Saturday , April 21 2018
Home / ہندوستان / ایودھیا مقدمہ کی جمعرات سے روزانہ سماعت کیلئے فریقین تیار

ایودھیا مقدمہ کی جمعرات سے روزانہ سماعت کیلئے فریقین تیار

لکھنؤ۔ 5 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد، رام مندر مقدمہ میں اراضی کی ملکیت کے معاملے کی آئندہ 8 فبروری سے سپریم کورٹ میں روزانہ ہونے والی سماعت کیلئے متعلقہ فریقین کے وکلاء نے پوری تیار ی کرلی ہے ۔30ستمبر 2010 ء کو الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ زیر التوا ہے ۔ ہائیکورٹ نے متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرکے رام للا، سنی وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑہ کو برابر برابر دیئے جانے کا حکم دیا تھا۔اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے گزشتہ اگست میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے متنازعہ زمین پر رام مندر تعمیر کرانے اور لکھنو کے کسی مسلم اکثریتی علاقے میں مسجد امن کی تعمیر کرانے کی درخواست کی تھی۔ سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے بتایا کہ روزانہ سماعت کیلئے ان کی تیاری مکمل ہے۔ اس سلسلے میں 3 فبروری کو اپنے فریق کے دیگر وکلاء کے ساتھ میٹنگ ہوچکی ہے ، کل پھر میٹنگ ہوگی۔ 7 فبروری کی شام کو ایک بار پھر ہم میٹنگ کریں گے ۔مسلمانوں کی طرف سے کپل سبل، ڈاکٹر راجیو دھون، راجو رام چندرن ، شکیل احمد اور سعید جیسے معروف وکلاء عدالت میں اپنا موقف رکھیں گے ۔ نرموہی اکھاڑہ کی طرف سے ایس کے جین، رنجیت لال ورما، ہندو مہاسبھا کی طرف سے ہری شنکر جین اور وشنوشنکر جین اور رام للا وراجمان کی طرف سے پراشرن عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے ۔ رام للا وراجمان کے وکیل مدن موہن پانڈے کو اترپردیش حکومت نے سرکاری وکیل مقرر کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT