Tuesday , September 25 2018
Home / مضامین / ایک معصوم، فوجی بدفعلی کا شکار تو نہیں ہوگیا؟

ایک معصوم، فوجی بدفعلی کا شکار تو نہیں ہوگیا؟

ڈاکٹر مجید خان

ڈاکٹر مجید خان
حال ہی میں معصوم محمد مصطفی الدین کو زندہ جلادینے کے دل سوز واقعے کے بعد میں اس کی بابت غور و فکر کرنے لگا ۔ اخبارات میں جو تفصیلات آئی ہیں وہ صرف واقعہ بیانی کی حد تک محدود ہیں ۔ میں عوامی عدالت میں کچھ سوالات اٹھانا چاہوں گا جو اس معاملے پر بہتر طور پر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔ پولیس کی تحقیقات کے بعد خاطیوں کا پتہ چلایا جائے گا اور ان پر مقدمہ چلایا جائے گا ۔ چونکہ عینی شواہد موجود نہیں ہیں اور ساتھی فوجی جو اس واقعہ کے عینی شاہد ہوں گے وہ اپنے ساتھیوں کو بچانے کی ضرور کوشش کریں گے ۔ حقیقی انصاف ملے گا یا نہیں کہا نہیں جاسکتا ۔
اس واقعے کے دو پہلو سامنے آرہے ہیں ۔ ایک تو معصوم لڑکے کا فوجی احاطہ میں جلتے ہوئے پایا جانا اور دوسرا زیادہ اہم پہلو ہے بدفعلی کا الزام ۔ میں نے کئی مضامین میں جنسیات کی ایسی شیطانی حرکات کے تعلق سے لکھا ہے ۔ اس واقعہ کو اس زاویے سے بھی دیکھنا ضروری ہے ۔اخبارات میں اس کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی لئے بہتر ہوگا کہ ایک عوامی عدالت کا اہتمام کیا جائے اور ملٹری والوں سے اس تعلق سے سوالات کئے جائیں ۔ ظاہر ہے مقام حادثہ پر متعینہ فوجی اور انکے اعلی افسران تعاون نہیں کریں گے مگر عدالتی طریقے کی جرح پر کچھ اہم سراغ ملنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔

مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اجتماعی بدفعلی کا واقعہ ہے اور اگر ہے تو یہ جرم نِربھیا قانون کے تحت کیوں نہ آنا چاہئے اور اگر ایسا ہے تو اس کی سزا ، سزائے موت سے کم نہیں ہونی چاہئے ۔ اجتماعی عصمت ریزی اور پھر موت کے گھاٹ اتارنا چاہے وہ مرد کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ ، ایک ہی قانون کے تحت آنا چاہئے ۔ ہمارا سماج اس معاملے کو ہمیشہ راز میں رکھنے کی سازش میں نہ صرف ملوث رہا تھا بلکہ اب بھی ہے ۔

اب وقت آگیا ہے کہ اس پر بلاجھجک عوامی بحث ہونی چاہئے اور وہ تمام مقامات جہاں ایسے واقعات ہوتے ہیں ان پر کڑی نظر رکھنی چاہئے ۔ اس لڑکے نے بھی سنا ہے کہ مجسٹریٹ کو بیان دیتے ہوئے دو فوجیوں کے زبردستی تیل پھینک کر جلانے کی بات کہا تھا مگر بدفعلی کا ذکر نہیں کیا ۔ پوسٹ مارٹم میں بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہوگی اس لئے فرد جرم میں یہ اہم جز شامل نہیں ہوگا ۔ عوامی عدالت میں کھلے عام میڈیا کی مدد سے اس پر سیر حاصل بحث کی جاسکتی ہے جس طرح سے ایسے واقعات کی ماضی میں کی گئی اور اس کے بہترین نتائج بھی برآمد ہوئے ۔ جب سنندا تھرور پر کئی دنوں تک میڈیا میں بحث ہوسکتی ہے تو شیخ مصطفی یا غلام مجتبیٰ پر کیوں نہیں ، اسکا صحیح نام تو معلوم کیا جائے ، ہر اخبار الگ نام لکھ رہا ہے ۔ اگر موجودہ فوجی عہدیدار عوامی عدالت میں شرکت سے احتراز کریں تو مؤظف عہدیداروں اور انکے ماتحتین کو مدعو کیا جاسکتا ہے ۔ سوال سیدھا سادا ہے ۔ ہندوستانی افواج میں ہم جنس پرستی کتنی عام ہے اور کیا اس پر کوئی تحقیقات ہوتی ہیں ۔ کیا کوئی احتیاطی تدبیر اختیار کی جاتی ہے ۔ اسکے تدارک کیلئے کیا کوئی ملٹری کے احکام ہیں ۔ جہاں تک میری معلومات ہیں اس پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی گئی اور جس طرح سے برسوں سے بڑے بڑے عیسائی پادری اس قسم کی حرکات کرتے رہے اور بچتے رہے ۔ وہی حال ہندوستانی معاشرہ کا بھی ہے ۔ مگر اب ان بدکاریوں کو راز میں رکھنا ممکن نہیں ہے اسلئے یہ لوگ پکڑے جارہے ہیں ۔

مجھے ڈر ہیکہ اس کیس کو بھی صرف اقدام قتل کی حد تک محدود کیا جائے گا اور اہم تفصیلات کی تحقیقات نہیں ہوں گی ۔ ہندوستان ابھی اسکی گرفت میں آیا نہیں ہے ۔ اسی لئے عوامی عدالت کا قیام ناگزیر ہوگیا ہے ۔ اس سے سارے سماج کو فائدہ ہوگا اور معصوم لڑکے ایسے درندوں کی ہوس کے شکار نہ ہوں گے ۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ علت عام ہے ۔ بچے مجبور ہیں ۔ کسی سے شکایت کرنے کا انجام پریشان کن ہوسکتا ہے ۔ انکی خاموشی انکی نفسیاتی صحت کو متاثر کرتی ہے ۔ملٹری والوں سے ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اکثر اس عمر کے بچے ان سے ملا کرتے تھے ۔ میں جانتا ہوں کہ مہدی پٹنم کے اس ملٹری کیمپ پر 24 گھنٹے کا پہرہ رہتا ہے اور صرف اندر رہنے والے مقامی غیر فوجی لوگ اپنی شناخت بتانے کے بعد ہی داخل ہوسکتے ہیں ۔
ایسا محسوس ہوتا ہیکہ مقامی بچوں کی ملٹری والوں سے دوستی تھی ۔ اکثر ملٹری والے بغیر فیملی کے رہا کرتے ہیں اسلئے ان کی جنسی نیت پر شبہ واجبی ہے ۔ مگر اہم سوال جو یہاں پر اٹھتا ہے وہ یہ کہ بدفعلی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہوسکتا ۔ اس پر سے پردہ اب اٹھا ہے ۔ پولیس والے اور ملٹری والے اس پہلو کو نظر انداز کرینگے اسلئے کسی نہ کسی طرح سے اس کو فرد جرم میں شامل کروانا چاہئے ۔ صرف قانون داں حضرات ہی رہنمائی کرسکتے ہیں ۔ ممکن ہے اس لڑکے کے ساتھ پہ زبردستی کی گئی ہو اور جب وہ دوسروں کو بتانے کی دھمکی دیا ہو تو اس کو زندہ جلا دیا گیا ہو۔

اس تحقیقات کو وسیع کرنا چاہئے ۔ اس بستی کے تمام نوجوانوں کو اکٹھا کرنا چاہئے اور فرداً فرداً ان سے گفتگو کرنی ہوگی اور تفصیلات جاننے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کی روزمرہ کی مصروفیات اور تفریحات خاص طور سے ملٹری والوں کے ساتھ تعلقات کی تفتیش کی جانی چاہئے ۔ اس بچے کے دوستوں سے مل کر اس کی زندگی کی تفصیلات یعنی تعلیمی حالت وغیرہ معلوم کرنا چاہئے ۔ ان معلومات کے بعد فوجیوں سے پوچھ گچھ کرنی چاہئے ۔ ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی ملٹری پولیس ہی کے ذریعہ تحقیقات کروائیں گے مگر کھلے عام ان کو ایک سوالنامہ صرف ہم جنسی عادات کے تعلق سے دیا جاسکتا ہے ۔ اگر وہ نہ جواب دیں تو الکٹرانک میڈیا ہماری مدد کرسکتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ یہ ضرور ہوگا کہ ایسے ناپاک ارادے رکھنے والے لوگ چاہے وہ ملٹری والے ہوں ، پولیس والے یا اساتذہ چوکنا ہوجائیں گے ۔ طلباء کو ایسے اساتذہ سے بچانا ہمارا فرض ہے ۔اگر ایک عوامی مباحثہ اس واقعہ پر ہوجائے تو اس معاملے کو راز میں رکھنے کی سازش آشکار ہوجائے گی اور معصوم بچے اپنے آپ کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گے ۔

مصیبت تو یہ ہیکہ معصوم بچے ایسے شیطانی ہوس رکھنے والے بظاہر معتبر ، بااعتماد اور نیک شخصیات نظر آتی ہیں ، انکے جھانسے میں پھنس جاتے ہیں اور ان کی خواہش سے انکار کرنے کے موقف میں نہیں رہتے ۔ وہ لوگ تحفے تحائف بھی نچھاور کرتے ہیں یا اگر اساتذہ ہوں تو ضرورت سے زیادہ ہمدردی جتاتے ہیں اور بچوں کو رازداری کی قسم کھلوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
یہاں پر ایسا معلوم ہوتا ہیکہ یہ سلسلہ خاموشی سے کئی سال سے چلا آرہا ہے مگر یہ لڑکا ممکن ہے ان لوگوں کو دھمکی دیا ہوگا کہ وہ اس کی تشہیر کرے گا تو اس کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ حال ہی میں کوئی بریگیڈیئر مقامی لوگوں سے ملا ہے جیسا کہ ایک اخباری خبر تھی ان سے اس سلسلے میں ایک اور نشست کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ اس معاملے کو صرف قتل کی حد تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ انگریزی قومی چیانل اسکی صحیح تحقیقات کرسکتے ہیں ۔ اس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں لکھ سکتا ۔ ضمیر کو جگانا میرا کام ہے ۔ عوام اس پر غور نہ کریں تو یہ میری مجبوری ہے ۔ ایسا ہونے مت دیجئے کہ واقعہ آیا گیا ہوجائے ۔ اس کو زندہ رکھئے ۔

TOPPOPULARRECENT