Tuesday , September 25 2018
Home / فیچر نیوز / ایک گردن ہماری ہے خنجر بہت

ایک گردن ہماری ہے خنجر بہت

رشیدالدین

رشیدالدین
جس طرح ملک کی سیاست اقدار اور اصولوں سے عاری ہوچکی ہے، اس کا اثر عام انتخابات کی مہم پر دیکھنے کو ملا۔ جس طرح آزادی کے بعد سے سیاسی جماعتوںاور قائدین کے معیار میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے، ٹھیک اسی طرح انتخابی مہم بھی تنزل کا شکار ہوگئی ۔ ترقی کے نام پر شروع ہوئی انتخابی مہم ذات پات، فرقہ ، برادری ، مندر اور مسجد جیسے مسائل پر ختم ہورہی ہے۔ اب جبکہ عام انتخابات کا صرف ایک آخری مرحلہ باقی رہ گیا ہے اور 41 لوک سبھا نشستوں کیلئے 12 مئی کو رائے دہی ہوگی۔ ترقی ، گجرات ماڈل اور کرپشن کے خاتمہ کے نام پر بی جے پی اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے مہم کا آغاز کیا تھا۔ رائے دہندوں کو دوسری جماعتوں نے بھی سبز باغ دکھائے اور روزگار ، ترقی اور غربت کے خاتمہ کے وعدے کئے گئے لیکن آخری مراحل میں شخصی حملے، اشتعال انگیز تقاریر اور مذہب کے استعمال کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔ آخری مرحلہ کی رائے دہی تک قائدین کی زبانیں بے لگام ہوگئیں۔

ایک دوسرے پر شخصی حملے روزانہ کا معمول بن گئے۔ اتنا ہی نہیں الیکشن کمیشن کی اتھاریٹی کو بھی چیلنج کیا جانے لگا۔ الیکشن کمیشن جو اس طرح کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتا ہے، آخر کار اسے بھی ہتھیار ڈال دینا پڑا کیونکہ اسے آزادانہ و منصفانہ رائے دہی پر توجہ مرکوز کرنی تھی۔ اگر الیکشن کمیشن پارٹیوں اور قائدین کے خلاف کارروائی کی ٹھان لیتا تو بیشتر اسٹار کمپینرس میدان سے باہر ہوجاتے۔ ترقی سے شروع ہونے والی مہم کا تنزل پر اختتام پارلیمانی جمہوریت کیلئے اچھی علامت نہیں۔ وزارت عظمی کے بی جے پی امیدوار نریندر مودی نے تو ضابطہ اخلاق کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے فرقہ پرستی کے اپنے ایجنڈہ کا آخر کار اظہار کردیا۔ انہوں نے سیاسی مقصد براری کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ آخری مراحل میں انہوں نے جب یہ محسوس کرلیا کہ پارٹی کا موقف کمزور ہے تو رام مندر اور نچلی ذات سے اپنے تعلق کا سہارا لے لیا۔

حالانکہ ابھی تک یہ طئے نہیں ہوسکا کہ واقعی نریندر مودی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیض آباد کی ریالی میں اسٹیج پر لارڈ رام اور رام مندر کی تصاویر نمایاں تھیں حالانکہ مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا اور ووٹ کے لئے مذہبی علامتوں کا استعمال کرنا انتخابی قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پرینکا گاندھی نے جب مودی پر نچلی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا تو اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے مودی نے نچلے طبقات کی توہین سے جوڑ دیا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے خود کو پسماندہ طبقات کی صف میں کھڑا کرتے ہوئے دلتوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مودی کا تعلق اعلیٰ طبقات سے ہے۔ دلت کارڈ استعمال کرنے کی کوشش پر مایاوتی بھڑک اٹھیں اور انہوں نے مودی سے ان کی کاسٹ کے بارے میں سوال کر ڈالا جس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران الیکشن کمیشن کی اتھاریٹی کو کئی قائدین نے چیلنج کیا جبکہ وہ ایک دستوری اور آزاد ادارہ ہے۔ وارانسی میں جہاں سے مودی کو عام آدمی پارٹی کے اروند کجریوال سے سخت مقابلہ درپیش ہے، وہاں فرقہ وارانہ حساس علاقہ میں حکام نے ریالی کی اجازت نہیں دی، جس پر بی جے پی نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس مسئلہ پر الیکشن کمیشن کو جس انداز سے چیلنج کیا گیا، اس سے بی جے پی کے رویہ میں فاشزم کی بو آرہی تھی۔ گجرات کے تیسری مرتبہ چیف منسٹر رہنے والے اور وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کیا نہیں جانتے کہ امن و ضبط اور فر قہ وارانہ ہم آہنگی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ چاہے شخصیت کتنی بڑی کیوں نہ ہو نظم و نسق کی اولین ترجیح امن و ضبط کی برقراری ہونی چاہئے ۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو دوسروں کیلئے رول ماڈل ہونا چاہئے۔ برخلاف اس کے انہوں نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال کرتے ہوئے اسے مشکوک کرنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل نریندر مودی کو ریالی کی عدم اجازت سے ایک موضوع ہاتھ لگ گیا۔ انہیں اسی طرح کے موقع کی تلاش تھی تاکہ وارانسی میں یقینی شکست کو کامیابی میں تبدیل کیا جاسکے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مودی کو وارانسی سے شکست ہوگی تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ قوم نے انہیں وزیراعظم کے طور پر مسترد کردیا۔ گجرات کے بڑودہ سے کامیابی اس بات کا مظہر ہوگی کہ عوام مودی کو گجرات کے چیف منسٹر کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح عوام مودی کے مقام کا تعین کردیں گے۔

وارانسی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے انٹلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک حساس علاقہ میں ریالی کی اجازت نہیں دی جبکہ دوسرے علاقوں میں اجازت دیدی گئی۔ مقامی صورتحال کو نظم و نسق سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے حساس علاقہ میں ریالی کے اہتمام کی کیا ضرورت تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹ حاصل کرنے کیلئے بی جے پی نے اس علاقہ کا انتخاب کیا تھا لیکن حکام کے انکار سے پارٹی کی امیدوں پر پانی پھرگیا۔ اس صورتحال کا سیاسی استحصال کرنے کیلئے دہلی سے وارانسی تک احتجاجی پروگرام منظم کئے گئے ۔ دہلی میں الیکشن کمیشن کے روبرو اور وارانسی میں دھرنا منظم کرتے ہوئے سارے ملک کی توجہ بٹورنے کی کوشش کی گئی۔ ملک کا میڈیا تو پہلے ہی سے اس کام کے لئے تیار تھا لہذا دن بھر الیکٹرانک میڈیا پر مودی اور بی جے پی چھائی رہی۔ الیکشن حکام کے فیصلہ کی آڑ میں ملک بھر میں ہمدردی کی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جہاں تک اصولی موقف کا سوال ہے، امن و ضبط کی برقراری حکومت کی ذمہ داری ہے اور تمام امیدواروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہئے لیکن مقامی صورتحال کو پیش نظر رکھنا ضلع حکام کی ذمہ داری ہے۔

ریالی کی اجازت نہ ملنے کے نام پر دہلی سے وارانسی تک بی جے پی نے جو ڈرامہ بازی کی ، اسے دیکھ کر شبہ ہورہا تھا کہ کہیں بی جے پی سے ساز باز کے ذریعہ تو یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تاکہ وارانسی اور دیگر 40 لوک سبھا حلقوں میں پارٹی کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ دیگر سرکاری اداروں کی طرح الیکشن کمیشن میں بھی بی جے پی کے ہمدرد موجود ہیں جو اعلیٰ عہدیداروں کو غلط مشوروں کے ذریعہ بی جے پی کی خدمت اور مودی کی مقبولیت میں اضافہ کا سامان کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہیکہ اگر مودی کو ریالی کی اجازت دیدی جاتی تو ان کی اس قدر تشہیر نہ ہوتی جس طرح اجازت سے انکار کے سبب ہوئی ہے۔ مودی نے اس طرح رائے دہی والے باقی 40 حلقوں میں بھی بالواسطہ طور پر مہم چلائی ۔ بی جے پی کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ابتدائی مراحل میں ترقی کے نعرہ کا رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ لہذا آخری مراحل میں وہ روایتی جارحانہ فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر واپس ہوگئی ۔ وارانسی میں اروند کجریوال کو عوامی تائید سے گھبراکر ہوسکتا ہے کہ عہدیداروں کی ملی بھگت سے یہ ڈرامہ رچا گیا تاکہ مودی کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ ناانصافی کے نام پر ہمدردی کو ووٹ میں تبدیل کرنا بی جے پی کا مقصد تھا۔ الغرض نظم و نسق میں موجود مودی کے آلہ کار نے وہ کر دکھایا جو کہ مودی باقاعدہ ریالی کے ذریعہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بنارس میں حکام کی اجازت کے بغیر کئی گھنٹوں تک روڈ شو جاری رہا اور قومی بکاؤ چیانلس نے اسے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔ اس طرح مفت میں مودی کی پبلسٹی ہوگئی۔ بہتر تو یہی تھا کہ حکام ریالی کی اجازت دیتے۔ قومی الیکٹرانک میڈیا میں مودی کی مہم کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا نے نتائج سے قبل ہی مودی کو وزیر اعظم قبول کرلیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے مختلف چیانلس پر مودی کو وزیراعظم کی حیثیت سے پراجکٹ کیا جارہا ہے ۔ میڈیا نے مودی برانڈ کی خوب مارکیٹنگ کی جو کہ پیڈ پبلسٹی کا حصہ بھی ہوسکتی ہے۔ ایک خانگی ادارہ کے سروے نے پانچ قومی چیانلس کی غیر جانبداری کے دعوے کو بے نقاب کردیا ہے۔ ہندی اور انگریزی کے بڑے نیوز چیانلس پر یکم مارچ تا 30 اپریل رات 8 تا 10 بجے پرائم ٹائم میں قائدین کے کوریج کا جائزہ لیا گیا اور ٹاپ 10 قائدین کی فہرست تیار کی گئی۔

اس فہرست میں نریندر مودی 33.2 فیصد کوریج کے ساتھ سرفہرست رہے۔ انہیں چیانلس پر 2575 منٹ دکھایا گیا جبکہ اروند کجریوال 799 منٹ کوریج اور 10.3 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ راہول گاندھی کو 4.3 فیصد (336 ) منٹ کے ساتھ تیسرا مقام ملا۔ پرینکا گاندھی 2.2 فیصد (171 منٹ) اور سونیا گاندھی 2 فیصد (156 منٹ) کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہیں۔ اس رپورٹ سے مودی کا ’’میڈیا شو بوائے‘‘ ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ وارانسی میں مسلم رائے دہندوں کے فیصلہ کن موقف کو دیکھتے ہوئے سنگھ پریوار نے بعض کرایہ کی تنظیموں کے سہارے مسلمانوں تک رسائی کی کوشش کی۔ آر ایس ایس کے متنازعہ لیڈر اندریش گپتا جو بم دھماکوں کے ملزم ہیں، انہوں نے مودی کیلئے مسلم خواتین میں مہم چلائی ۔ اتنا ہی نہیں سبھاش چندر بوس کے قریبی ساتھی اور آزاد ہند فوج کے کرنل نظام الدین کو اسٹیج پر بلاکر مودی نے پیر چھوئے اور آشیرواد حاصل کیا۔ اپنے سیاسی کیریئر میں مودی نے شاید پہلی مرتبہ کسی مسلمان کے پیر چھوئے ہوں گے۔ وارانسی میں مسلم ووٹ کی ا ہمیت کو دیکھتے ہوئے انہیں آخر کار مسلمان کے آگے جھکنا ہی پڑا۔ اس سے قبل گجرات میں سدبھاونا کیمپ میں انہوں نے مسلمانوں سے ٹوپی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کا مظاہرہ کرنے والے مودی نے مغربی بنگال میں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مسلمانوں کی واپسی کی دھمکی دی۔ 1971 ء کی جنگ میں یہ خاندان ہندوستان منتقل ہوئے اور اب ہندوستان کے شہری ہیں۔ مودی کو ایک طرف مسلمانوں کا آشیرواد چاہئے تو دوسری طرف وہ مسلمان ہونے کی بنیاد پر بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو واپس بھیجنا چاہتے ہیں ۔ مودی کے سپہ سالار امیت شاہ نے اعظم گڑھ کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا۔ شاید وہ بھول گئے کہ گجرات جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں ’’سرکاری دہشت گردی‘‘ کا اڈہ ہے۔ 2002 ء فسادات اور کئی فرضی انکاؤنٹرس کے امیت شاہ ماسٹر مائینڈ رہ چکے ہیں۔ مسلمانوں کی تعریف کیلئے سیاسی جماعتوں کی کوششوں پر شہود عالم آفاقی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
کس کو ہم خوش کریں کس کو ناخوش کریں
ایک گردن ہماری ہے خنجر بہت

Top Stories

TOPPOPULARRECENT