ایودھیا میں شیوسینا ، وی ایچ پی کے پروگراموں سے قبل کشیدگی

دریا سرجو پر ادھو ٹھاکرے کی پوجا ، سادھوؤں ، سنتوں اور رام بھکتوں کا آج دھرم سنسد ، عوام میں تشویش ، سخت ترین سکیورٹی انتظامات

ایودھیا ۔ /24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی حمایت میں آج اور کل مقررہ دو بڑے پروگراموں کے نتیجہ میں زبردست کشیدگی پیدا ہورہی ہے ۔ پہلے پروگرام میں شیوسینا کے سربر اہ ادھو ٹھاکرے جو دو روزہ دور ہ پر ایودھیا پہونچ رہے ہیں دریائے سرجو کے کنارے آرتی پوجا میں حصہ لیں گے ۔ ان دونوں مذہبی پروگراموں کے پیش نظر ایودھیا میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ شیوسینا کے سربر اہ اپنی آمد کے بعد رام جنم بھومی پوجا کے علاوہ سادھوؤں سنتوں اور مقامی افراد سے خطاب کریں گے ۔ وہ اپنے ساتھ پونے کے قلعہ شیونیری کی مٹی سے بھرا گھڑا بھی ساتھ لے گئے ہیں جو رام جنم بھومی پر مہنت یا صدر پجاری کے سپرد کریں گے ۔ اترپردیش میں شیوسینا کا وجود نہیں کے برابر ہے ۔ اس پارٹی کے ایک لیڈر سنجے راؤت نے جو ایودھیا میں کیمپ کئے ہوئے ہیں مندر کی تعمیر میں ہونے والی تاخیر پر چراغ پا ہیں ۔ انہوں نے برہمی کے ساتھ کہا کہ ’ ہم نے بابری مسجد کو 17 منٹ میں منہدم تو کردیا لیکن کاغذات کی تیاری کیلئے مزید کتنا وقت درکار ہوگا ؟ اگر آپ کسی آرڈیننس کی بات کرتے ہیں تو پھر راشٹرپتی بھون سے اترپردیش تک ہر طرف بی جے پی ہی تو ہے ۔ آپ اور کیا چاہتے ہیں ؟ ‘ ۔ لیکن ایودھیا میں وشواہندو پریشد (وی ایچ پی) کا ’دھرم سنسد‘ سب سے بڑا پروگرام ہے جو کل اتوار کو یہاں منعقد ہوگا ۔ وی ایچ پی نے کہا ہے کہ 1992 ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد سادھوؤں ، سنتوں اور رام مندر کے حامیوں کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوگا ۔ جس کا ایجنڈہ رام مندر کی تعمیر کے منصوبوں پر پیشرفت کے مختلف راستوں پر غور و خوص کرنا ہے ۔ وشواہندو پریشد اپنے اس پروگرام کے لئے اتر پردیش میں گزشتہ چند دن سے موٹر سیکل ریلیوں اور جلوسوں کے ذریعہ عوامی تائید کے حصول کی کوشش کررہی تھی ۔ ایسی ہی ایک ریلی کے دوران کانپور میں اقلیتی آبادی کے علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ۔ مشرقی اترپردیش کے علاقہ مرزا پور میں بھی رام جانکی موٹر سیکل یاترا کے دوارن عوام کے دو طبقات میں معمولی جھڑپ کے بعد کشیدگی پھیل گئی تھی ۔ ایودھیا میں اراضی کی ملکیت کے مقدمہ کے اصل فریق اقبال انصاری نے کہا کہ ان حالات میں مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراسانی پھیل رہی ہے ۔ انہوں نے تمام مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’اگر 1992 ء کی طرح یہاں ہجوم جمع ہوتا رہے گا تو ایودھیا کے تمام مسلمانوں اور مجھے خصوصی سکیورٹی فراہم کرنا ہوگا ۔ اگر سکیورٹی میں اضافہ نہیں کیا گیا تو میں /25 نومبر سے قبل یہ شہر(ایودھیا) چھوڑنے پر مجبور ہوجاؤں گا ‘‘ ۔ اترپردیش کے سابق چیف منسٹر اکھلیش یادو نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ صورتحال پر کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے اگر ضروری ہو تو فوج روانہ کی جائے ۔ ایس پی کے سربر اہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ’ بی جے پی دستور یا سپریم کورٹ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ کسی بھی حد سے گزرسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ کو اترپردیش اور بالخصوص ایودھیا کی صورتحال کا نوٹ لینا چاہئے اور اگر ضروری ہو تو صورتحال پر کنٹرول کرنے کے لئے فوج روانہ کی جانی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT