Monday , January 22 2018
Home / Health / ایچ پی وی کے ٹیکے سے کئی قسم کے کینسر کی روک تھام ممکن

ایچ پی وی کے ٹیکے سے کئی قسم کے کینسر کی روک تھام ممکن

ایک انسانی پیاپلوما وائرس کا ٹیکہ نہ صرف پیڑو کے کینسر کی روک تھام کرتا ہے بلکہ ایچ پی وی کی وجہ سے ہونے والی کئی قسم کے کینسروں سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ ایک کثیرقومی طبی آزمائش سے جس میں بیس ہزار نوجوان خواتین شامل تھیں، اس بات کا انکشاف ہوا ۔ تحقیق کے بموجب یہ اثر چار تا پانچ سال تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ یہ تحقیق توثیق کرتی ہے کہ نوجو

ایک انسانی پیاپلوما وائرس کا ٹیکہ نہ صرف پیڑو کے کینسر کی روک تھام کرتا ہے بلکہ ایچ پی وی کی وجہ سے ہونے والی کئی قسم کے کینسروں سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ ایک کثیرقومی طبی آزمائش سے جس میں بیس ہزار نوجوان خواتین شامل تھیں، اس بات کا انکشاف ہوا ۔ تحقیق کے بموجب یہ اثر چار تا پانچ سال تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ یہ تحقیق توثیق کرتی ہے کہ نوجوان بلوغت کے دور میں داخل ہونے والی لڑکیاں اگراپنی اولین مباشرت سے پہلے پرافیلیاکٹک ایچ پی وی ٹیکہ لے لیں تو اس کا پیڑو کی اعلیٰ سطحی بے قاعدگیوں کے واقعات کا ٹھوس اثر مرتب ہوتا ہے ۔ ڈائرکٹر جنسی صحت کلینک خاندانی وفاق فن لینڈ ہلینکی ڈان ایپٹر نے کہا کہ سرویارکس ٹیکہ نوجوان خواتین میں انتہائی موثر ہوتا ہے جو ایچ پی وی سے کبھی متاثر نہ ہوئی ہوں۔ یہ ایچ پی وی ۔ 16اور 18 سے متاثر تمام کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور 50 تا 100 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ مختلف درجہ کے کینسروں کے خلاف ماقبل کینسر اثرات میں بھی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ ایچ پی وی کے دیگر اثرات کے تحت پٹرو میں تشکیل پانے والے خلیوں پر بھی انقلابی اثر مرتب کرتا ہے۔ ان میں 10 تا 100 فیصد وہ خلیے بھی شامل ہیں جو کینسر کے نقیب ہوتے ہیں۔ مابعد ٹیکہ اندازی ان خواتین پر چار سال نگرانی رکھی گئی ۔ ٹیکہ نمایاں طورپر 18 تا 25سال عمر والی خواتین کی بنسبت 15 تا 17 سال عمر کی لڑکیوں میں زیادہ کارآمد ثابت ہوا ۔ اس سے عنفوان شباب کے دور میں ٹیکہ لینے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔ زیادہ عمر والے گروپ میں کمتر کارکردگی کی وجہ خواتین کا وسیع تر حصہ جو عمر کے اس زمرہ میں شامل ہو جس کو ٹیکہ اندازی کے وقت انفیکشن ہو ، ہوسکتی ہے ۔ یہ تحقیق پاپیلوما کی آزمائش نوجوانوں عنفوان شباب کی عمر کی لڑکیوں میں کینسر کے خلاف قطعی رپورٹ ہے ۔ ایک کثیرقومی طبی آزمائش یورپ کے 14 ممالک کا احاطہ کرتی ہے ان کے علاوہ یہ تحقیق ایشیائے کوچک کے علاقہ ، شمالی امریکہ اور لاطینی امریکہ کا احاطہ بھی کرتی ہے اور اس آزمائش میں سابقہ تحقیقوں کی رپورٹس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بحیثیت مجموعی یہ آزمائش سیرویارکس ٹیکہ کی منظوری کے لئے کی گئی تھی۔ اس کی رپورٹ کے بعد ہی یورپ اور امریکہ میں اس ٹیکے کو منظوری دی گئی ۔ یہ تحقیق ٹیکہ کے مردوں پر اثرات اور جنسی فعل کے ذریعہ منتقل ہونے والے ایچ پی وی کے ذریعہ لاحق ہونے والے سر اور گردن کے مردوں اور عورتوں دونوں میں کیسز کاجائزہ بھی نہیںلیتی ۔ پیڑو کا کینسر عورتوں میں عام ہے ۔ 2012 ء میں 528000 نئے معاملات درج کئے گئے تھے اور اس سے عالمگیر سطح پر 266000 اموات ہر سال واقع ہوتی ہیں۔ اکثر معاملات ترقی پذیر ممالک سے متعلق ہیں۔ یہ تحقیق رسالہ ’’طبی اور ٹیکہ کی مدافعتی طاقت‘‘ میں شائع ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT