Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / ایک رتبہ ایک وظیفہ اسکیم پر تنازعہ برقرار

ایک رتبہ ایک وظیفہ اسکیم پر تنازعہ برقرار

سابق فوجیوں نے حکومت کی پیشکش کو مسترد کردیا

نئی دہلی 5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج یہ اعلان کیا ہے کہ ایک رتبہ ایک وظیفہ کا دیرینہ مطالبہ قبول کرلیا گیا ہے لیکن سابق فوجیوں نے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ان کا 48 روزہ احتجاج جاری رہے گا۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے یہ اعلان کیاکہ حکومت نے او آر او پی اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ہر 5 سال میں ایک مرتبہ وظیفہ پر نظرثانی کی جائے گی۔ اس کے برخلاف سابق فوجیوں کا مطالبہ ہے کہ 2 سال میں ایک مرتبہ یہ نظرثانی ہونی چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک رتبہ ۔ ایک وظیفہ اسکیم کا اطلاق اگرچیکہ کیلنڈر سال 2013 ء سے ہوگا لیکن عمل آوری جولائی 2014 ء سے کیا جائے گا۔

تاہم انھوں نے یہ وضاحت کی کہ رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرنے والے سابق فوجی اسکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ حکومت نے اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار کو قطعیت دینے کے لئے ایک رکنی جوڈیشیل کمیٹی تشکیل دے گی جوکہ اندرون 6 ماہ اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ حکومت کے اس فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے احتجاجی سابق فوجیوں کے لیڈر میجر جنرل (ریٹائرڈ) ستبیر سنگھ نے کہاکہ اگرچیکہ وہ او آر او پی پر عمل آوری کے لئے حکومت کے ارادوں سے مطمئن نہیں لیکن اسکیم کے مجوزہ قواعد انھیں قابل قبول نہیں ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ایک رکنی جوڈیشیل کمیٹی کی تشکیل بھی ہمیں نامنظور ہے۔ میجر ستبیر سنگھ مختلف مسائل پر حکومت نے وضاحت طلبی کا اصرار کرتے ہوئے کہاکہ سابق فوجیوں کا احتجاج جاری رہے گا اور مستقبل کے لائحہ عمل کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT