Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / ایک رتبہ ۔ ایک وظیفہ اسکیم پر سابق فوجیوں کی ناراضگی برقرار

ایک رتبہ ۔ ایک وظیفہ اسکیم پر سابق فوجیوں کی ناراضگی برقرار

صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی ضیافت میں شرکت سے گریز
نئی دہلی۔/22ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) جنتر منتر نئی دہلی میں آج سابق فوجیوں کی جانب سے 1965کی جنگ میں کامیابی کا جشن منایا گیا ۔ اس موقع پر خوشی اور برہمی ، فکر و تردد کے ملے جلے جذبات دیکھے گئے۔ اگرچیکہ صدر جمہوریہ نے تاریخی یادگار تقریب میں سابق فوجیوں کو مدعو کیا تھا لیکن بیشتر افراد نے اپنے مطالبہ کے مطابق ایک رتبہ۔ ایک وظیفہ اسکیم پر عمل آوری سے حکومت کے انکار کے خلاف بائیکاٹ کردیا۔ صدر جمہوریہ نے کئی ایک جنگی سورماؤں کو تہنیت پیش کرنے کیلئے مدعو کیا تھا لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کردیا۔ راجپوت ریجمنٹ کے ریٹائرڈ کرنل راج دھنگرا نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اب 80سال کا ہوگیا ہوں لیکن ہنوز میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ دشمن کے خلاف لڑائی کیلئے محاذ پر جارہا ہوں۔ دھنگرا 1965ء کی جنگ کے دوران پونچھ سیکٹر میں ایک شیل پھٹ جانے سے شدید زخمی ہوگئے تھے تاہم حکومت جشن فتح منا رہی ہے لیکن جنگی سورماؤں کا ایک حلقہ اقل ترین وظیفہ پر زندگی گذار رہا ہے جن کا یہ احساس ہے کہ حکومت اپنے وعدہ سے مکر گئی ہے اور ایک رتبہ ۔ ایک وظیفہ اسکیم پر عمل نہیں کررہی ہے۔ ایک اور سابق فوجی کرنل کریتی جوشی پورہ جنہیں آج تہنیت کے موقع پر گلاب پیش کیا گیا تھا جنتر منتر پر دھرنا کے موقع پر او آر او پی کے مطالبہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور بتایا کہ حکومت نے ہمیں جو گلاب پیش کیا ہے وہ کانٹوں سے بھرا ہوا تھاہم کیونکر اسے قبول کرسکتے ہیں۔ مسٹر جوشی پورا حکومت کے معلنہ او آر او پی میں تفاوت کا تذکرہ کررہے تھے۔ ایک فوجی ونگ کمانڈر ونود نیب جنہوں نے 1965اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا تھا، صدر جمہوریہ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شرکت سے گریز کیا ہے

جبکہ صدر جمہوریہ مسلح افواج کے سپریم کمانلار ہوتے ہیں۔ مسٹر ونودنیب جو کہ ویر چکرا اور BAR ایوارڈ یافتہ ہیں کو1965ء کی جنگ میں ایک پاکستانی طیارہ کو مارگرایا تھا، اوآر او پی اسکیم سے حکومت کے انحراف کے خلاف آج کی تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ پاکستان کے خلاف جنگ میں فتح کی گولڈن جوبلی کے موقع پر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج راشٹر پتی بھون میں 1965ء کی جنگ کے سورماؤں کو چائے پر مدعو کیا تھا اگرچیکہ سابق فوجیوں کی کثیر تعداد نے ٹی پارٹی کا بائیکاٹ کردیا لیکن بعض فوجی عہدیداروں نے اپنے ارکان خاندان کے ساتھ شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT