ایڈیٹر سیاست پر شخصی حملے ،الیکشن کمیشن کا سخت نوٹ، اکبراویسی کو نوٹس

بوگس رائے دہی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، جیل بھیجنے کا انتباہ ، ایک سے زائد ووٹ ڈالنا مہنگا پڑیگا
حیدرآباد ۔ 5 ڈسمبر (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن نے انتخابات کو شفاف و پرامن بنانے کیلئے سخت اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ بوگس رائے دہی پر روک لگانے کیلئے الیکشن کمیشن نے پولنگ مراکز پر چوکس میکانزم کو ترجیح دی ہے اور بوگس رائے دہی میں ملوث افراد کو جیل منتقل کرنے کے اقدامات کرلئے گئے ہیں۔ اس دوران الیکشن کمیشن نے چندرائن گٹہ امیدوار اکبرالدین اویسی کو مخالفین کے علاوہ اردو صحافت (سیاست) اور مدیر سیاست پر شخصی حملے کرنے کے خلاف سخت نوٹ لیا ہے۔ روزنامہ سیاست کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے سخت نوٹ لیتے ہوئے اکبر اویسی کو وجہ نمائی نوٹس روانہ کی ہے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے بوگس رائے دہی پر مکمل روک تھام کیلئے سخت اقدامات کرلئے ہیں اور کسی بھی شخص کی بوگس رائے دہی میں ملوث ہونے پر اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ رائے دہی مراکز پر موجودہ کیمرے خصوصی عملہ اور الیکٹرانک آلات کے ذریعہ رائے دہی مرکز میں داخلہ سے قبل ہی رائے دہندے کی شناخت کرلی جائے گی اور ایک سے زائد ووٹ ڈالنا اب کافی مہنگا اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ شہر میں رائے دہی کے پیش نظر حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے سخت گیر صیانتی انتظامات کو مکمل کرلیا گیا ہے اور پولیس نے اپنی ذمہ داری سنبھالی ہے اور انتخابات کے سلسلہ میں 518 چیک پوسٹ قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سٹی پولیس کی جانب سے 60 شاڈو ٹیموں کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے۔ اس دوران کمشنر آف پولیس حیدرآباد سٹی مسٹر انجنی کمار نے بتایا کہ انتخابات کے سلسلہ میں رائے دہی کے دن 17000 پولیس ملازمین کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن سے 100 میٹر کی دوری پر کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جائے گی اور پولیس بوتھ میں رائے دہندوں کو سیل فون لے جانے کی اجازت نہیں رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بارڈر سیکوریٹی فورس، ریاپڈ ایکشن فورس کے علاوہ کیرالا اور اترپردیش پولیس کی 22 کمپنیاں شہر پہنچ چکی ہیں۔ سٹی پولیس کی جانب سے شہر کے 14 اسمبلی حلقوں کے علاوہ دیگر چار حلقوں راجندر نگر، صنعت نگر، کوکٹ پلی اور شیرلنگم پلی حدود میں سخت چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3911 پولنگ اسٹیشن 1574 مقامات پر پائے جاتے ہیں جن میں 161 کی انتہائی حساس اور 334 کی حساس پولنگ اسٹیشن کی طرز پر شناخت کرلی گئی ہے۔ رائے دہی کے دن 17 اسپیشل ٹرائنکنگ فورس کو تیار رکھا گیا ہے جبکہ 12 مقامات پر شہر کے اندرونی حصہ میں چیک پوائنٹس قائم کئے جائیں گے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے ساتھ پرامن رائے دہی کو یقینی بنانے کیلئے 93 انٹر سیپٹنگ ٹیموں کو متحرک کیا جائے گا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق پرانے شہر کے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں سب سے زیادہ 170 حساس مقامات ہیں جبکہ چندرائن گٹہ میں 162 ہیں۔ چارمینار 162 ہیں۔ بہادرپورہ میں 131، جوبلی ہلز 103، عنبرپیٹ میں 78، ملک پیٹ میں 73، سکندرآباد کنٹونمنٹ میں 6، نامپلی میں 57، کاروان میں 55، خیرت آباد اور مشیرآباد میں فی کس 52 اور صنعت نگر اور گوشہ محل میں بالترتیب 44 اور سکندرآباد حلقہ میں 42 حساس پولنگ اسٹیشن پائے جاتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT