Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / ایک عہدہ ایک وظیفہ پر سرکاری فیصلہ مسترد، احتجاج میں شدت کا اعلان

ایک عہدہ ایک وظیفہ پر سرکاری فیصلہ مسترد، احتجاج میں شدت کا اعلان

نئی دہلی 4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ حکومت ممکن ہے کہ ایک رتبہ ۔ ایک وظیفہ اسکیم پر عمل درآمد کا اچانک اعلان کردے گی، سابق فوجیوں نے آج یہ اعادہ کیاکہ ان کے مطالبات کی تکمیل نہیں کی گئی تو جاریہ احتجاج میں شدت پیدا کردی جائے گی۔ میجر جنرل ستبیر سنگھ (ریٹائرڈ) صدرنشین انڈین ایکس سرویس مین موؤمنٹ نے بتایا کہ ہمیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حکومت بہت جلد او آر او پی پر عمل آوری کا یکطرفہ اعلان کرے گی۔ اگر یہ ہمارے شرائط و قواعد کے مطابق ہو تو خیرمقدم کیا جائے گا اور حکومت سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ لیکن حکومت کی مرضی کے مطابق یکطرفہ اعلان کیا گیا تو ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوگا اور مجبوراً احتجاجی تحریک میں شدت پیدا کردی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری جدوجہد کسی لیڈر، سیاسی پارٹی یا حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہمارے حقوق کی طلبی اور جائز مطالبات کے لئے ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ اطلاعات ہیکہ حکومت اسکیم کا اطلاق یکم جولائی سے کرنے والی ہے۔ لیکن ہم اُسے قبول نہیں کریں گے بلکہ یہ اطلاق یکم اپریل 2014 ء سے ہونا چاہئے اور پارلیمنٹ میں منظورہ قرارداد کے مطابق یکم اپریل سے بقایا جات ادا کئے جائیں اور ہر سال تدریجی اضافہ ادا نہیں کیا گیا تو یہ او آر او پی تصور نہیں کیا جائے گا ۔اگر حکومت راستہ بھٹکتی ہے تو ہم اُسے راہ راست پر لانے کی کوشش کریں گے جبکہ حکومت وظائف پر نظرثانی کیلئے دو سال کی مہلت طلب کرے گی تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT