Tuesday , December 11 2018

ایودھیا کے نوجوانوں کی توجہ مندر کی بجائے مستقبل بنانے پر مرکوز

مندر کے حامی نوجوان بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قیمت پر تعمیر نہیں چاہتے ، سیاست دانوں پر رام مندر کے نام پر جذبات بھڑکانے کا الزام
ایودھیا۔ 24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا کے نوجوانوں نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل رام مندر کی تعمیر کیلئے رکھنے والے مطالبات سے قطع نظر لارڈ رام کے شہر کے اکثر نوجوانوں نے کہا ہے کہ وہ سیاسی شعبدہ بازی میں الجھنا نہیں چاہتے اور پرزور انداز میں اس عہد کا اظہار کیا کہ مجوزہ مندر کے نام پر وہ اپنا مستقبل متاثر کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم نوجوانوں کا دوسرا طبقہ مندر کی تعمیر کیلئے بے چین تو ہے لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قیمت پر یہ (تعمیر) نہیں چاہئے۔ 30 سالہ امن کمار نے کہا کہ جو سنگ تراش ہے اور شری رام مورتی کے نام سے مورتیوں کی ایک دوکان بھی چلاتا ہے، کہا کہ ’’ایودھیا لارڈ رام کی سرزمین ہے۔ میں یہاں پیدا ہوا ہوں۔ میرے خاندان کی تین پشتیں یہاں زندگی گذار چکی ہیں۔ ہم رام کی پوجا کرنے والوں کا خاندان ہیں اور رام للاکو ایک خیمہ دیکھ کر ہمیں کافی تکلیف ہوتی ہے۔ امن کمار نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر پر خوشی تو ضرور ہوگی لیکن یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قیمت پر تعمیر نہ کیا جائے۔ ایک ٹور گائیڈ 18 سالہ روہت پانڈے جو کئی ہندوستانی زبانیں بول سکتے ہیں اور اپنی پیشانی پر بڑا ’تلک‘ بھی لگایا کرتے ہیں، 40 سالہ آٹو ڈرائیور محمد عظیم کے ساتھ پورے آرام و اطمینان کے ساتھ کاروبار چلاتے ہیں۔ محمد عظیم 1992ء کے ایودھیا فسادات کے بدترین متاثرین میں شامل ہیں۔ روہت پانڈے نے کہا کہ ہم انہیں (عظیم کو) پیارے سے ماموں کہتے ہیں۔ وہ سیاحوں کو یہاں لاتے ہیں

اور پھر یہ انہیں رام جنم بھومی لے جایا کرتے ہیں۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں بھی یہاں رام مندر کی تعمیر چاہتا ہوں، لیکن ایسے پرامن ماحول میں جہاں کسی کو کوئی تکلیف نہ پہونچے۔ محمد عظیم نے کہا کہ روہت میرے چار بچوں میں سے ایک بچہ کی عمر کا ہے اور اس جیسے نوجوان اپنا مستقبل بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں لیکن سیاست دانوں کی طرف سے گمراہ کیا جارہا ہے۔ میرے بچے بھی اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ یہ مسئلہ نہیں چاہتے جو ہنوز عدالت میں زیردوراں بھی ہے۔ ایودھیا کے ساکن انیل یادو نے جو کالج سے گریجویشن کے بعد سیول سرویس امتحانات کی تیاری میں مصروف ہے، کہا کہ تمام طبقات سے تعلقات رکھنے والے ہمارے دوست ہیں۔ ہم ہولی اور عید مل جل کر مناتے ہیں۔ چند سیاست داں اور دائیں بازو کے گروپس رام مندر کے مسئلہ پر جذبات بھڑکاتے ہیں لیکن میں اپنے کیریئر پر توجہ مرکوز کررہا ہوں۔ لا اسکول سے حال ہی میں فارغ التحصیل گریجویٹ ہیمانشو سنگھ جو ایودھیا میں بچپن گذارے ہیں، کہا کہ سیاست داں اور مذہبی تنظیموں کے قائدین کو چاہئے کہ وہ ہمارے (عوام) کے ترجمان بننے کی کوشش نہ کریں۔ مندر ہو یا نہ ہو وہ (قائدین) کیونکر عوام کی طرف سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT