Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ایک ہی چھت تلے ‘تعلیمی شعبوں کے انضمام کی تجویز

ایک ہی چھت تلے ‘تعلیمی شعبوں کے انضمام کی تجویز

حیدرآباد ۔ 13 فبروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ دیگر تعلیمی شعبے ایک ہی چھت کے نیچے آجانے سے تعلیمی ترقی ہوسکتی ہے۔ اگر اول تا انٹر کی کلاسیس ایک ہی چھت تلے ہوں یا ایک ہی تعلیمی ادارہ میں ہوں تو حکومت کو نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ نویں جماعت، دسویں جماعت اور انٹرمیڈیٹ کی جماعتوں کو تربیت یافتہ اساتذہ کی سرپرستی ہوگی جو پوسٹ گریجویٹ ہونگے۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور تجربہ کی بناء طلباء کو اچھی تعلیم دینے کے قابل ہوں گے۔ مذکورہ جماعتوں میں ووکیشنل کورسیس کا آغاز بھی کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے بہت پہلے ہی احکامات جاری کردیئے تھے کہ ایک ہی چھت کے نیچے مختلف تعلیمی شعبے ہوں لیکن انہیں روبہ عمل لانے میں تاخیر ہورہی ہے۔ ریاستی حکومت کے عہدیدار بھی جاننا چاہتے ہیں کہ تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ جونیر کالج کے لکچررس یہ سوچ رہے ہوں گے کہ مختلف تعلیمی شعبوں کے انضمام سے ان کی ترقی رک جائے گی۔ ایسا سوچنا غلط ہے۔ دیگر تعلیمی شعبے جیسے آرٹس، سائنس کالج میں ہی ٹیکنیکل تعلیم کا انضمام کیا جائے یا پالی ٹیکنک کا قیام عمل میں لایا جائے تو یہ تعلیمی ادارے ایک ہی کمشنریٹ کی نگرانی میں رہیں گے۔ کل 132 ڈگری کالجس اور 53 پالی ٹیکنکس کے ادارے موجود ہیں۔ اگر انہیں ایک ہی تعلیمی ادارہ بنادیا جائے تو دونوں کالجس کو الگ الگ کمشنریٹ کی ضرورت نہیں رہے گی اور ڈائرکٹر اور جوائنٹ ڈائرکٹر اس کی نگرانی کریں گے۔ گروکل کے تعلیمی اداروں کو بھی ایک ہی چھت کے نیچے لانے سے حکومت کو کافی فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT