Saturday , December 15 2018

ایودھیا تصفیہ کیلئے 6 ڈسمبر تک مسودہ تجاویز کی تیاری متوقع : رضوی

لکھنؤ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش شیعہ سنٹرل بورڈ نے آج کہاکہ مسئلہ ایودھیا کی پرامن یکسوئی کیلئے وہ 6 ڈسمبر تک اپنی تجاویز کا مسودہ تیار کرلے گا۔ 1992 ء میں اس روز بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ بورڈ کے چیرمین وسیم رضوی نے کہاکہ وہ ہندو دھرم گروؤں اور مہنتوں سے ملاقات کیلئے اس ماہ ایودھیا کا دورہ کریں گے۔ رضوی نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’’اس تنازعہ کی یکسوئی کے سمجھوتہ کے لئے تجاویز کے مسودہ کی تیاری کے ضمن میں چند فریقوں اور درخواست گذاروں سے شرائط و ضوابط پر پہلے ہی تبادلہ خیال کرچکا ہوں‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’باہمی سمجھوتہ کے لئے مجھے اُمید ہے کہ ہم 6 ڈسمبر تک اپنا مسودہ تجاویز تیار کرلیں گے‘‘۔ رضوی نے گزشتہ ماہ آرٹ آف لیونگ کے بانی سری سری روی شنکر سے بنگلور میں ملاقات کی تھی اور اس مقام پر رام مندر کی تعمیر سے متعلق بورڈ کے موقف سے واقف کروایا تھا۔ رضوی نے کہاکہ مرکزی شیعہ بورڈ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مسجد کی تعمیر نہیں چاہتا بلکہ کسی مسلم آبادی والے علاقہ میں مسجد تعمیر کی جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 ء میں معلنہ اپنے فیصلے میں 2.77 ایکر متنازعہ اراضی کی ایودھیا تنازعہ کے تین فریقوں سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لارڈ لالہ میں مساویانہ تقسیم کی تھی۔ تاہم رضوی کا نظریہ ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ اراضی کی تقسیم قابل عمل نہیں ہوگی۔ یہ عمل دیرپا اور پرامن بھی نہیں ہوسکتا۔ وسیم رضوی نے اپنی طرف سے تیار کئے جانے والے مسودہ تجاویز کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا لیکن کہاکہ اس کو منظر عام پر لانے اور پیشرفت سے قبل وقف بورڈ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ارکان کی اجازت لی جائے گی۔ شیعہ سنٹر وقف بورڈ بھی اس سال 8 اگسٹ کو سپریم کورٹ میں 30 صفحات پر مشتمل حلفنامہ داخل کرتے ہوئے ایودھیا تنازعہ کا فریق بن گیا۔ بابری مسجد پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ شیعہ مسجد ہے۔ وسیم رضوی نے کہاکہ ’’مقدمہ بابری شیعہ وقف سے تعلق رکھتی ہے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس پر فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ صرف شیعہ بورڈ کو ہی فیصلہ کرنے کا حق ہے‘‘۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اگرچہ ایودھیا مقدمہ کا فریق نہیں ہے لیکن اس کا قابل لحاظ اثر و رسوخ ہے کیوں کہ مسلمانوں کے مذہبی و عائیلی اُمور و مسائل پر یہ اساسی اسلامی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے مسئلہ ایودھیا کی عدالت کے باہر یکسوئی کے لئے اس کے کسی بھی نمائندہ کی آرٹ آف لیونگ کے بانی (سری سری روی شنکر) سے ملاقات کی تردید کی ہے۔ جیلانی نے کہاکہ ’’مسئلہ ایودھیا کو ہٹ دھرمی کے ساتھ حل نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اس اراضی پر اپنے ادعا سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے جہاں پہلے بابری مسجد تھی جو 6 ڈسمبر 1992 ء کو منہدم کی گئی تھی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT