Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک لاکھ کروڑ روپئے کا ’ مشن حیدرآباد‘ کے سی آر کا پُرعزم منصوبہ

ایک لاکھ کروڑ روپئے کا ’ مشن حیدرآباد‘ کے سی آر کا پُرعزم منصوبہ

تاریخی شہر کو عالمی معیار کے مطابق ترقی دینے چیف منسٹر کی خصوصی توجہ ‘ دو سال میں ڈرینج ‘ برقی‘ آبرسانی ‘ ٹرانسپورٹ ‘ سڑکوں ‘ پلوں اور پارکوں کی نئی صورت گری
حیدرآباد ۔25ستمبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو آئندہ دو سال کے دوران ریاستی دارالحکومت حیدرآباد کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ ایک لاکھ کروڑ روپئے’’ مشن حیدرآباد ‘‘ پر خرچ کرتے ہوئے عالمی طرز کا انفراسٹرکچر اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہیں ۔ وزرا اور ارکان اسمبلی سے بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے حکومت کے دو باوقار اسکیمات مشین بھگیرتا اور مشین کاکتیہ کا آغاز کیا ہے ‘ جس پر کامیابی سے عمل آوری ہورہی ہے بلکہ اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں جس سے مطمئین ہونے کے بعد چیف منسٹر نے حیدرآباد کو عالمی طرز کے شہر میں تبدیل کرنے کیلئے اپنی ساری توجہ مرکوز کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ ریاست کے ہر گھر کو نلوں کے ذریعہ پینے کا پانی سربراہ کرنے کیلئے شروع کی گئی مشن بھگیرتا اسکیم آخری مراحل میں پہنچ گئی ہے ۔ اس اسکیم کی تکمیل کے بعد نئی اسکیم ’’ مشن حیدرآباد ‘‘ کا اعلان کئے جانے کی قوی امید ہے ۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر وزراء اور ان سے ملاقات کرنے والے چند ارکان اسمبلی سے بھی مشن حیدرآباد پراجکٹ پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اعلیٰ عہدیداروں کو روڈ میاپ تیار کرنے کی ہدایت دینے کا بھی علم ہوا ہے ۔40ہزار کروڑ کے مشن بھگیرتا گھر گھر پانی کی سربراہی اور 25ہزار کروڑ روپئے کے مشن کاکتیہ کے تحت ریاست میں 40ہزار تالابوں کا احیاء کیا گیا ہے جس سے نہ صرف زیرزمین پانی میں اضافہ ہوا اور کئی فاضل اراضیات کاشت کے قابل ہوئی ہیں اور توقع کے مطابق پراجکٹ کامیاب رہا ہے ۔ ملک کی کئی ریاستیں اس پراجکٹ کی تقلید کررہی ہیں ۔ ان دو پراجکٹس کی کامیابی سے چیف منسٹر کے سی آر بیحد مطمئن ہے اور ان کی نظر اب حیدرآباد پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ آبادی کے تناسب کے ساتھ حیدرآباد کے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ معمولی بارش سے سڑکیں جیل میں تبدیل ہورہی ہیں ‘ گھنٹوں ٹریفک جام ہورہی ہے ‘ حضور نظام کے دور میں بچھائی گئی ڈرینج پائپ لائن اب ناکارہ ہورہی ہے ۔ مناسب ڈرینج نظام کا فقدان ہے اس کے علاوہ سڑـوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ تمام چیزیں حیدرآباد کو عالمی مرکز بنانے میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں ۔د وسری جانب آبادی میں زبردست اضافہ ہورہا ہے ‘ حیدرآباد میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر حکومت خصوصی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ اس پراجکٹ کو یقینی بنانے کیلئے بیرون ممالک کے مالیاتی ادارے اور ہندوستانی بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ۔ مشن حیدرآباد پراجکٹ میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ میٹرو ٹرین کے پہلے مرحلہ کا نومبر میں آغاز ہوجائے گا ۔ میٹرو کے دوسرے مرحلے اور ایم ایم ٹی ایس کے توسیع کا پلان تیار ہوگیا ہے ۔ اس کے علاوہ اسٹریٹیجک روڈ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے تحت فلائی اوورس ‘ اسکائی ویز ‘ حیدرآباد کے مضافاتی شہروں کو جوڑنے کاونٹر میگنیٹ روڈ ‘ عصری بس بیز پارکنگ ‘ پبلک ٹائیلٹس تعمیر کئے جائیں گے ۔ سیاحتی مراکز کو پُرکشش اور بیرونی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے کیلئے اسٹالس ‘ اسٹار ہوٹلس ‘ بڑے سوپر مالس ‘ حسین ساگر کو خوبصورت بنانے کے اقدامات ‘ قدیم و تاریخی عمارتوں کا تحفظ ‘ اسی طرز کی چند نئی عمارتوں کی تعمیرات کی جائے گی ۔ کلچرل سنٹرس ‘ تھیم پارکس ‘ عصری ترکاری اور گوشت کی مارکٹس ‘ منی کمیونٹی ہالس ‘ ٹریفک کو بہتر بنانے کیلئے جنکشن کی ترقی وغیرہ شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT