Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ایگزیکٹیو آفیسر اے پی حج کمیٹی پر ڈپٹی چیف منسٹر کی برہمی

ایگزیکٹیو آفیسر اے پی حج کمیٹی پر ڈپٹی چیف منسٹر کی برہمی

انتظامات میں حصہ داری سے گریز، معاہدے سے انکار
حیدرآباد۔20 جولائی (سیاست نیوز) عازمین حج کے انتظامات کے سلسلہ میں ایک طرف تلنگانہ حج کمیٹی اور ریاستی حکومت سنجیدگی سے اقدامات کررہے ہیں تو دوسری طرف آندھراپردیش حج کمیٹی کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اس رویہ پر اے پی حج کمیٹی کے ایگزیکٹیو آفیسر کو آج منعقدہ جائزہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر، حکومت کے مشیر اقلیتی امور اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ عازمین حج آندھراپردیش کے انتظامات کے سلسلہ میں تلنگانہ حج کمیٹی سے معاہدہ کرنے سے اتفاق کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال بھی دونوں حج کمیٹیوں نے یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے اور عازمین کے تعداد کے اعتبار سے خرچ کی رقم تقسیم کی گئی تھی۔ اب جبکہ حج کیمپ کی تیاریاں قریب آچکی ہیں، آندھراپردیش حج کمیٹی کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر معاہدہ کرنے سے گریز کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش حج کمیٹی کو جب کبھی اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا جائے تو وہ کچھ نہ کچھ استفسار کے ساتھ اسے واپس کررہی ہے۔ جائزہ اجلاس میں آج جب اس بارے میں ایگزیٹیو آفیسر آندھراپردیش حج کمیٹی لیاقت علی سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے معاملہ کو ٹالنے کی کوشش کی جس پر ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی، حکومت کے مشیر اے کے خان اور سکریٹری عمر جلیل نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر آندھراپردیش حج کمیٹی چاہے تو کسی اور مقام سے اپنے عازمین کو روانہ کرلے۔ حج ہائوز میں ان کے لیے انتظامات نہیں کئے جائیں گے۔ اگر تمام سہولتوں سے استفادہ کرنا ہے تو پھر خرچ میں حصہ داری ادا کرنی ہوگی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ برہمی کے باوجود آندھراپردیش کے عہدیدار نے معاہدہ کے بارے میں کوئی تیقن نہیں دیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آندھراپردیش کمیٹی تمام خرچ تلنگانہ کمیٹی پر عائد کرنا چاہتی ہے اور روانگی اور دیگر سہولتیں مفت حاصل کرنے کے حق میں ہے۔ اگرچہ آندھرا کے عازمین کو ہوٹل میں قیام اور طعام کی سہولت حاصل رہے گی لیکن آندھرائی عازمین کی روانگی کے ایام میں حج کیمپ میں 26 محکمہ جات کے عہدیدار اور ملازمین کو کھانے کا انتظام تلنگانہ حج کمیٹی کے ذمہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ سپلائنگ کمپنی کے خرچ میں بھی ان ایام کی حصہ داری ادا کرنی ہوگی، جن ایام میں آندھرا کے عازمین حج ہائوز سے روانہ ہوں گے۔ آندھراپردیش کے رکن قانون ساز کونسل احمد شریف نے اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی سے اپنی حالیہ ملاقات میں عازمین کی تعداد کے اعتبار سے خرچ میں حصہ داری سے اتفاق کیا لیکن اب عہدیداروں کا رویہ ٹال مٹول کا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر آندھرا حج کمیٹی معاہدہ نہیں کرے گی تو ان کے عازمین کے لیے یقینی طور پر مسائل پیدا ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT