Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ایودھیاحساس و جذباتی مسئلہ، مذاکرات کے ذریعہ حل اور ثالثی ، سپریم کورٹ کی تجویز

ایودھیاحساس و جذباتی مسئلہ، مذاکرات کے ذریعہ حل اور ثالثی ، سپریم کورٹ کی تجویز

حکومت اور ہندو تنظیموں کی جانب سے خیرمقدم ، مسلم تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں قطعی عدالتی فیصلہ کی حامی ، سبرامنیم سوامی کو 31 مارچ تک مشاورت اور مطلع کرنے کی ہدایت

نئی دہلی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا ایودھیا کے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کا حساس مسئلہ فریقین کے مابین مذاکرات کے ذریعہ حل کرلیا جانا چاہئے اور اس تنازعہ کی خوشگوار و دوستانہ انداز میں یکسوئی کے لئے اپنی طرف سے مصالحت کی پیشکش کی۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے جس میں جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایس کے کول بھی شامل ہیں، کہاکہ ’’یہ مذاہب اور جذبات کے مسائل ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جہاں تمام فریقوں کو یکجا مل بیٹھنا چاہئے اور تنازعہ ختم کرنے کے لئے ایک متفقہ فیصلہ پر پہونچنا چاہئے۔ آپ تمام مل بیٹھیں اور خوشگوار انداز میں بات چیت کریں‘‘۔ عدالت نے ان تاثرات کا اظہار اُس وقت کیا جب بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہاکہ اس مسئلہ پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ سوامی نے کہاکہ چھ سال سے مقدمہ زیرتصفیہ ہے اور اس پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سوامی نے جو بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا بھی ہیں، عدالت سے کہاکہ وہ مسلم برادری کے افراد سے رجوع ہوچکے ہیں جنھوں نے کہاکہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے کہاکہ ’’متفقہ فیصلہ پر پہونچنے کے لئے آپ (سوامی) تازہ مساعی کریں۔ اگر ضروری ہو تو تنازعہ ختم کرنے کے لئے آپ ایک مصالحت کار (ثالثی) کا انتخاب کریں۔ اگر فریقین چاہتے ہیں کہ مجھے (چیف جسٹس جے ایس کیھہر) بھی مذاکرات کے لئے دونوں جانب سے منتخب کردہ مصالحت کاروں کے ساتھ بیٹھنا ہوگا تو میں اس کام کے لئے تیار ہوں۔ حتیٰ کہ اس مقصد کے لئے میرے جج بھائیوں کی خدمات بھی دستیاب ہیں‘‘۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ اگر فریقین چاہیں تو وہ اعلیٰ مذاکرات / ثالثی کا تقرر بھی کرسکتی ہے۔ بعدازاں اس بنچ نے سبرامنیم سوامی سے کہاکہ وہ فریقین سے مشاورت کریں اور 31 مارچ 2017 ء تک اُنھیں (عدالت کو) فیصلہ سے واقف کروائیں۔ عدالت عظمیٰ نے 26 فروری2016  ء کو سبرامنیم سوامی کو ایودھیا کی ملکیت کے تنازعہ سے متعلق تمام زیر تصفیہ معاملت میں مداخلت کی اجازت دی تھی۔ اُنھوں نے ایودھیا میں منہدم متنازعہ ڈھانچہ کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کے لئے درخواست کی تھی۔

مسلم تنظیموں کا ردعمل
بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور دیگر مسلم تنظیموں نے ایودھیا تنازعہ کی یکسوئی کے لئے بات چیت کرنے سپریم کورٹ کی تجویز پر نااُمیدی اور شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کہاکہ اس مسئلہ پر بیرون عدالت تصفیہ کے لئے ماضی میں کی گئی کوششیں ناکام ثابت ہوچکی ہیں۔ ایودھیا مقدمہ کی ایک فریق بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہاکہ ’’ہم چیف جسٹس (آف انڈیا) کی ثالثی میں مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔اگر سپریم کورٹ اس ضمن میں کوئی حکم جاری کرتا ہے تو ہم اس پر غور کرسکتے ہیں‘‘۔ سپریم کورٹ نے آج دن میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ مسئلہ ایودھیا کی یکسوئی کے لئے متفقہ فیصلہ پر پہونچنے کے لئے تمام متعلقہ فریق مل بیٹھیں اور بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کو خوشگوار انداز میں حل کیا جائے ۔مسجد کے انہدام کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر رابع حسنی ندوی نے کانچی کے شنکر آچاریہ سے تحریری تجویز طلب کی جس میں اُنھوں نے کہاکہ مسلمانوں کو تین مساجد پر اپنے ادعا سے دستبردار ہوجانا چاہئے لیکن یہ بات قابل قبول نہیں تھی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا ولی رحمانی نے کہاکہ ’’ہمیں چیف جسٹس پر بھروسہ ہے اگر وہ (مذاکرات میں) رہیں گے تو ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں‘‘۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مولانا خالد رشید نے الزام عائد کیاکہ ماضی میں اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کی گئی کوششوں کو سیاسی جماعتوں نے ناکام بنادیا۔ چنانچہ ہمارا نظریہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ہی ہمیشہ کیلئے کوئی فیصلہ کردیا جائے‘‘۔

سیاسی جماعتوں کے بیان
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے راجیہ سبھا رکن اور ممتاز قانون داں مجید میمن نے بابری مسجد کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے مشورے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشورہ تو اچھا ہے لیکن انصاف ہونا بھی لازمی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہاکہ بابری مسجد انہدام ایک فوجداری گناہ ہے اور 25 برس کا وقفہ گزر جانے کے باوجود آج بات پھر وہیں پہنچ گئی جہاں 25 برس پہلے تھی۔  کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اتفاق رائے پر مبنی حل قابل قبول ہے، جو تمام متعلقہ فریقین کی اتفاق رائے سے پیش کیا جائے۔ اس سے پائیدار امن ، غیرسگالی ، احترام باہمی اور اخوت پیدا ہوسکتی ہے۔ سی پی آئی ایم نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایودھیا تنازعہ پر ثالثی کرتے ہوئے اس کا قطعی فیصلہ سنا دینا چاہئے۔ نومنتخبہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ شاکی فریقین کو باہم بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کرنا چاہئے جبکہ سینئر بی جے پی قائد اڈوانی نے سپریم کورٹ کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔

TOPPOPULARRECENT