Thursday , November 22 2018
Home / Top Stories / ایک پارٹی نے مجھے سو کروڑ کی پیشکش کی تھی ۔ کملاہاسن

ایک پارٹی نے مجھے سو کروڑ کی پیشکش کی تھی ۔ کملاہاسن

انڈین ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کے دوران مکل نیدھی مائم( ایم این ایم) لیڈر نے اپنے مستقبل کے پلان پر بات کی اور بتایا کہ وہ کیوں خود کو بڑی تبدیلی کا محرک سمجھ رہے ہیں۔
چینائی۔ پانچ دہوں تک فلموں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانے کے بعد اب ٹاملناڈو کی سیاست میں کملا ہاسن نے اپنے قدم رکھا ہے۔

انڈین ایکسپریس سے خصوصی بات چیت کے دوران مکل نیدھی مائم( ایم این ایم) لیڈر نے اپنے مستقبل کے پلان پر بات کی اور بتایا کہ وہ کیوں خود کو بڑی تبدیلی کا محرک سمجھ رہے ہیں۔
اب جبکہ ایم این ایم کے قیام کو ایک سو دن ہوگئے ہیں‘ آپ کے مطابق پارٹی کی اب تک کونسی بڑی کامیابیاں ہیں؟
حقیقت پسندی اور حاصل ہونے والی گول کی طرف ہماری نظر ہے۔ ایک عام پارٹی کے طور پر بنا ء کسی فنڈس کے ہم بہت کچھ کیاہے۔

اٹھ دیہاتو ں کی ہم نے شناخت کی جن میں سے ایک دو ہم کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ادیگاتھور کا ہم نے انتخابات کیا ہے کیونکہ وہ آسان موقع ہے‘ مگر میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ سی سماتھی جو 1996سے اس گاؤں کی نگرانی کررہے ہیں ‘ نے مجھ سے ملاقات کی اور ان کے لوگوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا جس میں برقی کی سربراہی سے لے پانی کی قلت بھی شامل ہے۔

بد عنوان انتظامیہ کے باوجود وہ اپنے لوگوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ان گرام پنچایت کا بھی انعقاد عمل میں لایا ہے۔ اگر پچیس سال قبل اس نظام کو موثر انداز میں استعمال کیاجاتا ‘ تو یہ اسمبلی سے زیادہ طاقتور ہوتا۔ اگر انہیں صحیح انداز میں ٹریننگ دی جاتی تو مذکورہ گرام سبھا کے نمائندے بہتر انداز میں کام کرتے اور شریک جمہوریت کو نافد کرتے ۔

مگر افسوس کہ کچھ گاؤں نے کبھی گرام سبھا نہیں دیکھا کیونکہ سیاست دانوں کے ہاتھوں شکار ہوئے ہیں۔

اگر لوگوں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو شروعات خود سے کرنے ہوگی۔ شہریوں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ طاقتور ہیں‘ ان کے اندر حکومت بنانے سے توڑنے کی قابلیت ہے۔آپ کسی پوسٹ آفس کی تلاش کرتے ہیں تو اس کا پتہ لگاتے ہیں۔

اسی طرح فارمیسی بھی تلاش کی جاتی ہے۔ مگر کتنے لوگ ٹی اے ایس ایم اے سی کے متعلق جانتے ہیں؟ ایک حکومت جس کو دیکھنے پر معلوم پڑتا ہے کوہ ان کے وسائل شراب کی تجارت پر صرف کررہی ہے۔جی ہاں سے اس ریونیو ملتا ہے‘ تو کیا؟ تو کیاان کا اگلا اقدام کوکین ہوگا؟

تو پھر کیا آپ کا پلان ریاست کو ٹی اے ایس ایم اے سی سے پاک کرنا ہے؟
اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو اس کو راتوں رات ختم کردیاجائے گاانسانی نفسیات سمجھ نہیں سکتے۔میں ایسا مافیا نہیں بنانا چاہتا تو سکریٹریٹ میں معاملے داری کرے۔میں ہر گاؤں میں بازآبادکاری کے مرکز قائم کرنا چاہتاہوں۔ٹی اے ایس ایم اے سی دوکانوں کو بند کرنا کبھی مسلئے کا حل نہیں ہوسکتا۔

ایم این ایم میں عوام کی شراکت داری کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
پہلا قدم سوال ہے‘ جب کہ وہ ہر وقت صحیح نہیں ہوتا۔ عوام کو لوگوں کے درمیان میں کلچرل بات چیت کا متواتر تبادلہ ضروری ہے۔

یہی وجہہ ہے کہ ہم نے عوام ہجوم سے فنڈنگ کے ذریعہ پیسہ جمع کرنے ک فیصلہ کیاہے۔یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعہ ایک پائیدار ماڈل کی تشکیل عمل میںآسکے اور پارٹی کے لئے فنڈاکٹھا کیاجاسکے۔

عوام سے پیسے لیں او راس کا حساب کتاب ان کے ہاتھ میں دیں۔ اور میں کسی کوہرگز خود مختار ہونے نہیں دونگا۔ یہ صرف عید کے موقع پر بریانی کھانے جیسا ہے۔میں ایک سال تک اسی سلسلے کو جاری رکھنا چاہتا ہوں۔

میں مانتا ہوں کہ ایک شخص کو مچھلی کی تعلیم دیں تاکہ وہ زندگی بھر کھاسکے۔ میں چاہتاہوں ایم این ایم میرے بعد بھی کام کرتی رہے۔
آپکے مداحوں کی بڑی تعداد کو کیا آپ پارٹی کی مضبوط بنیاد میں تبدیل کرنا کی کوشش کررہے ہیں؟۔یہ حکومت مجھے اسکولوں‘ کالجوں کا دورہ کرنے سے اور اسٹوڈنٹ سے رابطہ قائم کرنے سے روک رہی ہے۔ سیاست وہاں سے شرو ع ہوتی ہے۔

نوجوان سیاسی او رسماجی طور پر باشعورہوتے ہیں اور وہ نظام کے متعلق سوال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔جب جنس کی تعلیم اسکولس میں دی جاتی ہے تو سیاست میں کیوں نہیں؟میں اس لئے یہ نہیں کہہ رہاہوں کیونکہ میں ایک سیاست داں ہوں۔ میںآج وہ نہیں ہوتا جو ہوں اگر میں بطور طالب علم سیاست کا پردہ فاش نہیں کرتا۔میں ڈراویڈین تحریک سے متاثرہوا تھا‘ وہ شروعا ت تھی۔

ڈراویڈین تحریک کی سب سے بڑی ناکامی دراصل کیاہے؟
حقیقت میں اگر دیکھے تو کچھ نہیں ‘ میں نے 1967میں ایک پریشانی دیکھی اور سمجپا کہ ایک دور کی آمد ہے۔ ڈراویڈین تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب پیریر ‘ انا دورائی او رکروناندھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ وہ وقت کی ضرورت تھی۔

اس وقت کے لیڈران عوام ہجوم کے ساتھ تھے‘ او رچیزیں ان کے موافق ہورہی تھی۔تاہم تمام لیڈران کی ایک معیاد ہے اور یہ حقیقت ہے۔ کوئی بھی حکمرانی پورے وقت کے لئے دنیا میں نہیں رہی۔گاندھی کو 40کے دہے میںیہ خیال آیا کہ ایک بار آزادی مل جانے کے بعد ہمیں کانگریس کو بند کردینا چاہئے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو سلسلہ وار انقلاب کی ضرورت ہے۔قدیم او رناکافی کو موثر اور متحرک سے بدل دینا چاہئے۔ اگلے تین معیاد کے لئے چیف مستقبل چیف منسٹر انہیں دینے کے لئے لوگوں سے وعدہ کرنے سے مجھے سخت نفرت ہے۔

یہ اس لئے ہی ایم این ایم میں ہم مانتے ہیں کہ طویل عرصہ تک کوئی بھی پارٹی کے اعلی عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔ہم نے ایک کرسی پر بیٹھنے کے لئے پارٹی کی شروعات نہیں کی ہے۔ میں چاہتاہوں بناء کسی سمجھوتے کے لوگوں کے لئے بہتر کام کروں۔

ڈریوڈیم لفظ کیا ہے اس کا مطلب آپ جانتے ہیں؟ کیا یہ ایک نظریہ ‘ نسل ہے یا پھر جغرافیائی مقام ہے؟
یہ نسلی نظریاتی بیان ہے‘ جس کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔ اب ہمیں کیا ضرورت ہے کہ نیا سیاسی کلچرل تحریک ۔ دیگر الفاظ میں یہ منظم نظام جو کلچر اور نظام حکومت سے ہم آہنگ ہو۔

ٹاملناڈومیں ووٹ بینک ذات پر مبنی ہے ‘ وہ نہیں ہیں؟آپ اب بھی کہتے ہیں ناتو آپ مخالف ہندو ہیں او ر نہ ہی کسی مذہب کے خلاف ہیں؟
میرا یقین انسانیت نواز ی میں ہے۔ باقی تمام چیزیں انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں۔

سرگرم سیاست کا حصہ ہونے اورریاست بھر لیڈران سے ملاقات کے باوجود‘ وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں فل ٹائم سیاست نہیں ہوں۔اپنی جگہ کی قربانی دینے کی مجھ سے توقع نہ کریں۔

میرے اتوار کی میرے لئے مجھے ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ایمانداری سے کہہ رہاہوں ‘ پورا وقت یہاں کون دے رہا ہے؟کیا وزیراعظم؟ ( ہنسی) سیاسست دانوں کو معقول پیسے ادا کئے جاتے ہیں تو انہیں چوری کا ڈر نہیں رہتا۔

او رمیرے سے گاندھی جی جیسے توقع ہرگز نہ کریں۔ ا س بیمار ی کو ختم کرنا چاہئے۔مگر دوبارہ گاندھی سیاست میںآنا کوشش کرسکتے تھے کیونکہ وہ ایک دیوان کے بیٹے تھے۔ او روہی جواہرل لال نہرو او ربدھا۔ان میں سے کوئی بھی کمزور نہیں تھے۔

وہ بہتر حالات میں تھے۔ لوگوں کو مجھ جیسے کسی پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ اس کو انہو ں نے دیکھا ہے

مگر ناقدین کی تجویز کے طور پر آپ ایک ٹوئٹر کارکن سے زیادہ نہیں ہیں۔
ان سالوں میں نے صرف تنقیدیں دیکھی ہیں۔ ٹوئٹر تو حال ہی میںآیا ہے ‘ مگر تنقیدیں پہلے سے ہیں۔ جب میں غلط ہوتاہوں ‘ اس کو قبول کرتاہوں او رشرمندہ بھی رہتاہوں۔

یہاں تک میں اپنے اندر بہتری لانے کے لئے خود سے بھی اختلاف کرتاہوں۔صر ف بحث کے لئے میں کچھ بھی نہیں کہتا۔ میں جوکچھ کہتاہوں اس کے متعلق مانتا بھی ہوں۔ جب ہئے رام ریلیز ہوئی؟اس کے بعد میں سیاست داں تھا۔ دوبارہ نیاگان اور تھیوار جیسی فلم میں بناسکتا تھا۔مگر میں نے ہئے رام بنانے کا انتخاب کیا کیونکہ اس میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی عکاسی کرنے تھی

ویزل ایپ کے متعلق بات کرتے ہیں۔
یہ ایک اوزار ہے جس سے عہدیدار تک مسائل پہنچنے کی تمانعت ملتی ہے ‘ یہ صرف توجہہ مرکوز کرانے کا ذریعہ ہے ناکہ جادو کی چھڑی جس کے ذریعہ تمام مسائل ایک وقت میں ختم ہوجائیں۔ دھیرے دھیرے میں اس کو پارٹی کے لوگوں او رعوام کے درمیان رابطے کے عمل پر لاجانے کی سونچ رہے ہیں
رجنی کانت اور ایم این ایم کے درمیان میں مفاہمت کا کوئی امکان ہے۔

پہلے منشور منظرعام پر آجانے دیجئے ۔ کوئی بات کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

اگر ہائی کورٹ 18ایم ایل ایز کی رکنیت کو منسوخ کرتی ہے تو اور مذکورہ اٹھارہ سیٹوں پر دوبارہ الیکشن ہوتا ہے تو کیا آپ کی پارٹی الیکشن لڑے گی؟
فی الحال میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیو نکہ متحدہ طور پر پارٹی کا فیصلہ لیاجاتا ہے۔ میں اپنے لوگوں سے تبادلہ خیال اور مشاورات کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرونگا۔

آپ کیا سمجھتے ہیں یہ ہماری ریاست کو بدنام کرنے کے لئے مسائل کو دبایاجارہا ہے۔
بدعنوانی۔ اگر کوئی جیل سے شاپنگ کے لئے جاتا ہے او ریہ محض کچھ دنوں کے لئے سرخیوں میں رہتا ہے ۔

اس کے بعد مذکورہ مسلئے کو فرامو ش کردیاجاتا ہے۔ مجھے ایک سو کروڑ پیشکش ایک پارٹی کی طرف سے کی گئی مگر میں نے ان کے پاس جانے سے انکار کردیا۔ میں سمجھتاہوں کہ میں اپنے لوگوں سے فنڈ اکٹھا کرکے اپنے مدد خود کرسکتاہوں۔

TOPPOPULARRECENT