Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / ای پی ایف پر مجوزہ ٹیکس سے دستبرداری

ای پی ایف پر مجوزہ ٹیکس سے دستبرداری

شدید احتجاج کے بعد مرکزی وزیر فینانس جیٹلی کا اعلان
نئی دہلی 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہر گوشہ سے تنقیدوں کی بوچھار کا سامنا کرنے والے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج متنازعہ تجویز کو کہ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف) سے رقم نکالنے پر  ٹیکس عائد کیا جائے گا، مکمل طور پر دستبرداری اختیار کرلی۔ پہلے دستیاب موقع سے استفادہ کرتے ہوئے اُنھوں نے ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ میں چندہ کی حد اور سبکدوشی پر دیڑھ لاکھ روپئے سے زیادہ رقم واپس حاصل کرنے پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز واپس لے لی۔ تاہم ارون جیٹلی نے مجوزہ 40 فیصد ٹیکس استثنیٰ برائے قومی پنشن اسکیم اور خدمات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جو ملازمین کو ای پی ایف او کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ حاصل ہونے والی نمائندگیوں کے پیش نظر حکومت چاہتی ہے کہ اِس تجویز کا جامع جائزہ لیا جائے چنانچہ میں اِس تجویز کے پیراگراف 138 اور 139 میری بجٹ تقریر سے حذف کرنا چاہتا ہوں۔این پی ایس کے چندہ دہندگان کو اپنے باقیات واپس حاصل کرنے پر 40 فیصد ٹیکس کی تجویز سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے قبل ازیں اشارہ دیا تھا کہ وہ وظیفہ پر سبکدوشی کے ٹیکس کے بارے میں اندیشوں کا ازالہ کریں گے جبکہ وہ پارلیمنٹ میں بجٹ 2016-17 ء پر مباحث کا جواب دیں گے۔ اپنے بجٹ برائے 2016-17 ء میں جیٹلی نے تجویز پیش کی تھی کہ ای پی ایف چندے پر یکم اپریل 2016 ء کے بعد رقم واپس حاصل کرنے پر 60 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اُنھوں نے اس  رقم کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ بشرطیکہ اِسے پنشن  اسکیم میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیا جائے۔ مجوزہ تجویز پر ملازمین کی یونینوں اور سیاسی پارٹیوں نے فوری برہمی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت ملازمین پر ٹیکس عائد کررہی ہے جبکہ اُنھیں اِن رقم کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے اپنے اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کوشش وظیفہ یاب سماج تشکیل دینے کی ایک کوشش ہے اس لئے ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے کہ وہ اِس رقم کی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کریں۔ بجٹ سے ایک دن قبل اُنھوں نے اپنے ایک بیان میں اشارہ دیا تھا کہ وہ صرف اِس رقم کے سود پر ٹیکس عائد کریں گے لیکن آج کا فیصلہ مکمل طور پر اِس تجویز سے دستبرداری اختیار کرنے کا ہے۔

TOPPOPULARRECENT