Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کیلئے عنقریب اعلامیہ کی اجرائی

ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر تقررات کیلئے عنقریب اعلامیہ کی اجرائی

حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ حکومت ایک لاکھ سے زائد مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے بہت جلد اعلامیہ جاری کردے گی۔ اس طرح تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے طلبہ کو ملازمت کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بجٹ پر مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے ک

حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ حکومت ایک لاکھ سے زائد مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے بہت جلد اعلامیہ جاری کردے گی۔ اس طرح تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے طلبہ کو ملازمت کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بجٹ پر مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں طلبہ نے غیر معمولی حصہ ادا کیا ہے اور وہ تحریک میں سب سے آگے رہے لہذا حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کرے اور نئی ریاست سے انہوں نے جو توقعات وابستہ کی ہیں اسے پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں سے متعلق کمل نادھن کمیٹی کی رپورٹ حاصل ہونے کے بعد حکومت مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکمہ جات میں ملازمین کی تقسیم کا عمل ابھی جاری ہے اس کی تکمیل کے بعد مخلوعہ جائیدادوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلے گا اور حکومت بھرتی کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس میں 3726جائیدادوں پر بھرتی کیلئے حکومت نے منظوری دے دی ہے۔ اسی طرح 600انجینئرنگ اسٹاف کے تقرر کیلئے جلد ہی اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اردو میڈیم مدارس میں 1500 ٹیچرس کے تقررات کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کے وعدہ پر سنجیدہ ہے اور نظام تعلیم میں اصلاحات اور تبدیلیوں کے بعد ڈی ایس سی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو تقررات کے سلسلہ میں عمر کی حد میں رعایت دینے کا بھی تیقن دیا۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت برقی بحران سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کررہی ہے تاکہ برقی کے شعبہ میں تلنگانہ کو خود مکتفی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد تلنگانہ برقی کی قلت سے نجات حاصل کرلے گا اور عوام کو برقی کٹوتی سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوجا اور کرشنا پٹنم پراجکٹ سے تلنگانہ کو برقی کا جو حصہ ملنا چاہیئے اس میں آندھرا پردیش حکومت ناانصافی کررہی ہے۔ مرکز کی جانب سے تحریری ہدایت کے باوجود چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کو برقی کے حصہ سے محروم کررہے ہیں۔ برقی کی پیداوار اور سربراہی پر حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جاریہ ماہ کے اختتام کے بعد تلنگانہ میں برقی کی کوئی کٹوتی نہیں رہے گی، اگر کسی ناگزیر حالت میں کٹوتی کی ضرورت پیش آئے تو وہ معمولی نوعیت کی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبہ کو 2200تا 2500میگا واٹ برقی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016سے کسانوں کو صبح 9گھنٹے اور رات میں 6گھنٹے برقی سربراہ کی جائے گی۔ 2017ء کے اختتام تک تمام شعبوں کو 24گھنٹے برقی کی سربراہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سے تلنگانہ کے حصہ کے فنڈز کے حصول کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مرکزی حکومت کے فراخدلانہ تعاون کے ذریعہ حکومت کئی مسائل پر قابو پاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اپنے حق کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور ضرورت پڑنے پر تمام جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ وزیر اعظم اور نیتی آیوگ کے نائب صدرنشین اور مرکزی وزیر فینانس سے نمائندگی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کی ری انجینئرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ضرورت کے مطابق پراجکٹس کے ڈیزائن کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ آئندہ 15دنوں میں ہائی کورٹ کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقسیم کو روکنے کیلئے بعض طاقتیں سازشیں کررہی ہیں۔ مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑا سے تلنگانہ کے وکلاء نے ملاقات کی جس میں انہوں نے جلد تقسیم کا تیقن دیا۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کے ساتھ ہی ریاست کی تقسیم عملاً مکمل ہوجائے گی۔ وہ اس سلسلہ میں بہت جلد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کلیان جیوتی سین گپتا سے ملاقات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT