Thursday , July 19 2018
Home / اداریہ / ایک اور بینک گھوٹالہ

ایک اور بینک گھوٹالہ

گھوٹالے پر گھوٹالہ کررہے ہیں
مگر دامن پہ دھبّہ تک نہیں ہے
ایک اور بینک گھوٹالہ
ملک میں ایک اور بینک دھوکہ کا شکار ہوا ہے اور تقریبا 11,500 کروڑ روپئے کی خطیر رقومات کا خرد برد ہوا ہے ۔ حالانکہ یہ اسکام گذشتہ کئی برسوں سے چل رہا تھا لیکن اس کا پتہ چلانے میں خود بینک ‘ مالیاتی قوانین سے متعلق ادارے اور حکومت کی دوسری ایجنسیاں پوری طرح ناکام ہوگئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دھوکہ بازوں اور جعلسازوں نے ہندوستان میں بینکوں کو نشانہ بنانے کو انتہائی محفوظ سمجھ لیا ہے ۔ یہ لوگ ایسا کرتے ہیں اورپھر خاموشی کے ساتھ یا پھر حکام اور ذمہ داران سے ساز باز کرتے ہوئے ملک سے فرار ہوجاتے ہیں ۔ ان دھوکہ بازیوں اور جعلسازیوں کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ سب کچھ لوٹنے کے بعد خاموشی سے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور بیرونی ممالک میں پناہ حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔ گذشتہ مہینوں میں ایک بڑے تاجر وجئے ملیا ہندوستان میں بینکوں کو تقریبا 9000 کروڑ کا چونا لگانے کے بعد لندن فرار ہوگئے ۔ ملک کے ائرپورٹس پر معمولی جرائم کے مرتکب افراد کیلئے نوٹسیں جاری کی جاتی ہیں لیکن حکومتیں ایسا لگتا ہے کہ بڑے دھوکہ بازوں اور جعلسازوں کو فرار ہونے کا پورا موقع فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وجئے ملیا کے بعد پنجاب نیشنل بینک کو چونا لگانے والے معروف تاجر نیرو مودی بھی ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ نہ صرف نیرو بلکہ اس کی شریک حیات ‘ اس کے دوسرے رشتہ دار بھی چند کے فرق سے ہندوستان چھوڑ کر دوسرے ممالک کو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ یہ حکومتوں کی انتہاء درجہ کی ناکامی ہے ۔ ملک کے عوام اپنی محنت کی کمائی اور سرمایہ سے محروم کردئے جاتے ہیں اور حکومتیں قوانین کی آڑ میں ہی قوانین کی خلاف ورزیوں کی راست یا بالواسطہ طور پر حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔ دھوکہ باز اور جعلساز اپنا کام کرنے کے بعد فرار بھی ہوجاتے ہیں۔ سب سے زیادہ حیران کن بات تو یہ ہے کہ نیرو مودی ہندوستان میں لوٹ مچانے کے بعد سوئیٹزر لینڈ میں وزیر اعظم نریند رمودی کے ساتھ ایک کانفرنس کے موقع پر ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ تصاویر بھی بناتے ہیں اور انہیں دنیا بھر کے میڈیا کا سامنا کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں ہوتا ۔ یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد ملک میں قانون کے رکھوالوں کی نیند ٹوٹتی ہے اور وہ مقدمہ درج کروانے کی رسم نبھانے لگتے ہیں۔
ملک میں عوامی سرمایہ کا کوئی ذمہ دار نہیں رہ گیا ہے ۔ ہر کوئی انہیں لوٹنے میں مصروف ہے ۔ جہاں وجئے ملیا ہزاروں کروڑ کا قرض رکھ کر ملک سے فرار ہوگئے وہیں ملک کے کئی عوامی شعبہ کے بینکس ایسے ہیں جہاں ہزاروں کروڑ روپئے کے ایسے قرضہ جات موجود ہیں جو واپس نہیں ہو رہے ہیں اور حکومتیں خاموشی کے ساتھ ان قرضہ جات کو ختم کرتے ہوئے اس کا بوجھ بھی راست یا بالواسطہ طور پر عوام پر ہی منتقل کر رہی ہے ۔ سودے بازیاں بینک حکام کرتے ہیں ‘ سیاسی قائدین کرتے ہیں اور ذمہ دار ایگزیکیٹیوز ہوتے ہیں لیکن بوجھ عوام پر عائد کردیا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان کے عوام ان معاملات میں محض کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرتے ۔ مسلسل معاشی جھٹکوں کے باوجود عوام سوائے ایک دوسرے سے سوال کرنے کے کچھ نہیں کرتے ۔ حد تو یہ ہے کہ نفاذ قانون کی ایجنسیاں ‘ ملک کی وزارت فینانس یا پھر دوسرے ادارے بھی اس وقت تک کچھ نہیں کرتے جب تک دھوکہ باز اپنا کام پورا کرتے ہوئے کسی محفوظ مقام کو پرواز نہیں کرجاتے ۔ یہ ادارے حالانکہ ایسے ہیں جن کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشی معاملتوں اور لین دین پر نظر رکھیں۔ نیرو مودی کے خلاف معاشی خلاف ورزیوں کی کئی شکایات اورمقدمات ہیں۔ ان پر سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر اداروں کی نظر بھی تھی اور الزام تھا کہ وہ ہیروں کی تجارت میں کئی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اس کے باوجود بینک حکام کی ساز باز سے وہ ہزاروں کروڑ کا گھپلا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور انہیں ملک سے فرار ہوتے ہوئے بھی کوئی دیکھ نہیں پاتا ۔
ایسا نہیں ہے کہ نیرو مودی نے اچانک ہی یہ گھلا کیا ہو اور ان کی امیج کاروباری اعتبار سے اچھی رہی ہو۔ جس وقت سے وہ سرخیوں میں آئے ہیں اس وقت سے ہی ان کے خلاف کئی طرح کے الزامات ہیں۔ کئی مقدمات بھی زیر دوان ہیں ۔ ان کی سرگرمیوں اور دھوکہ بازوں سے دفتر وزیر اعظم کو بھی شکایت کی گئی تھی ۔ وزارت فینانس کے ذمہ داران بھی اس سے واقف ہیں اس کے باوجود بینک حکام ‘ دیگر اداروں اور ذمہ داروں نے نیرو مودی کی دھوکہ بازی سے سے آنکھیں موند لیں اور انہیں پورا موقع فراہم کیا گیا ۔ اس پر وزارت فینانس ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور خود دفتر وزیر اعظم کو بھی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کو ان کے پیسے کے تعلق سے جواب دینا چاہئے ۔ اس طرح بینکوں کو لوٹنے اور فرار ہوجانے کے واقعات رکنے چاہئیں ورنہ اس ملک میں عوامی شعبہ کے بینکوں کی اہمیت اور حیثیت دونوں ہی ختم ہوجائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT