Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / ایڈیٹر ’رائزنگ کشمیر‘ شجاعت بخاری کا سرینگر میں قتل

ایڈیٹر ’رائزنگ کشمیر‘ شجاعت بخاری کا سرینگر میں قتل

تمام گوشوں بشمول علحدگی پسندوں کا اظہار مذمت
سرینگر ، 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) سینئر جرنلسٹ اور ایڈیٹر ’رائزنگ کشمیر‘ شجاعت بخاری اور اُن کے دو پرسنل سکیورٹی آفیسرز کو آج جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت کے قلبی علاقے میں واقع اخبار کے دفتر کے باہر دہشت گردوں نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ 53 سالہ بخاری جنھوں نے قومی روزنامہ ’دی ہندو‘ کیلئے اسٹیٹ کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے کئی برس خدمات انجام دیں، انھیں شہر کے مرکزی علاقہ لال چوک کے پریس انکلیوو میں واقع اپنے دفتر سے نکل کر اپنی کار میں سوار ہوتے ہی گولیاں ماری گئیں۔ تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردوں نے آج شام سینئر جرنلسٹ اور اخبار ’رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر انچیف شجاعت بخاری کو پریس انکلیوو میں فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کیا ہے۔ انھیں اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملہ ہے۔ پولیس اس کیس کی انکوائری کررہی ہے اور اس سفاکانہ دہشت گردانہ حرکت کی مذمت کرتی ہے۔ بخاری کے پسماندگان میں اُن کی اہلیہ اور ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔ مقتول جرنلسٹ محبوبہ مفتی حکومت کے وزیر بشارت احمد بخاری کے بھائی تھے۔ شجاعت بخاری کے قتل پر جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت سے لے کر مرکزی حکومت نیز تمام سیاسی، غیرسیاسی و صحافتی حلقوں نے سخت مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ٹی وی چیانلس نے دکھایا کہ اظہار مذمت کے دوران چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، صدر کانگریس راہول گاندھی ، کشمیر کے علحدگی پسندوں اور کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے بھی شجاعت بخاری کے قتل پر اظہار مذمت کیا ہے۔

ایڈیٹر شجاعت بخاری کا قتل ، جناب زاہد علی خاں کا اظہارِ مذمت
آزادی صحافت غیرمحفوظ،کشمیر میں سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
حیدرآباد۔14جون(سیاست نیوز) ملک میںآزادیٔ صحافت غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے اور غیر سماجی عناصر انصاف پسند و بے باک صحافیو ںکو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے ایڈیٹر ’’رائزنگ کشمیر‘‘ جناب شجاعت بخاری کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جیسے علاقہ میں سیکیوریٹی کی موجودگی کے باوجود ایڈیٹر کو گولیوں سے نشانہ بنایا جانا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوںکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ رویہ کے سبب ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہونے لگی ہے جو آزاد صحافتی اداروں سے خائف رہتے ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے گوری لنکیش قتل مقدمہ کی تحقیقات اور صحافتی اداروں پر حکومت کے اثر انداز ہونے کی کوششوں کو ان واقعات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ صحافت پر لگائی جانے والی ضرب ملک کے جمہوری ڈھانچہ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔جمہوریت کے تحفظ کیلئے صحافتی اداروں کی آزادی کے تحفظ اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا ناگزیر ہے۔

TOPPOPULARRECENT