Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک عورت کی تعلیم سارے خاندان کی تعلیم ، امریکہ میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ

ایک عورت کی تعلیم سارے خاندان کی تعلیم ، امریکہ میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ

جامعتہ المومنات کا مسلم عورت ہندوستانی ثقافت پر سمینار، مائیکل ملنس اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد /14 مارچ ( راست ) جناب مائیکل ملنس ( قونصل جنرل امریکن کونسلیٹ متعینہ حیدرآباد) نے جشن تاسیس جامتہ المومنات کے بضمن منعقدہ قومی سمینار بزبان عربی ، انگریزی بعنوان ’’ مسلم عورت ہندوستانی ثقافت‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہوتی ہے ۔ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہوتی ہے لیکن ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہوتی ہے ۔ خواتین کی تعلیم اس لئے بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنی گود میں پلنے والے بچے کی بہترین تربیت کرسکے ۔ صدر امریکہ نے بھی خواتین کی تعلیم کیلئے کئی سہولتیں فراہم کئے ہیں ۔انہوں نے جامعہ ہذا کے انتظامیہ اور طالبات کو مبارکباد دی ۔ جناب عابد رسول خان ( صدر نشین اقلیتی کمیشن تلنگانہ و آندھرا) نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم دینا بے حد ضروری ہے ۔ 50 سال پہلے اردو زبان تمام مذاہب میں بولی جاتی تھی لیکن آج اردو کا رواج صرف اور صرف مدارس کی وجہ سے برقرار ہے ۔ ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی نقشبندی نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ جامعہ 25 سال مکمل کر رہا ہے ۔ خواتین کو اسلام میں بیٹی ، بیوی ، ماں ، بہن ہر حیثیت سے مقام عطا کیا ہے۔ نظامت کے فرائض سید شاہ حامد حسین شطاری نے انجام دئے ۔ خطبہ استقبالیہ الحاج سید شاہ نورالحق قادری نے دیا۔ سرپرستی مولانا سید شاہ درویش محی الدین قادری مرتضی پاشاہ اور صدارت مفتی محمد حسن الدین نقشبندی نے کئے ۔ خیرمقدمی کلمات مفتیہ آمنہ عطا نے عطا کئے ۔ ڈاکٹر سید جہانگیر نے کہا کہ عربی زبان قرآن مجید کی زبان اور جنت میں بولی جانے والی زبان ہے ۔ عورتوں کو عربی زبان سیکھنا ضروری ہے۔ مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری جس طریقہ سے دین اسلام کو پروان چڑھانے میں مرد حضرات کے خدمات ہیں اسی طرح خواتین نے نمایاں خدمات انجام دیں ہیں۔ ڈاکٹر حافظ بشیر الحق قریشی نے کہا کہ بنی نوع انسان کے اولین افراد آدم حوا علیہماالسلام ہیں ۔ مرد اور عورت دونوں ایسی صنف ہیں جو ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہے ۔ دنیا میں ا سلام کی آمد سے جہالت کا خاتمہ ہوا ، علم کی روشنی پھیلی دنیا بدخلقی سے آزادی ہائی خوش خلقی سے آشنا ہوئی ۔ حضور ﷺ نے فرماے کہ میں دنیا میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں کے اخلاق کو سدھاروں جس سے لوگوں کے سلوک اور رویہ میں انقلاب پیدا ہو ۔ ڈاکٹر مفتی محمد مستان علی قادری نے اس سمینار کو منعقد کیا جو وقت اہم ترین ضرورت ہے۔ خواتین نے میڈیا میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔ میدان صحافت میں بھی خواتین بہت ساری عہدوں پر فائز ہے گذشتہ دو صدیوں میں میدان صحافت میں خواتین ہی بلند مقام حاصل کی ہیں اور ایسی مسلم خواتین بھی ہیں جنہیں ان کی خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا ۔ مولانا ڈاکٹر محمد ذوالفقار محی الدین صدیقی نے کہا اسلام میں عورت و مرد کو برابری عطا کی گئی ہے ۔ رضوانہ زرین نے کہا کہ اسلام سے قبل عورت کا کچھ مقام نہیں تھا ۔ لیکن جب اسلام آیا تو ہر روپ میں اسکو صحیح مقام عطا کیاگیا ۔ عورت کو میراث میں حصہ دار بنایا ۔ عورت پر کسی قسم کی معاشی بوجھ نہیں ڈالا خود اسکی معاشی ذمہ داری کا کفیل اگر وہ بیٹی ہے تو باپ پر اور اگر وہ بیوی ہے تو شوہر پر اور اگر دونوں نہ ہوتو قریبی رشتہ داروں پر اور یہ بھی نہ ہوتو بیت المال پر ڈالا ہے ۔ عورت کیلئے نکاح کی حد متعین کی، مفتیہ فرحت فاطمہ نے کہا کہ علم سے ہی آدمی اچھائی اور برائی میں فرق کرسکتا ہے اور علم سے ہی انسان حلال اور حرام کا امتیاز کرتا ہے اور اسی سے جہالت کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ محترمہ سیدہ تبسم نے انگریزی میں اپنا مقالہ سنایا ۔ ڈاکٹر مفتی محمد مستان علی قادری نے مہمانوں کا ا ستقبال کیا۔ حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کلمات تشکر ادا کئے ۔

TOPPOPULARRECENT