Saturday , December 15 2018

ایودھیا مقدمہ تعدد ازدواج سے زیادہ اہم : سپریم کورٹ

کیس کو بڑی بنچ سے رجوع کرنے چیف جسٹس دیپک مشرا کا گریز
نئی دہلی 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ میں ایک جذبات سے بھرپور درخواست ایودھیا اراضی تنازعہ مقدمہ کے سلسلہ میں پیش کی گئی ہے جسے وسیع تر بنچ سے رجوع کیا جانا چاہئے کیوں کہ یہ تنازعہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج تنازعہ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جسے دستوری بنچ سے رجوع کیا گیا ہے۔ یہ درخواست سینئر قانون داں راجیو دھون نے پیش کی جو ایک مسلم فریق کی پیروی کررہے ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت ایک بنچ کے اجلاس نے کہاکہ وہ اِس مقدمہ کو ایک وسیع تر بنچ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرے گی کیوں کہ اِس تنازعہ کے 11 فریق ہیں۔ ایودھیا اراضی تنازعہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج کے مسئلہ سے زیادہ اہم ہے۔ پوری قوم اِس کا جواب چاہتی ہے۔ دھون نے بنچ کے اجلاس پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ پر جملہ 14 اپیلیں ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف پیش کی گئی ہیں جو 4 دیوانی مقدمات میں جاری کیا گیا تھا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے سماجی کارکنوں جیسے شیام بنیگل اور تیستا سیتلواد کی اُمیدوں کو چکنا چور کردیا جنھوں نے درخواست کی تھی کہ حساس بابری مسجد ۔ رام مندر اراضی تنازعہ مقدمہ میں مداخلت کی جائے اور واضح کیا تھا کہ صرف اصل مقدمہ کے فریقین کو اپنے دلائل پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ 3

ججس پر مشتمل الہ آباد ہائیکورٹ کی بنچ نے 2:1 کے اکثریتی فیصلے میں 2010 ء میں حکم جاری کیا تھا کہ اراضی کی مساوی تقسیم تین فریقین کے درمیان کی جائے جو سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا ہیں۔ طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور تعدد ازدواج کے سلسلہ میں مقدمہ سپریم کورٹ کی ایک اور بنچ پر زیردوران ہے۔ دریں اثناء صدر کانگریس راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کاری ضرب لگاتے ہوئے اُن کے حالیہ تبصرے کی بنیاد پر کہ کوئی بھی حکومت دلتوں کے افسانوی قائد بی آر امبیڈکر کا اتنا احترام نہیں کرسکی جتنا کہ موجودہ این ڈی اے دور حکومت میں کیا گیا ہے، الزام عائد کیاکہ وزیراعظم کا جابرانہ نظریہ دلتوں اور امبیڈکر کا احترام نہیں کرسکتا۔ صدر کانگریس نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ مبینہ طور پر امبیڈکر مجسموں کی ریاستوں میں بشمول اترپردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور ٹاملناڈو میں بے حرمتی کی گئی ہے۔ اُنھوں نے تحریر کیاکہ مودی جی وہ جابرانہ حکمت عملی جس سے آپ کا تعلق ہے، کسی بھی دلت اور بابا صاحب کا احترام نہیں کرتی۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریہ کی چند مثالوں سے بابا صاحب امبیڈکر کا کتنا احترام کیا جاتا ہے، اِس کا ثبوت مل جاتا ہے۔ امبیڈکر کو پیار سے اُن کے پیرو بابا صاحب کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ وزیراعظم دو دن قبل ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دلت برادری کو ترغیب دینے کے لئے کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی حکومت نے بی آر امبیڈکر کا اتنا احترام نہیں کیا جیسے کہ ان کی حکومت نے کیا ہے اور تجویز پیش کی تھی کہ امبیڈکر کے نام کو سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT