Wednesday , August 22 2018
Home / مضامین / ایک خطرناک فتنہ

ایک خطرناک فتنہ

پہلی قسط

مولانا سید احمد ومیض ندوی
ہمارا شہر حیدرآبادجہاں علم وادب کا منبع اور دینی اداروں اورتحریکات کا مرکز ہے، وہیں ہر قسم کے فتنوں کی آماجگاہ بھی ہے، ایک طرف اگر اس شہر کی دینی خدمات کا ایک روشن باب ہے تو وہیں اس شہر میں گمراہ فرقوں، باطل نظریات اور گمراہ کن خیالات کی بھی خوب آبیاری ہوئی ہے، شاید ہی کوئی فتنہ ہو جس نے اس شہر فرخندہ بنیاد کو دستک نہ دی ہو، اور شاید ہی کوئی جادۂ حق سے ہٹا ہوا گروہ ہو جس کے ماننے والے یہاں نہ ملتے ہوں، ملک کے کسی بھی کونے میں جب کوئی فتنہ سر اٹھاتا ہے تو اس کی گونج حیدرآباد میں ضرورسنائی دیتی ہے، یہاں ہر باطل نظریہ کے لیے کھاد فراہم ہوجاتی ہے ،جس وقت دہلی میں جھوٹے مدعی مہدویت شکیل بن حنیف کا فتنہ سر اٹھایا تھا اس کی گونج حیدرآبادمیں بھی سنائی دی، ہمایوں نگر مسجد عزیزیہ جیسے تعلیم یافتہ لوگوں کے علاقہ میں چند نوجوان اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جب وہ شکیل بن حنیف کی دعوت دے رہے تھے، یہ تو اچھا ہوا بروقت ان کی سرکوبی کی گئی، اطلاعات سے سے پتہ چلا ہے کہ حیدرآباد میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاصی تعداد شکیل بن حنیف کے دام فریب میں آچکی ہے، امریکہ اور یورپ میں پھیلنے والے فتنۂ گوہرشاہی سے بھی یہاں بعض افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شہر حیدرآباد میں پنپ رہے مختلف فتنوں میں ایک فتنہ، فتنۂ انکار ِحدیث بھی ہے، جو عمل بالقرآن کے خوشنما غلاف میں اپنے پیر پھیلا رہا ہے، اس فتنہ سے متاثر افراد کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے، یہ فتنہ کس قدر جڑ پکڑتا جارہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ ہفتہ شہر کے ایک انتہائی قدیم اردوروز نامہ میں بڑے اہتمام سے انکار ِحدیث پر مشتمل مواد شائع کیا گیا ہے، اور نیچے سلسلہ جاری ہے درج کیا گیا ہے’’قرآن اور مسلمان‘‘ کے حسین عنوان سے نمایاں طور پر گول ڈبہ میں دئے گئے اس مضمون کا آغاز جس طرح کیا گیا ہے اس سے خود مضمون کی خطرناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، مضمون کا آغاز یوں کیا گیا ہے’’اگر حدیثیں دین کا جز ہوتیں تو کیارسول اللہ پر یہ فریضہ عائد نہیں ہوتا تھا کہ وہ دین کے اس حصہ کو بھی مستند طور پر مرتب کرکے امت کو دے کر جاتے؟ احادیث کے مجموعے حضورا کی وفات کے بعد بہت عرصہ بعد لوگوں نے انفرادی طور پر مرتب کئے تھے، کیا تم خیال کرسکتے ہو کہ رسو ل اللہ ا دین کے ایسے اہم حصہ کو اس طرح چھوڑ کر چلے جاتے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم ا کے نزدیک یہ حصہ دین کا جز تھا ہی نہیں، جو لوگ اب احادیث کو دین سمجھ رہے ہیں ان سے یہ سوال پوچھئے ان میں سے کوئی بھی اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے گا‘‘اس مختصر سے اقتباس کو بار بار پڑھئے اور پھر دیکھئے کہ یہ امت کو ذخیرۂ احادیث سے کاٹنے کی کتنی گہری سازش ہے، اس میں صاف کہاجارہا ہے کہ احادیث دین کا جز ہی نہیں ہیںاور ان کو دین سمجھنا سراسر غلطی ہے، یہ در اصل فتنۂ انکار ِحدیث کا شاخسانہ ہے، ذیل کے مضمون میں اس فتنہ کے اہم خدوخال پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ احادیث شریفہ کے دین کا جز ہونے پر شروع سے امت کا اجماع ہے اور احادیث کی حفاظت عہد ِرسالت ہی سے کی جاتی رہی ہے، نیز اس فتنہ کے آغاز اور اس کی شخصیات اور ان کے نظریات کا بھی مختصر جائزہ لیا گیا ہے:

اسلامی تعلیمات میں جامعیت اور ہمہ گیر یت احادیثِ رسول سے آئی ہے؛ اگر شریعتِ اسلامی سے احادیثِ رسول ا کو علیحدہ کرلیا جائے تو اسلامی تعلیمات کے ایک بڑے حصہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا؛ چونکہ دستورِ حیات کی حیثیت سے مکمل دین پر عمل نفس کے لیے شاق گذرتا ہے اس لیے شکوک وشبہات کے مریض اور خواہش نفس کے غلام ہمیشہ اس بات کے لیے کوشاں رہے کہ کسی نہ کسی عنوان سے ذخیرۂ احادیث سے دامن چھڑالیا جائے، حدیث سے بے نیازی یا انکارِ حدیث کا فتنہ آج کی نئی پیداوار نہیں ہے؛ بلکہ نبیٔ رحمت انے اپنی حیات ہی میں اس فتنہ کے ظہور کی پیشین گوئی فرمائی تھی؛ چنانچہ آپ کا ارشاد ہے ’’خبردار! عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ کسی شخص کو میری حدیث پہونچے گی وہ اپنے تخت پر (بے نیازی کے ساتھ) ٹیک لگائے بیٹھ کر اس کے جواب میں کہے گا کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے، ہم صرف اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھیں گے (کسی اور کے کلام کی ہمیں ضرورت نہیں) خبردار! (اچھی طرح سمجھ لو) مجھے کتاب اللہ دی گئی اس کے ساتھ اتنی ہی مقدار بھی دی گئی ہے (یعنی وحی متلو کے ساتھ وحی غیرمتلو بھی ہے) (ابوداؤد، ترمذی،مشکوٰۃ:۲۹)
انکارِ حدیث کی بنیاد سب سے پہلے فرقہ معتزلہ نے رکھی، اس فرقہ نے عقل کو شریعت کے تابع کرنے کے بجائے شریعت اور امورِ شرعیہ کو عقل کے تابع کردیا، اس فرقہ کے ظہور سے قبل پہلی صدی تک امت احادیث صحیحہ کو قابل حجت سمجھتی تھی، فتنہ انکار حدیث پہلی صدی کے بعد کی پیداوار ہے، اس سلسلہ میں مشہور محدث مولانا بدر عالم میرٹھی اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ترجمان السنۃ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’اسلام میں تقریباً پہلی صدی تک صحیح احادیث کو بلا تفصیل متفقہ طور پر حجت سمجھا جاتا تھا،حتی کہ معتزلہ کی ابتدا ہوئی، ان کے دماغوں پر عقل کا غلبہ تھا؛ انہوں نے حشرونشر رؤیت ِباری تعالیٰ صراط ومیزان اور اس قسم کی احادیث کو قابل تسلیم نہ سمجھا اور اپنے اس مزاجی فساد کی وجہ سے اخبار ِ متواترہ کے سوا بقیہ احادیث کا سرے سے انکار کردیا اور بہت سی قرآنی آیات جو اپنے وجدان کے خلاف دیکھا ترک کر ڈالیں‘‘ (ترجمان السنۃ: ۱/۹۲)

بقول علامہ ڈاکٹر خالد محمود: ’’واصل بن عطا پہلی صدی کے آخر میں ابھرا اور عقل کے ھتیاروں کی تیزی میں بہت سے ذخیرۂ حدیث کو کچلتے ہوئے آگے نکل گیا۔ ‘‘(آثارالحدیث: ۲/۴۰۳)
یہ حیرت انگیز بات ہے کہ دوسری صدی ہجری میں معتزلہ نے عقل کے غلبہ کے نتیجہ میں انکارِ حدیث کے جس فتنہ کی بنیاد رکھی تھی، تیرھویں صدی ہجری میں پھر یہ فتنہ دین کو عقل کے تابع کرنے کی اساس پہ ظہور پزیر ہوا، اس طرح تیرھویں صدی میں نیچری تحریک کا آغاز دراصل معتزلہ کی نشاۃ ثانیہ تھی، بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں یہ فتنہ برصغیر ہندوپاک میں سراٹھایا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہٗ تحریر فرماتے ہیں: ’’بیسویں صدی کے آغاز میں جب مسلمانوں پر مغربی اقوام کا سیاسی نظریاتی تسلط بڑھا تو کم علم مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو مغربی افکار سے بے حد مرعوب تھا وہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں ترقی بغیر تقلید مغرب کے حاصل نہیں ہوسکتی؛ لیکن اسلام کے بہت سے احکام اس کے راستہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اس لیے اس نے اسلام میں تحریف کا سلسلہ شروع کیا تاکہ اسے مغربی افکار کے مطابق بنایا جاسکے، اسی لیئے اس کو اہل تجدد کہا جاتا ہے، ہندوستان میں سرسیداحمد خان مصر میں طٰہٰ حسین ترکی میں ضیاء گو ک اس طبقہ کے بانی تھے، اس طبقہ کے مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے تھے جب تک کہ حدیث کو راستہ سے نہ ہٹایا جائے؛ کیونکہ احادیث میں زندگی کے ہرشعبہ سے متعلق ایسی مفصل ہدایات موجود ہیں جو مغربی افکار سے صراحۃً متصادم ہیں؛ چنانچہ اس طبقہ کے بعض افراد نے حدیث کو حجت ماننے سے انکار کیا، یہ آواز ہندوستان میں سب سے پہلے سرسیداحمد خان اور ان کے رفیق مولوی چراغ علی نے بلند کی لیکن انہوں نے انکارِ حدیث کے نظریہ کو علی الاعلان اور وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف نظر آئی اس کی صحت سے انکار کردیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو اور ساتھ ہی کہیںکہیں اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ احادیث موجودہ دور میں حجت نہیں ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ بعض مقامات پر مفید مطلب احادیث سے استدلال بھی کیا جاتا رہا، اس ذریعہ سے تجارتی سود کو حلال کیا گیا، معجزات کا انکار کیا گیا اور بہت سے مغربی نظریات کو سند جواز دی گئی ۔ (درسِ ترمذی: ۱/۲۶)
فتنہ انکارِ حدیث کو اس وقت قدرے تقویت ملی جب اس کی باگ ڈور مولوی عبداللہ چکڑالوی نے سنبھالی،یہ پہلا شخص تھا جس نے کھلے عام حدیث کا انکار کیا، مولوی عبداللہ چکڑالوی کس شدت کے ساتھ انکارِ حدیث کے نظریہ پر قائم رہا،اس کا اندازہ اس کی تفسیر ترجمۃ القرآن بآیات القرآن کے ان اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے، ایک جگہ لکھتا ہے: ’’کتاب اللہ کے مقابلہ میں انبیاء اور رسولوں کے اقوال وافعال یعنی احادیث قولی فعلی تقریری پیش کرنے کا مرض ایک قدیم مرض ہے‘‘ کسی جگہ سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ قرآن کریم کے ساتھ کوئی اور شیٔ رسول اللہ ا پر نازل ہوئی تھی؛ اگر کوئی شخص کسی مسئلہ میں قرآن کریم کے سوا کسی اور چیز سے دینِ اسلام میں حکم کرے گا تو وہ مطابق آیات مذکورہ بالا کا فر اور فاسق ہوجائے گا‘‘ (تفسیر ترجمۃ القرآن: ۴۲)
حدیث کے تعلق سے عبداللہ چکڑالوی کی یاوہ گوئی کا ایک اور نمونہ ملاحظہ کیجئے: ’’فی الحقیقت حدیث میں اس قدر لغویات ہزلیات اور دور ازکارباتیں مندرج ہیں کہ وہ اس کی شکل کو نہایت بدنما بناتی ہیں؛ لیکن واضعین حدیث نے یہ بڑی کاریگری کی کہ اس کو خاتم النبیین کی طرف منسوب کیا اور اس طرح اس کے بدشکل چہرہ پر سفید پاؤڈر ملادیا‘‘ (ترجمان الفرقان: ۱۰۹)
اس سے آگے بڑھ کر اس نے سرے سے حدیث کی حاجت ہی کا انکار کیا اور لکھا ’’قرآن مجید میں دینِ اسلام کی ہرایک چیز‘‘ من کل الوجوہ مفصل ومشرح طور پر بیان ہوگئی ہے تو اب وحی خفی یاحدیث کی کیا حاجت رہی؛ بلکہ اس کا ماننا اور دینِ اسلام میں اس پر عمل درآمد کرنا سراسرکفر وشرک اور ظلم وفسق ہے، مولوی عبداللہ چکڑالوی نے اہلِ قرآن کے نام سے ایک گروہ کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد انکار حدیث تھی، عبداللہ چکڑالوی کے بعد اسلم جیراج پوری نے اس فتنہ کو آگے بڑھایا، اسلم جیراج پوری متشدد منکر حدیث تھا، حدیث کے تعلق سے اس کے گمراہ کن عقائد کا اندازہ اس کی کی کتابوں کے چند اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے: ایک جگہ لکھتا ہے:

’’نہ حدیث پر ہمارا ایمان ہے اور نہ اس پر ایمان لانے کا ہمیں حکم دیا گیا، نہ حدیث کے راوی پر ہمارا ایمان ہے نہ اس پر ایمان لانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے؛ پھر یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ایسی غیر ایمانی اور غیریقینی چیز کو ہم قرآن کی طرح حجت مانیں (مقام حدیث، بحوالہ آثار الحدیث: ۱/۴۱۳)
اسلم جیراج پوری کے بعد نیاز فتح پوری میدان میں اترا، اس نے بھی انکارِ حدیث میں ہر طرح کی حدود کو پھلاند دیا؛ حتی کہ اس نے مسلمانوں کی تمام خرابیوں کا ذمہ دار حدیث کو ٹھرایا؛ چنانچہ وہ لکھتا ہے: ’’اگر مولویوں کی جماعت واقعی مسلمان ہے تو میں یقینا کافر ہوں اور اگر میں مسلمان ہوں تو یہ سب نامسلمان ہیں؛ کیونکہ ان کے نزدیک اسلام نام ہے صرف کورانہ تقلید کا اور تقلید بھی رسول واحکام رسول کی نہیں بلکہ بخاری ومسلم ومالک وغیرہ کی اور میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی کیفیت یقین کی اس وقت تک پیداہی نہیں ہوسکتی جب تک ہرشخص اپنی جگہ غور کر کے کسی نتیجہ پر نہ پہونچے قصہ مختصر یہ کہ اولین بیزاری اسلامی لٹریچر کی طرف سے مجھ میں احادیث نے پیدا کیا‘‘ (آثارالحدیث: ۲/۴۱۷)
منکرین حدیث کے حلقے میں ایک مشہورنام تمنا عمادی کاہے، اس نے دوسروں کے مقابلہ میں قدرے علمیت کا سہارا لیا؛ انکارِ حدیث کے لیے وضع حدیث کا سہارا لیا اور براہ ِ راست انکار کے بجائے ان روایتوں کو مسترد کردیا جو ان کی فہم میں خلاف قرآن ہیں، نیز ائمہ حدیث پر بے اعتمادی کا اظہار کیا؛ چنانچہ اس کے بقول وہی حدیث صحیح ہے جو قرآن سے قریب تر ہو اور باقی سب غلط ہے، چاہے ان کے راوی کتنے ہی ثقہ کیوں نہ ہوں اور وہ صحاح ستہ کی متفق علیہ حدیثیں بھی کیوں نہ ہوں اور وہ ایک حدیث جو قرآن سے قریب تر ہے اس کا راوی کیسا ہی مجروح کیوں نہ ہو اور وہ صحاح ستہ سے باہر ہی کی حدیث کیوں نہ ہو بلکہ شیعوں کی اصول کافی وغیرہ ہی کی حدیث کیوں نہ ہو؛ منکرین حدیث میں ایک نام ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا ہے، انہوں نے اپنی کتابوں ’’قرآن اور سلام‘‘،’’ جہانِ نو ‘‘وغیرہ میںشدت کے ساتھ انکارِ حدیث کانظریہ پیش کیا ہے؛ البتہ غلام احمد پرویز کے دور میں یہ فتنہ بامِ عروج کو پہونچا؛ اس نے انتہائی چابکدستی کے ساتھ اس فتنہ کو پروان چڑھایا، بقول علامہ خالد محمود:’’آپ کا اندازتصنیف کچھ زیادہ سلیقہ دار اور الجھا ہوا ہے جس میں جھانک کر اصل فتنے کی نشاندی کرنا واقعی ایک بڑا مشکل کام ہے آپ نے تفسیر مفہوم القرآن نو جلدوں میں تحریر کی ہے جو حسن عبارت اور حسن طباعت میں نفیس کتاب ہے؛ لیکن اس میں کس طرح اسلام کے مسلم نظریات سے کھیلا ہے اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انکارِ حدیث کا نظریہ پرویز صاحب کو کہاں تک اسلام سے دور لے گیا ہے‘‘ (آثارالحدیث: ۲/۴۲۲)
غلام احمد پرویز نے اس فتنہ کو مستقل تحریک اور مکتب فکر کی شکل دے دی انہوں نے اپنے کئی خیالات کی اشاعت کے لیے پاکستان میں اپنے سرکاری اثرورسوخ کا خوب استعمال کیا ، جدید تعلیم یافتہ لوگ کسی درجہ میں ان کے اردگرد جمع ہوگئے پرویز نے اپنے اس موقف پر ادبی انداز میں خاصا لٹریچر مہیا کیا ،پہلے اس خیال کے لوگوں کو چکڑالوی کہا جاتا تھا، اب انھیں پرویزی کہتے ہیں۔ (آثارالحدیث: ۲/۲۲۴) (باقی آئندہ)
Email: [email protected]

TOPPOPULARRECENT