Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک لاکھ 924 کروڑ روپئے کی ٹیکس وصولی کا نشانہ

ایک لاکھ 924 کروڑ روپئے کی ٹیکس وصولی کا نشانہ

ایکشن پلان تیار ہونے کے بعد چیف منسٹر کا وزرائے مال و فینانس کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : مالیاتی سال 2016-17 کے ابتدائی دو مہینوں میں مال کی وصولی اور آمدنی میں اضافہ سے مالیاتی بحران سے دوچار تلنگانہ ریاست کی حکومت کو بڑی تقویت ملی ہے ۔ فینانس ڈپارٹمنٹ نے جاریہ مالیاتی سال میں ریونیو ٹارگیٹ کی ایک سو فیصد سے زائد تکمیل کے لیے روڈ میاپ تیار کرنے کے مقصد سے ٹیکس وصولی کا اپنی نوعیت کا پہلا جائزہ لیا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت ایک لاکھ 924 کروڑ روپئے بطور مالگذاری وصول کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ ان میں ٹیکس غیر محاصلی ریونیو اور مرکزی حکومت کا حصہ شامل ہیں ۔ فینانس ڈپارٹمنٹ نے اسٹیٹ ٹیکس کے طور پر 54 ہزار 869 کروڑ غیر ٹیکس ریونیو کے بطور 17 ہزار 542 کروڑ روپئے اور گرانٹ ان ایڈ کے بطور 14 ہزار 557 کروڑ کی وصولی کا نشانہ رکھا ہے ۔ مزید یہ کہ مرکزی ٹیکس کے حصہ کے طور پر سال 2015-16 کے 13 ہزار 955 کروڑ روپئے وصول طلب ہیں ۔ حکومت نے نظر ثانی شدہ بجٹ میں ٹیکس وصول کے نصف نشانہ کی تکمیل کرلی ہے ۔ جملہ 79 ہزار 312 کروڑ روپئے ٹیکس وصولی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ اسٹیٹ میں رئیل اسٹیٹ میں نئی جان پڑنے کے بعد اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی وصولی میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اکسائز آمدنی میں 120 فیصد اضافہ ہوا ۔ لکثرری ٹیکس کی وصولی 36 فیصد اور سیلز ٹیکس کی وصولی 17 فیصد تک بڑھ گئی ۔ آمدنی کمانے والے محکمہ جات اکسائز و نشہ بندی اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کمرشیل ٹیکس ٹرانسپورٹ و کانکنی سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹیکسیس وصولی کے لیے اختیار کیے گئے موجودہ طریقہ کار سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور وصولی میں اضافہ کے لیے نئی تجاویز پیش کریں ۔ رپورٹس وصول ہونے کے بعد فینانس ڈپارٹمنٹ نشانوں کی تکمیل کے لیے ایکشن پلان تیار کرے گا ۔ اسٹڈی رپورٹ کی تیاری کے بعد توقع ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ وزیر فینانس ایٹالہ راجندر اور وزیر مال محمود علی کے ساتھ سرکردہ حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کی میٹنگ منعقد کریں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT