Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / ایک سو سے زائد جرائم میں ملوث لیڈی ڈان ’ممی‘ کی گرفتاری

ایک سو سے زائد جرائم میں ملوث لیڈی ڈان ’ممی‘ کی گرفتاری

نئی دہلی۔ اپنے شوہر کے ساتھ 1980کے دہے میں بشیر ن آگرہ سے دہلی منتقل ہوئی تھی۔ جنوبی دہلی کے گویند پوری علاقے کے نوجیون کیمپ میں پناہ لینے کے بعد اپنی آمدنی کے ذرائع تلاش کرنے میں جٹ گئی تھی۔پھر اس جوڑے کی زندگی اس وقت جرائم میں ملوث ہوگئی جب یہ دیسی شراب کے دھندے میں اترے۔ آہستہ آہستہ شہر کے انڈر ورلڈ پر بشیرین کی گرفت مضبوط ہوتی گئی۔

کچھ سالوں بعد اٹھ بیٹوں کی ماں62سالہ بشیرین راجدھانی میں جرائم کی دنیاکی رانی بن گئی اور مبینہ طور پر قتل ‘ جبرا پیسہ وصولی ‘غیرمجاز قبضوں اور یہاں تک کہ پانی کی کالا بازاری کے کاموں کو برسرعام انجام دینے لگی۔

دہلی پولیس نے ہفتہ کے روز اعلان کیاکہ بشیرین عر ف ’ممی‘ کو اس کے گھر والوں کے ساتھ گرفتار کرلیاگیاہے ‘ جس پر 113مقدمات درج ہیں۔جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس رومیل بانیا نے کہاکہ ’’ خوفناک گینگسٹر کانا م بشیرین ہے جو لوگوں کو راستے سے ہٹانے کا کنٹراکٹ لیتی تھی

۔ستمبر2017میں ایک نوجوان کے قتل میں ملوث پائے جانے کی جانکاری پولیس کو ملنے کے بعد جنوری سے وہ فرار تھی۔ وہ جمعہ کے روز اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے سنگھم وہار ائی تھی جہا ں پر پولیس نے اس کو گرفتار کرلیا‘‘۔

ڈی سی پی نے کہاکہ بشیرین 60ہزار روپئے کے عوض ایک نوجوان کو قتل کرنے کا کنٹراکٹ متوفی کی سوتیلی بہن سے لیاتھا۔ کچھ دنوں بعد پولیس کو جنگل کے علاقے میں ایک مسخ شدہ اور جھلسی ہوئی نعش برآمد ہوئی۔بانیا نے کہاکہ ’’ جنوری 2018میں پولیس نے ایک نابالغ کو حراست میں لے کرتفتیش کی جس نے قتل میں بشیرین کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔

اس کے تین قریبی اکاش عرف اکی‘ وکاش عرف وکی‘ اور نیرج عرف جگی نے میراز کو نشہ کروایا اور پھر جنگل میں لے گئے جہاں پر بیلٹ سے اس کا گلا گھونٹا دیا۔علاوہ ازں نعش اور اس کے بقایاجات کو جنگل میں جلاد یا‘‘۔بشیرین اپنی گرفتاری سے بچنے کے لئے دہلی سے فرار ہوگئی تھی۔

وہ احمد آباد‘ الہ آباد‘ منی پور اور فیروز آباد میں اٹھ ماہ تک رہی۔ جب پولیس نے اس کی جائیداد پر ساکٹ کورٹ میں مقدمہ درج کرایا اور فیصلے پولیس کے حق میںآیاتو بشیرین شہر واپس تاکہ ایک حکمت عملی کو انجام دے سکے۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ بشیرین نے خود اپنے بیٹوں کو جرائم کی دنیا میں قدم جمانے کی ترغیب دی اور لوگوں میں اپنے نام کا خوف پیدا کرنے کے لئے ان کا استعمال کیا۔

اس نے سنگم وہار موسمی پانی کی کمی کے سبب ایک موقع دیکھا اور سرکاری واٹر باڈیز ‘ علاقے کے بورویل کو اپنے قبضے میں لینے کا منصوبہ بنالیا۔ وہ اور اس کے گھر والے علاقے میں واٹر ٹینکر مافیا بن گیا بالخصوص گرما کے موسم میں۔

اس سے اور اس جیسے دوسرو ں سے نمٹنے کے لئے پولیس نے 1999میں سنگم وہار کے اندر مہارشٹرا کنٹرول آف آرگنائزیٹ کرائم ایکٹ( ایم سی او سی اے) نافذ کردیا۔بانیا نے کہاکہ ’’ اپنے مجرم بیٹوں کی مدد سے علاقے میں بشیرین نے اپنا دبدبا قائم کرلیا۔

وہ اپنی ماں کے برتاؤ اور شخصیت سے کافی متاثر تھے۔ ان لوگوں نے علاقے کے پانی کے وسائل پر اپناقبضہ جمالیا اور آسانی سے ملنے والے پیسوں کے لئے پانی کی فروخت شروع کردی‘‘۔

افیسر نے کہاکہ شمیم عرف گونگا بشیرین کا سب سے خطرناک بیٹا ہے جس پرقتل ‘ اقدام قتل ‘ اغوا‘ آرمس ایکٹ‘ جبری وصولی ‘ ڈکیتی اور چوری کے 42مقدمات درج ہیں۔اس کے علاوہ دیگر بیٹے شیخ پر 15ولک پر 13فیصل پر 9 سنی خان پر 9‘ راہول خان پر 3اور سلمان پر دو کیس درج ہیں۔

ان کے علاوہ بشیرین کا ایک نابالغ بیٹا بھی ہے جس پر قتل اور جبری وصولی پر الزام ہے۔.

TOPPOPULARRECENT