Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / ایک اور خاتون صحافی نے ایم جے اکبر پر لگایا الزام ، تاحال ۱۶؍ خواتین جنسی استحصال کا الزام لگا چکی ہیں ۔

ایک اور خاتون صحافی نے ایم جے اکبر پر لگایا الزام ، تاحال ۱۶؍ خواتین جنسی استحصال کا الزام لگا چکی ہیں ۔

نئی دہلی : ایم جے اکبر نے بھلے ہی صحافی پریارمانی کے خلاف کریمنل ڈیفنشن کیس کردیا ہو لیکن خاتون صحافی ا ب ہار ماننے والی نہیں ہیں ۔ اب ایک اور خاتون نے ایم جے اکبر پر جنسی استحصال کا الزام لگا یا ہے ۔ اس خاتون کا نام تشتاپٹیل بتایاگیا ہے ۔ تشتا پٹیل نے بتایا کہ 1992لء میں ٹیلیگراف میں کام سیکھ رہی تھیں ۔ تب اکبر نے سیاست کے لئے صحافت چھوڑدی تھی او رکبھی کبھی کلکتہ کا سفر کیا کرتے تھے ۔ میر ے ایک سینئر نے پوچھا کہ کیا تم ایم جے اکبر سے ملنا چاہوگی ؟ میں نے کہا کہ ہا ں۔ میری ساتھی نے مجھے ایم جے اکبر سے ملاقات کیلئے لے کرگئیں ۔ اس کے بعد کسی طرح سے اکبر کو میرے گھر کا فون نمبر مل گیا ۔ انہوں نے ایک دن مجھے فون کر کے ہوٹل میں ملنے کے لئے کہا ۔

پہلے تو مجھے جانے کے لئے ڈر لگنے لگا تھا ۔ اسی خوف کا عالم میں میں ہوٹل پہنچی ۔ او رایم جے اکبر کے روم کے گھنٹی دبائی ۔او رکمرہ کا دروازہ کھلا ۔سامنے انڈر ویئر پہنے ایم جے اکبر کھڑے تھے ۔میں حیران دروازہ پر کھڑی تھی ۔ کیا ایک جوان لڑکی کو خوش ملاقا ت کرنے کا یہ کوئی طریقہ ہے ؟ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔1993ء میں حیدرآباد میں ایم جے اکبر دکن کرانیکل کے ایڈیٹر تھے ۔ میں وہاں سب ایڈیٹر تھی ۔اکبر کبھی کبھی وہاں آتے تھے ۔ایک بار وحیدرآباد آئے تو مجھے کچھ کام کی گفتگو کرنے لئے ہوٹل بلایا ۔مجھے کام زیادہ تھا اس لئے میں ہوٹل پہنچنے میں دیر لگ گئی ۔ میں جب ہوٹل پہنچی تو اکبر چائے پی رہے تھے ۔ میرے پہنچتے ہی وہ تاخیر سے آنے او رمیرے کام میں خرابیاں نکالتے ہوئے مجھ پر چلانے لگے ۔

میں کچھ بولنے کی کوشش کر پارہی تھی ۔ اچانک وہ اٹھے او رمجھے اپنی باہوں میں لے کر مجھے بوسہ دینے لگے ۔ اس وقت ان کے منہ سے چائے کی بو اور ان کی مونچھیں چبنے لگی جو مجھے آج بھی یاد ہے ۔پھرمیں ان کے چنگل سے نکل کر بھاگنے لگی او رایک آٹو رکشہ لے کر گھر آگئی ۔ میں تمام راستہ روتے ہوئے آئی تھی ۔ اگلے دن میں روز کے مطابق دفتر گئی ۔او راپنے کام مشغول ہوگئی ۔ اسی دوران وہاں اکبر آئے ۔ او رمجھے اپنے کیبن بلایا ۔ اکبر نے مجھے کہا کہ کل رات اچانک تم کہاں چلے گئی تھیں۔

اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ خاص بات کرنی ہے ۔ اس کیلئے انہوں نے مجھے کانفرنس ہال میں لے گئے جہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔ وہاں مجھے پکڑ کر مجھ سے بوس وکنار کرنے لگے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT