Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / ایگزٹ پولس کی حقیقت ‘ کہا کچھ ۔ ہوا کچھ

ایگزٹ پولس کی حقیقت ‘ کہا کچھ ۔ ہوا کچھ

بہار اور دہلی اسمبلی انتخابات میں نتائج برعکس رہے
نئی دہلی 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کے بشمول ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولس سامنے آگئے ہیں۔ تقریبا ہر ایگزٹ پول میں اترپردیش اور دوسری ریاستوں میں بی جے پی کو دوسری جماعتوں سے آگے دکھایا جا رہا ہے ۔ صرف پنجاب ایک ایسی ریاست ہے جس کا کوئی خاص تذکرہ نہیں ہو رہا ہے جہاںآثار و قرائن سے بی جے پی اور اس کی حلیف شرومنی اکالی دل کا صفایا ہوتا نظر آر ہا ہے ۔ تاہم دوسری تقریبا تمام ریاستوں میں بی جے پی کو سبقت دکھائی جا رہی ہے ۔ ماضی قریب کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایگزٹ پولس محض سیاسی جماعتوں کی خوشنودی کیلئے بھی ہوتے ہیں۔ یہ بات گذشتہ بہار اسمبلی انتخابات اور دہلی اسمبلی انتخابات میں سامنے آگئی تھی ۔ بہار اور دہلی میں انتخابات کے بعد ایگزٹ پولس میں بی جے پی کواقتدار دکھایا گیا تھا ۔ دہلی میں حالانکہ عام آدمی پارٹی کو سبقت دکھائی گئی تھی لیکن جس تاریخی اعتبار سے اس نے کامیابی حاصل کی تھی اس کا کسی بھی چینل نے اندازہ تک نہیں کیا تھا ۔ اب بھی بی جے پی کو اترپردیش ‘ گوا ‘ منی پورا ور اترکھنڈ میں اقتدار ملنے کی پیش قیاسیاں شروع ہوگئی ہیں۔ حالانکہ 11 مارچ کو نتائج کے باضابطہ اعلان کے ذریعہ ہی حقیقی صورتحال واضح ہوسکتی ہے ۔ بہار انتخابات میں بعض چینلوں نے بی جے پی کو تقریبا 130 نشستیں ملنے کی پیش قیاسی کی تھی تو کسی نے 140 نشستیں ملنے تک کے دعوے کئے تھے ۔ یہ کہا جارہا تھا کہ آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو اور کانگریس اتحاد کو 70 کے آس پاس نشستیں مل سکتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس رہی ۔ اس عظیم اتحاد نے 178نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور حکومت قائم کی تھی اور بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کو صرف 58 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا تھا ۔ اسی طرح دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو صرف تین نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ ایگزٹ پولس کی تعداد زیادہ تھی ۔ عام آدمی پارٹی نے یہاں 70 کے منجملہ 63 نشستوں پر تاریخ ساز کامیابی حاصل کرکے سب کو حیرت زدہ کردیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT