Friday , November 24 2017
Home / مضامین / ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا

ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا

محمد مصطفی علی سروری
خبریں ایک نہیں بے شمار ہیں ۔ کس خبر کو پڑھیں اور کس خبر کو نظر انداز کریں کس خبر کی خوشی منائیں اور کس خبر کا ماتم کریں ۔ سمجھ میں ہی نہیں آتا ۔ ایسی خبریں کم ہیں یا نہیں کے برابر  ہیں جن کی خوشی منائی جائیں اور ایسی خبریں زیادہ ہیں جس میں ہر خبر اپنی پچھلی خبر سے اس حوالے سے زیادہ سنگین بن جاتی ہے کہ ہر مرتبہ ایسے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن کے متعلق ہم بالکل ہی نہیں سوچتے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ کنہیا کمار نے جیل سے رہائی  کے بعد یونیورسٹی میں واپسی پر پون گھنٹے تک جو تقریر کی ہے وہ کئی خبروں پر بھاری پڑی ہے ۔ لیکن کنہیا کمار کی تقریر کو سن کر خوش ہونے والے تو بہت سارے ملے لیکن کتنے لوگ (ہندوستانی) ایسے تھے جنھوں نے کنہیا کمار کی تقریر کو سمجھا اور اس سے کچھ سبق سیکھا ۔ ان کی تعداد کا کوئی اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ جن لوگوں نے کنہیا کی تقریر کو سنا یا ٹی وی پر دیکھا کچھ ہی دنوں میں وہ اس کو بھولنے لگے ہیں ۔ کنہیا کمار کی تقریر کے علاوہ این ڈی ٹی وی کے رویش کمار نے کنہیا سے جو ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو لیا اس کو بھی لاکھوں لوگوں نے ٹیلی ویژن پر دیکھا ۔
اکثر لوگوں نے کنہیا کمار کو ایک نوجوان طالبعلم کے روپ میں دیکھا جو اپنی خراب معاشی حالات کے باوجود اپنی اعلی تعلیم کے لئے جے این یو میں پی ایچ ڈی کررہا ہے ؟
کنہیا کمار نے جو کچھ کہا وہی سب لوگوں نے سنا ۔ کنہیا کمار نے اچھی تقریر کی سب نے اس کی واہ واہ کی ۔ خوب تالیاں بجائی گئی ۔ کنہیا کمار کسی فرد واحد کا چہرہ نہیں ہے ۔ بلکہ ایک تحریک کی آواز ہے ۔ جی ہاں کنہیا کمار بایاں بازو کے طلباء تنظیم سے جڑا ہوا ہے ۔ نظریاتی طور پر کنہیا کمار کس تنظیم سے جڑا ہوا ہے اسکے متعلق جاننے کے لئے ہم نے اے آئی ایس ایف (AISF) کے قومی صدر سید ولی اللہ قادری سے بات کی ۔

وہ کہتے ہیں کہ کنہیا کمار نے اگر جے این یو میں اسٹوڈنٹ الیکشن جیتا ہے تو اس کے لئے اے آئی ایس ایف کے ان سبھی کارکنان کی محنت ہے جو برسوں سے جے این یو میں کام کررہے ہیں ۔ خاص طور پر راحیلہ پروین اس لئے بھی قابل ذکر ہے کہ جے این یو کے گذشتہ اسٹوڈنٹ الیکشن میں وہ صرف 100 ووٹوں سے صدر کا عہدہ ہار گئی تھی ۔
یہ AISF کونسی تنظیم ہے ؟ اس سوال کے جواب میں ولی اللہ قادری کہتے ہیں کہ یہ طلباء و نوجوانوں میں ذہن سازی کرنے والی وہ تنظیم ہے جو 1936 میں پریم نارائن بھارگو ، اشفاق نقوی اور ایم فاروقی جیسے لوگوںنے مل کر بنائی تھی ۔ اس وقت اس تنظیم کی بہت بڑی مشاورتی کونسل بھی تھی جس میں محمد علی جناح جیسے لوگ بھی شامل تھے ۔
جناح کے نام پر ہم نے تھوڑا سا ٹھٹھک کر سوال کیا تو ولی اللہ قادری نے بتایا کہ صرف جناح ہی نہیں AISF کی تنظیم سے اٹل بہاری واجپائی ، آئی کے گجرال اور موجودہ نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری بھی اپنے زمانہ طالبعلمی میں جڑے ہوئے تھے ۔
ولی قادری کے مطابق آج کنہیا کی تقریری صلاحیتوں اور اس کی بہترین سوچ پر سارے ملک کا میڈیا اپنی نظریں جمائے ہوئے ہے ۔ یہ سب دراصل تنظیم کی تربیت کا نتیجہ ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ میڈیا کبھی بھی AISF کو بائیں بازؤ کے نظریات کی تنظیم کہہ کر اس پر توجہ نہیں دیتا لیکن تنظیم کے پاس صرف ایک کنہیا نہیں بلکہ ایسے سینکڑں نوجوان طالبعلم ہیں جو ملک و قوم کی خراب حالت کو سدھارنے کے لئے کندھے سے کندھا ملا کر لڑنے تیار ہیں  ۔اور اپنی اپنی حیثیتوں میں جد و جہد کررہے ہیں۔
ولی قادری سے جب یہ پوچھا  گیا کہ آخر آپ کی تنظیم کتنی بڑی ہے اور ملک کی کتنی یونیورسٹیوں میں سرگرم عمل ہے ۔ اس سوال پر انھوں نے بتایا کہ ملک کی 22 یونیورسٹیوں میں اے آئی ایس ایف اپنا اچھا خاصا اثر رکھتی ہے اور ان میں سے کئی یونیورسٹیوں کے اسٹوڈنٹ یونین میں اسکے اراکین منتخب بھی ہوئے ہیں ۔ خود دارالحکومت دہلی میں جے این یو کے علاوہ دہلی یونیورسٹی سے ملحقہ دو کالجس میں AISF کافی سرگرم ہے ۔
ایک ایسے پس منظر میں جب ملک کی سیاسی جماعتیں مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر لوگوں کی تقسیم کررہی ہیں ، AISF جیسی تنظیم کے لئے کام کرنا کرنا آسان ہے ؟اس سوال کے جواب میں ولی اللہ قادری نے بتایا کہ آج ہندوستان میں ہر کوئی سیکولرازم کا نعرہ لگا رہا ہے ۔دعوی تو ہر جماعت کررہی ہے لیکن عملی اقدامات بالکل نہیں کے برابر ہیں ۔ ایسے میں ایک ایسی تنظیم کے لئے کام کرنا مشکل عمل ہے جو بائیں بازو کے نظریات کی علمبردار ہے اور جو مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر کام کرنے کی قائل نہیں ۔

ولی اللہ قادری سے ہم نے شخصی سوال کیا کہ وہ کچھ اپنے بارے میں بتائیں اور یہ بتائیں کہ وہ کس طرح AISF سے جڑے ؟ اس پر انہوںنے کہا کہ وہ ورنگل شہر کے رہنے والے ہیں انھوں نے 1999-00 کے دوران نیا مدرسہ اردو میڈیم اسکول سے دسویں کا امتحان کامیاب کیا ۔ اسلامیہ کالج ورنگل سے انٹر اور ڈگری کی تعلیم حاصل کی اور اسلامیہ کالج سے ڈگری کے کورس کے دوران ولی اللہ قادری پہلی مرتبہ AISF سے متعارف ہوئے ۔ اس حوالے سے وہ خود کہتے ہیں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب غریب طلبہ کو اسکالرشپ کے نام پر اول تو برائے نام اسکالرشپ (صرف 250 روپئے) ملتی تھی اور اس کے لئے بھی انھیں کافی پاپڑ بیلنے پڑتے تھے ۔
ضرورت مند طلبہ اس قدر پریشان رہتے تھے کہ اپنی کتابیں اور دیگر ضروریات کی تکمیل کے لئے مہینے دومہینے میں اپنا خون فروخت کرکے پیسے جمع کرتے تھے ۔ ولی قادری کے مطابق خود ان کے دوست ایسے تھے جو اسلامیہ کالج کے قریب میں واقع ایم جی ایم دواخانہ جاتے رہتے تھے ۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ یہ لوگ کوئی مریض نہیں بلکہ کچھ روپیوں کی خاطر اپنا خون بیچ کر پیسے لانے جاتے تھے ۔ خیر اس واقعے کے بعد وہ طلبہ کے مسائل کو لیکر کافی پریشان رہتے تھے اور طلبہ کے انہی مسائل کو لیکر وہ AISF سے رجوع ہوئے اور طلبہ کی تنظیم کی نمائندگی پر ہی 250 روپئے کی اسکالرشپ بڑھا کر دو ہزار پانچ سو روپئے کردی گئی اور تب سے ان کا AISF سے رشتہ جڑگیا اور پھر نومبر 2013 میں ولی اللہ قادری اسی تنظیم کے تین سال کے لئے صدر منتخب ہوئے ۔

AISF کے قومی صدر کے متعلق مزید دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ان کے والد ورنگل میں بیڑی کے پتے کے بڑے تاجر تھے ۔ سید احمد پاشا قادری اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ جب بقید حیات تھے مذہبی اور سماجی کاموں میں ہاتھ بٹاتے رہے ۔ انھوں نے اپنی زندگی میں ہی دو مساجد مسجد قادریہ اور مسجد ملتانیہ تعمیر کروائی ۔ نماز روزہ کے پابند اور متقی تھے ۔ انھوں نے ولی اللہ قادری کو ایک ہی نصیحت کی تھی کہ بیٹا جب بابری مسجد گرائی گئی تھی یا جب بھی مسلمانوں پر ملک میں بُرا وقت آیا تو مسلمانوں کے حق کے لئے سب سے پہلی آواز بایاں بازو کی جماعتوں نے ہی اٹھائی ۔ تم بھی بایاں بازو کی جماعتوں میں جارہے ہو لیکن میری وصیت ہے کہ تم اپنے مذہب کو ترک نہیں کرنا ۔ ولی اللہ قادری اپنے مذہب پر قائم ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان کا ہر فرد مذہب کی بنیادوں پر سیاسی جماعتوں کا انتخاب کرنے لگے تو سب سے بڑا مسئلہ اقلیتوں کو ہوگا ۔ اس لئے مذہب کے نام پر اور مذہب کی دہائی دے کر اپنی دکان چمکانے والوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔
ولی قادری کے الفاظ میں ہندوستان میں اصل جنگ مساویانہ حقوق کے لئے لڑی جارہی ہے ۔ لیڈر چاہے کسی بھی مذہب کا ہو تبدیلی صرف اس کی زندگی میں اور اس کے گھر والوں کی زندگی میں آتی ہے اور مذہب کے نام پر جذبات میں آکر ووٹ دینے والوں کو بدستور ہر روز ایک ہی فکر ستاتی ہے کہ ہمارا کیا ہوگا ؟ کیا سرکاری دفتر میں بغیر رشوت کے کام ہوجائے گا ؟ کیا ہمیں بھی اعلی تعلیم کے مواقع ملیں گے ۔ کیا ہمارے بچوں کو بھی روزگار ملے گا ۔ کیا دو وقت کی روٹی کے لئے ہمیں مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ تو ولی اللہ قادری سے ہوئی بات چیت تھی لیکن جب ہم کنہیا کمار کے سارے قضیہ کے بعد ملک بھر کی ان جامعات کا حال دیکھتے ہیں جہاں ہر طلبہ کو ہراساں کیا گیا تو پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی سے ملحقہ طلبہ اے بی وی پی کے ساتھ زمین پر اگر کوئی جنگ کررہی ہے (نظریاتی) تو وہ AISF جیسی بائیں بازو کی تنظیم ہی ہے ۔ ان کے علاوہ ایس ایف آئی کا نام بھی قابل ذکر ہے ۔ اخبار بزنس اسٹانڈرڈ میں 7 مارچ کو اے موہن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مودی حکومت کے وزراء ارون جیٹلی ، راج ناتھ سنگھ ، ایم وینکیا نائیڈو ، اننت کمار ، روی شنکر پرساد ، رادھا موہن سنگھ ، جے پی نڈا ، دھرمیندر پردھان اور پرکاش جاوڈیکر کے علاوہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے بھی اے بی وی پی سے اپنا کیریئر شروع کیا تھا ۔
AISF کے متعلق سی پی آئی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی کے بیان کے متعلق خبررساں ادارے پی ٹی آئی نے خبر دی کہ یہ وہ تنظیم ہے جس کا افتتاح خود جواہر لعل نہرو نے انجام دیا تھا اور 1936 میں اس وقت سبھاش چندر بوس نے اس اجلاس کی صدارت کی تھی  ۔اس پس منظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ ایک ایسی تنظیم تھی اور ہے جو طلبہ کی ذہنی سیاسی تربیت کا سامان کرتی ہے ۔ ولی اللہ قادری کل ہند صدر AISF کا یہ دعوی سچ ہی لگتا ہے کہ اس تنظیم میں صرف ایک کنہیا کمار ہی نہیں بلکہ ایسے سینکڑوں طلبہ ہیں جو کنہیا جیسی یا اس سے بھی بہترین صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ اب میں ان سوالوں کی طرف آتا ہوں جس کا جواب ملک کے مسلمانوں کو ڈھونڈنا ہوگا ۔

جن لوگوں کو کنہیا کمار کی تقریر اس کے سوالات اور حکومتی پالیسیوں پر اس کی تنقید اور اس کے بے باک نظریات اچھے لگے وہ اس بات کا جواب تلاش کریں کہ وہ کنہیا کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے کیا کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ فرقہ پرستوں کے منہ پر جس زور دار طریقے سے کنہیا کمار نے طمانچہ رسید کیا ہے گذشتہ دو برسوں کے دوران ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اور کوئی بھی نہیں کرسکا تھا ۔
کنہیا کمار نے تالی بجانے کے لئے تقریر نہیں کی ۔ وہ ہندوستانیوں کو عمل کی دعوت دے رہا ہے اگر فاشسٹوں کو شکست دینا ہے تو کیا کرنا ہے ، غریبوں کے مسائل کو حل کرنا ہے تو کیا کرنا ہے ، کرپشن سے نجات حاصل کرنا ہے تو کیا کرنا ہے ، یہ کوئی ایسی تقریر نہیں کہ سن کر خوش ہوا جائے ، دوسری اہم بات کنہیا کمار نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور صرف چند ہزار روپیوں میں اس کا گھر چلتا ہے ۔ لیکن اس کے عزائم بلند ہیں ۔ حوصلے جوان ہیں اور ارادے فولادی ہیں ۔
بقول مخدوم محی الدین
ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا
ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا
ہمیں اپنی توجہ صرف کنہیا پر مرکوز نہیں کرنی چاہئے بلکہ ہمارے لئے اس کی بات اور تنظیم بھی اہم ہونا چاہئے جس نے کنہیا کو نظریاتی طور پر تربیت کاسامان فراہم کیا ۔ ملک میں سیکولرازم کی لڑائی لڑنی ہے تو مذہب ، ذات پات اور علاقہ واریت کے خول سے باہر نکلنے کے لئے آمادہ رہنا ہوگا ۔ کیا ہم اس بات کے لئے تیار ہیں ۔ عملی طور پر ہم اپنا ووٹ اپنی مذہبی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے سب ان سارے تحفظات سے بالاتر ہو کر ووٹ دیں ۔ اللہ ہی خیر کرے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT