ ان کے قائد بن جاتے ہیں ۔ جنہیں مختلف محاذوں پر قیادت کرنا پڑتا ہے ۔ واضح رہے کہ مابعد تقسیم آندھرا پردیش اسمبلی کے لیے منتخب 175 ارکان میں 100 سے زائد بالکل نئے ارکان ہیں جو پہلی مرتبہ قانون ساز ایوان میں پہونچے ہیں ۔ سمترا مہاجن 1989 سے لوک سبھا کے لیے مسلسل منتخب ہوتی رہی ہیں ۔ انہوں نے آندھرا پردیش اسمبلی کے ارکان اسمبلی کے لیے منعقدہ پروگرام کے دوسرے روز کلیدی خطبہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ عزت و احترام از خود حاصل کئے جاسکتے ہیں انہیں مطالبہ کے ذریعہ زبردستی حاصل نہیں کیا جاسکتا ‘ ۔ چنانچہ ارکان اسمبلی کو اخلاق ، تہذیب تمیز اور اقدار پر ثابت قدم رہنا چاہئے ۔ سمترا تائی نے کہا کہ قانون ساز کی حیثیت سے منتخب ہونا بلا شبہ عوامی خدمت کے لیے اعزاز و مراعات ہے لیکن اس کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی مربوط رہتی ہے ۔ ریاستی مقننہ اور پارلیمنٹ میں ضبط و تحمل کے ساتھ بحث مباحثہ پارلیمانی جمہوریت کی کامیابی کی کلید ہے ۔ لوک سبھا کی اسپیکر نے لیجسلیٹرس بالخصوص پہلی مرتبہ منتخب ہونے والوں سے کہا کہ وہ مختلف امور و مسائل کا بغور جامع مطالعہ کریں اور پوری تیاری کے ساتھ ایوان پہونچیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ آپ کے امور و مسائل کا چوکٹھا وسیع ہونا چاہئے ۔ آپ کو مختلف امور پر یکساں عبور رہنا چاہئے ۔ اور چند مخصوص شعبوں پر مہارت ہونا چاہئے ۔ نیز اپنے سینئیر ساتھی ارکان کو دیکھ کر بھی آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ‘ ۔ ہر کام قواعد اور ضوابط کے مطابق ہونا چاہئے ۔ کرسی صدارت کی بد احترامی دراصل ایوان کی توہین ہوگی ۔ ایوان کی شائستگی اور محفل کے آداب ملحوظ رکھنا کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ آندھرا پردیش اسمبلی کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے 98 ارکان کا حوالہ دیتے ہوئے سمترا مہاجن نے برجستہ کہا کہ ’ آپ ان تمام کو ( بحیثیت بہتر ارکان ) ڈھال سکتے ہیں کیوں کہ یہ منجھے ہوئے سیاستدان نہیں ہیں ۔ منجھے ہوئے سیاستدانوں کو بدلنا بہت دشوار ہوتا ہے ‘ ۔ اس پروگرام میں مرکزی وزیر اقلیتی بہبود نجمہ ہپت اللہ ، آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو ، قانون ساز کونسل کے چیرمین چکرا پانی ، اسمبلی کے اسپیکر کوڈیلا سیوا پرساد راؤ ، ڈپٹی اسپیکر منڈالی بدھا پرساد ، وزیر امور مقننہ وائی رام کرشنوڈو اور دوسروں نے شرکت کی ۔۔

TOPPOPULARRECENT