Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ایک لاکھ طلبہ کو پری میٹرک اسکالر شپس سے محرومی کا امکان

ایک لاکھ طلبہ کو پری میٹرک اسکالر شپس سے محرومی کا امکان

مرکزی حکومت کے ریاست واری نشانہ سے تلنگانہ و آندھرا پردیش پر منفی اثرات

مرکزی حکومت کے ریاست واری نشانہ سے تلنگانہ و آندھرا پردیش پر منفی اثرات
حیدرآباد۔/5فبروری، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی اسکالر شپ اسکیم کے سلسلہ میں ہر ریاست کو نشانہ مقرر کرنے کے سبب تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد طلبہ پری میٹرک اسکالر شپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی اُمور کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکالر شپ برائے 2014-15 کیلئے درخواستوں کی وصولی کا کام مکمل ہوگیا۔ تاہم پری میٹرک اسکالر شپ میں دونوں ریاستوں کو الاٹ کردہ نشانہ سے کہیں زیادہ درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پری میٹرک اسکالر شپ کیلئے تلنگانہ کا نشانہ 66789 مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایک لاکھ 11ہزار 887 طلبہ نے درخواست دی جبکہ تجدید کے سلسلہ میں ایک لاکھ 22ہزار 123 امیدواروں نے درخواست داخل کی ہے۔ تجدیدی درخواستوں کی مکمل یکسوئی کا امکان ہے تاہم فریش درخواستوں میں تقریباً 50ہزار طلبہ اسکالر شپس سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کی اہم وجہ مرکز کی جانب سے ہر ریاست کو اسکالر شپ کے ٹارگٹ کا مقرر کرنا ہے۔ پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مینس اسکالر شپ کے سلسلہ میں نشانہ کے مطابق درخواستیں وصول ہوتی ہیں۔ تلنگانہ میں فریش اور رینول کے تحت جملہ 2لاکھ 34ہزار درخواستیں داخل کی گئیں۔ پری میٹرک اسکالر شپ کیلئے آندھرا پردیش کا نشانہ 61389 ہے جبکہ ایک لاکھ 35ہزار 332 طلبہ نے درخواست داخل کی۔ رینول کے سلسلہ میں 80ہزار 886 امیدواروں نے تجدیدی فارم داخل کئے۔ دونوں زمروں میں جملہ 2لاکھ 16ہزار218درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ چونکہ مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالر شپ کے تحت رقم زیادہ ہے لہذا بڑی تعداد میں طلبہ اس کے لئے درخواستیں داخل کرتے ہیں۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتیں اس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ تمام درخواست گذاروں کو مرکزی اسکالر شپ منظور ہو اس کے لئے وزارت اقلیتی اُمور سے نمائندگی کی گئی۔ اگر مرکزی حکومت مقرر کردہ نشانہ کے مطابق اسکالر شپ کی رقم جاری کرنے پر مصر رہے تو دونوں ریاستوں کے تقریباً ایک لاکھ طلبہ اسکالر شپ سے محروم ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT