Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / ایک اور طاقت آزمائی

ایک اور طاقت آزمائی

طوفان نہیں، موجۂ طوفاں ہوں بہت ہے
دشمن کے لئے ولولہ ساماں ہوں بہت ہے
ایک اور طاقت آزمائی
الیکشن کمیشن کی جانب سے ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پروگرام کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ گجرات کیلئے بھی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ حالانکہ ابھی گجرات کی پولنگ کی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ واضح کردیا گیا ہے کہ یہاں 18 ڈسمبر سے قبل دو مراحل میں رائے دہی ہوگی جبکہ ہماچل پردیش میں 9 نومبر کو ایک مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ انتخابات کے شیڈول اور پروگرام کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس اور بی جے پی میں ایک بار پھر طاقت آزمائی کاسلسلہ شروع ہونے کو ہے ۔ ویسے تو دونوں ہی سیاسی جماعتیں پہلے ہی سے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی تھیں اور اپنی اپنی حکمت عملی بنا رہی تھیں ۔ خاص طور پر بی جے پی نے گجرات کیلئے بہت زیادہ کوششیں شروع کردی ہیں۔ بی جے پی گجرات میں گذشتہ تین معیادوں سے اقتدار پر ہے اور اس بار اسے سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ریاست میں نریندر مودی چیف منسٹر نہیں رہے ۔ مودی کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد عنان اقتدار آنندی بین پٹیل کو سونپی گئی تھیں لیکن جب وہ حالات کو بہتر انداز میں چلانے میں ناکام رہیں تو انہیں تبدیل کردیا گیا اور اب وجئے روپانی ریاست میں بی جے پی کے چیف منسٹر ہیں۔ جو آثار و قرائن ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کیلئے گجرات میں اپنا اقتدار برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا اسی لئے بی جے پی ابھی سے ریاست میں انتخابی تیاریوں میں جٹ گئی ہے ۔ امید کی جا رہی تھی کہ آج الیکشن کمیشن کی جانب سے گجرات کے انتخابات کی تواریخ کا بھی اعلان کردیا جائیگا تاہم کمیشن نے ہماچل پردیش میں تو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے لیکن ابھی گجرات پولنگ کی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ ضرور واضح کردیا گیا ہے کہ گجرات میں دو مراحل میں پولنگ ہوگی اور یہ پولنگ 18ڈسمبر سے پہلے کروائی جائیگی ۔ ہماچل پردیش میں ایک مرحلہ میں ووٹ ڈالے جائیں گے تاہم وہاں ووٹوں کی گنتی کو 18 ڈسمبر تک موقوف رکھا جائیگا تاکہ یہاں کے نتائج کا گجرات کے الیکشن پر کوئی راست یا بالواسطہ اثر نہ ہونے پائے ۔ اس طرح ہماچل پردیش میں رائے دہی کے ایک ماہ سے زیادہ وقت کے انتظار کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائیگا ۔
انتخابات کے شیڈول اور تواریخ سے قطع نظر یہ بات طئے ہے کہ ہماچل پردیش اور گجرات میں ایک بار پھر کانگریس اور بی جے پی کے مابین طاقت آزمائی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ بی جے پی کسی طرح ہماچل پردیش میں ویربھدرا سنگھ کی حکومت کو شکست دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کریگی اور اس سے زیادہ کوشش گجرات میں اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے کی جائیگی ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت ویر بھدرا سنگھ کی قیادت میں کام کر رہی ہے ۔ یہاں کانگریس کیلئے بھی حالات آسان نہیں ہوسکتے ۔ پارٹی یہاں اپنے اقتدار کو بچانے پر جہاں توجہ مرکوز کریگی وہیں اس سے زیادہ کوشش گجرات میں بی جے پی کو شکست دینے پر توجہ دی جائیگی ۔ دونوں جماعتوں کیلئے ایک بات اطمینان کا باعث ضرور ہوسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ گجرات اور ہماچل پردیش میں پولنگ کی تواریخ میں کافی فرق ہوسکتا ہے ۔ اس سے دونوں ہی جماعتوں کے قائدین کو ہر ریاست کیلئے علیحدہ حکمت عملی اختیار کرنے اور وہاں خاصا وقت دینے کا موقع مل سکتا ہے ۔ دونوں جماعتیں اب ایک دوسرے پر تنقیدوں میں ایک بار پھر تیزی اورشدت پیدا کردینگی اور ان تنقیدوں میں ایک بار پھر اخلاقات اور اقدار و اصولوں کی قربانیاں دی جائیں گی ۔ ایک بار پھر ان دونوں ہی ریاستوں میں جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو کمزور کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائیگی ۔ ابھی سے یہ اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں کہ دونوں ہی جماعتیں اپنی اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کی تیاریوں کا آغاز کرچکی ہیں۔
ویسے تو کسی بھی ریاست میں کسی بھی جماعت کی شکست یا دوسری کی کامیابی اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن جہاں تک گجرات کا سوال ہے وہاں اگر بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو اس سے اس کے حوصلے متاثر ہوسکتے ہیں اور سارے ملک پر اس کا اثر مرتب ہوسکتا ہے ۔ اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ گجرات پر زیادہ توجہ دئے ہوئے ہیں اور شائد اسی وجہ سے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی بھی مسلسل گجرات کے دورے کرنے لگے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کی طاقت آزمائی کس حد تک ہوگی ۔ وہ اپنی اپنی کامیابی کیلئے کیاکچھ کرینگے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے سے تاہم دونوں ہی جماعتوں کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT