Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / ایک مہینے میں 6700روہنگیائیوں کا قتل

ایک مہینے میں 6700روہنگیائیوں کا قتل

پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا
ڈاکٹرز ودآؤٹ باڈرز کی رپورٹ

لندن،14دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) میانمار میں مسلم اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اب دنیا بھرمیں واضح طور پر اجاگر ہونے لگے ہیں۔گزشتہ روز ایمنسٹی انٹر نیشنل نے راکھین میں مسلمانوں ،خاس طور سے مسلم خواتین کو کس طرح اذیتیں دی گئیں،ان کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئی۔یہ تمام رپورٹیں پیش کر کے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے میانمار کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی درخواست کی تھی۔اب عالمی طبی امدادی ادارے ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ‘کا کہنا ہے کہ میانمار میں اگست کے مہینے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک مہینے کے دوران کم از کم 6700 روہنگیا افراد کو قتل کیا گیا۔بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں سے کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد میانمار کی جانب سے سرکاری طور پر پیش کی گئی 400 کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ کا کہنا ہے کہ یہ ‘وسیع پیمانے پر پھیلنے والے تشدد کی واضح ترین علامت ہے ۔’میانمار کی فوج پرتشدد واقعات کا الزام ‘دہشت گردوں’ پر عائد کرتی ہے اور کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے ۔’ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز’ کا کہنا ہے کہ 647000 روہنگیا نے اگست سے بنگلہ دیش نقل مکانی کی ہے ۔طبی تنظیم کے سروے کے مطابق 25 اگست سے 24 ستمبر کے درمیان 9000 روہنگیا میانمار میں مارے گئے ۔’ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز’ کے مطابق محتاط ترین اندازوں کے مطابق کم از کم 6700 ہلاکتیں پرتشدد واقعات میں ہوئیں جن میں کم از کم پانچ سال سے کم عمر کے 730 بچے شامل ہیں۔اس سے قبل میانمار کی فوج کا کہنا تھا کہ تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے اور انھیں مسلمان دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی 25 اگست کو اس وقت شروع کی گئی تھی جب روہنگیا مسلح تنظیم اسرا نے 30 سے زائد پولیس چوکیوں پر حملے کیے ۔اندرونی تحقیقات کے مطابق نومبر نے میانمار کی فوج نے اس بحران کی ذمہ داری سے خود کو مبرا قرار دے دیا تھا۔فوج نے شہریوں کے قتل، دیہات کو نذر آتش کرنے ، خواتین اور لڑکیوں کی عصمت ریزی اور لوٹ مار میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔یہ دعوے بی بی سی نامہ نگاروں کی جانب سے دیکھے گئے شواہد کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے ۔ڈاکٹرز ود آوٹ باڈرز کے میڈیکل ڈائریکٹر سڈنی وونگ کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہم سامنے لے کر آئے وہ حیران کن ہے ، تعداد کے حوالے سے وہ لوگ جن کے خاندان کا کوئی فرد پرتشدد واقعات میں قتل ہوا، اور جس انداز میں انھیں قتل یا زخمی کیا گیا۔’ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 59 کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی، 15 فیصد کو جلایا گیا، سات فیصد کو زدوکوب کرکے ہلاک کیا اور دو فیصد بارودی سرنگ سے ہلاک ہوئے ۔خیال رہے کہ نومبر میں بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا تھا جس کے مطابق میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا جائے گا۔تاہم میانمار کے دارالحکومت نیپیدو میں طے پانے والے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT