Friday , November 24 2017
Home / مضامین / اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن

محمد مصطفی علی سروری
فبروری کی گیارہ تاریخ تھی یوں تو اس دن واٹس اپ پر بے شمار مسیجس آئے تھے لیکن ایک مسیج ایسا بھی تھا جس نے ہماری توجہ فوری طور پر اپنی جانب مبذول کروالی ۔ اس مسیج میں لکھا تھا کہ پرانے شہر حیدرآباد کا رہنے والا ایک ویلڈر جس کا نام آنند راج ہے نے مصری گنج کی ایک مسلم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کے لئے رجسٹرار آفس میں درخواست داخل کی ہے ۔ اسی مسیج کے ساتھ مسیج بھیجنے والے نے درخواست کی تھی کہ کوئی ذی شعور فرد تنظیم یا ادارہ اس لڑکی سے ملے اور مل کر اس کو سمجھائے ۔ بس کیا تھا تھوڑی ہی دیر میں یہ مسیج بہت سارے گروپس میں بہت سارے غیرت مند مسلمانوں نے اس کام کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر شیئر کرنا شروع کیا ۔ شام ہوتے ہوتے ایک نوجوان نے آنند راج کا پتہ ڈھونڈ نکالا اور اس کے ساتھ بات چیت پر مبنی ایک ویڈیو بنائی جس کے مطابق آنند راج پہلے ضرور ہندو تھا مگر اب اس نے اسلام قبول کرلیا ہے اور قبول اسلام کے بعد ہی اس نے مصری گنج کی مسلمان لڑکی کے ساتھ باضابطہ طور پر نکاح بھی کیا ہے مگر اپنی ماں کی وصیت کو پورا کرنے کے لئے وہ رجسٹرار کے ہاں سابقہ نام سے اپنی شادی رجسٹر کروانا چاہتا ہے ۔
یوں ایک ہندو لڑکے کا مسلمان لڑکی کے ساتھ شادی کے مسئلہ پر پیدا ہونے والا تنازعہ اس اطلاع پر ختم ہوگیا کہ مصری گنج کی مسلمان لڑکی کسی غیر کے ساتھ نہیں بلکہ ایک نومسلم کے ساتھ ہی شادی کررہی ہے ۔ واٹس اپ اور فیس بک پر اس ویڈیو کے اپ لوڈ ہونے کے بعد بہت سارے لوگوں نے اطمینان کی سانس لی کہ چلو یہ ہندو مسلم مسئلہ نہیں بنا ۔ لیکن 11 فبروری کے اس قصے نے میرے ذہن میں جنوری 2016 کی ایک شادی کی خبر کو تازہ کردیا ۔ اس خبر کی 8 جنوری 2016 کو اخبار ٹائمز آف انڈیا نے Ex google employee falls for fake nawab, loses Rs. 37L سرخی لگائی تھی ۔

خبر کی تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ ایم ٹیک کی لڑکی کو گڈی ملکاپور کے پھول بیچنے والے 40 سالہ احمد علی نے دھوکہ دے کر فلمی انداز میں شادی کرلی ۔ شادی میں شریک دلہن کے ایک رشتہ دار نے دولھے کو پہچان لیا اور ولیمے کے دن پولیس نے دھوکہ دہی کے الزام میں احمد علی کو گرفتار کرلیا ۔ ڈی سی پی ساؤتھ زون نے اپنی پریس کانفرنس میں اس دھوکہ دہی کے کیس کے متعلق جو باتیں بتائی وہ بڑی دلچسپ تھی ۔ ایم ٹیک کامیاب اور گوگل جیسی بین الاقوامی کمپنی میں کام کرنے والی لڑکی نے اس دھوکہ میں ایک پھول بیچنے والے کے ساتھ شادی کرلی کہ وہ بنجارہ ہلز اور دیگر پاش علاقے میں چار گھروں اور دیگر قیمتی جائیداد کا مالک ہے ۔ پولیس حراست میں گرفتاری کے بعد احمد علی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس نے کوئی دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی اس نے لڑکی کو بھگا کر لے جانے کی کوشش کی بلکہ والدین کی رضامندی سے ان کی موجودگی میں اس نے باضابطہ شادی کی ہے ۔ ڈی سی پی ساؤتھ زون کے مطابق احمد علی پہلے ہی سے شادی شدہ ہے اور اس نے دسویں بھی کامیاب نہیں کیا ؟
کہنے کو تو یہ بھی کئی خبروں میں سے ایک خبر ہے لیکن میرے ذہن میں اس خبر کو لیکر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہوگی کہ سافٹ ویئر پروفیشنل ایم ٹیک کی اعلی تعلیم یافتہ لڑکی بھی دھوکہ کھاگئی  اور ایک ایس ایس سی فیل دھوکہ باز پھول بیچنے والے کے ساتھ اسکی شادی ہوگئی؟ پولیس میں لڑکی کی طرف سے جو شکایت ہے اس میں یہ بات شامل ہے کہ لڑکے نے اپنے آپ کو کئی مکانات اور جائیدادوں کا مالک بتایا ہے ؟
اگر لڑکا واقعی چار چار مکانات کا مالک نہ ہوتا تو کیا لڑکی ایم ٹیک ہونے کے باوجود ایس ایس سی فیل لڑکے ساتھ شادی کے لئے تیار ہوجاتی ؟ مصری گنج کی مسلمان لڑکی بھی جس نومسلم سے شادی کررہی تھی وہ بھی کوئی اعلی تعلیم یافتہ نہیں بلکہ ایک ویلڈر بتایا گیا ہے ؟
ان دو واقعات پر ہی میں اپنا کوئی تجزیہ نہیں کروں گا ، ہاں میں یہ ضرور چاہوں گا کہ قارئین اس تیسری خبر کو بھی غور سے پڑھ لیں ۔ ٹائمز آف انڈیا نے 7 فبروری 2016 کو اس خبر کو “Techie raped by man she met on dating app” کی سرخی کے ساتھ شائع کیا ۔ 32 سالہ ایک مسلمان سافٹ ویئر انجینئر لڑکی گولکنڈہ پولیس میں یہ شکایت درج کرواتی ہے کہ Tinder نامی ایک ویب سائٹ پر اس کی دوستی 28 سالہ سافٹ ویئر انجینئر وشو وردھن کے ساتھ ہوئی اور گذشتہ چھ مہینے سے وہ ایک دوسرے سے رابطہ میں ہیں ۔ 2 فبروری کو وشنو نے اس لڑکی کو فون کیا جس کے بعد وہ دونوں ایک ساتھ کافی پینے باہر گئے ۔ اس دوران وشنو نے لڑکی کو بتایا کہ وہ اسے کچھ نوٹس دینا چاہتا ہے ۔ لڑکی وشنو سے یہ نوٹس لینے کے لئے اس کے گھر جاتی ہے جہاں پر وہ سافٹ ڈرنک میں وھسکی ملا کر پلادیتا ہے جس سے اس لڑکی پر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے اور جب مسلمان لڑکی کو ہوش آتا ہے تب تک اس کا سب کچھ لٹ چکا تھا ۔
اس خبر پر بھی ہمارے جیالے مسلمان نوجوان بھائیوں کا غصہ قابل دید تھا صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ خبر پڑھنے والا ہر قاری لڑکی کو اور لڑکی کے گھر والوں کو اس کی تعلیم کو اس کی تربیت کو اس کے خاندان کے بڑے لوگوں کو ہر ایک کو کوس رہا تھا ۔ صرف کوسنا ہی نہیں بعض لوگ تو جو منہ میں آیا بول رہے تھے ۔ کیا یہی مناسب طریقہ ہے کیا مجھے بھی اس لڑکی کو گالی دے کر اس کے گھروالوں کو کوس کر خاموشی اختیار کرلینا چاہئے ۔ یا اس بات کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ آخر وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اختیار کرکے اس طرح کے واقعات کا تدارک کیا جاسکے گا اور ہر وہ ممکن کوششیں کی جائے کہ دوبارہ کوئی لڑکی ایسا نہ کرے یا کسی لڑکی کے ساتھ ایسا نہ ہو ۔ اس تیسری خبر کو آپ میں سے بہت لوگوں نے پہلے ہی پڑھا ہوگا ۔ میری گذارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر سے پڑھئے گا اور غور کیجئے کہ اس خبر میں بھی متاثرہ لڑکی اعلی تعلیم یافتہ سافٹ ویئر پروفیشنل ہے اور مادھا پور کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتی ہے ۔ دوسری بات جو نوٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ اس لڑکی کی عمر  32 سال ہے اور یہ لڑکی اپنی شادی خود ہی کرنے کے لئے دلچسپی رکھتی ہے ۔ تبھی تو اس نے ڈیٹنگ کی ویب سائٹ پر اپنا رجسٹریشن کروایا ہوگا ۔

میرا دل کہتا ہے کہ جتنی خامیاں اور جتنی خرابیاں ہوسکے اس لڑکی کے اخلاق و کردار پر اٹھاؤں کہ آخر کیا وجہ تھی اس کو غیر مسلم لڑکے کے ساتھ دوستی کرنے کی کافی پینے کے لئے وہ اس کے ساتھ باہر سے کیوں گئی ، اس لڑکی کو نوٹس لینے کے لئے وشنو کے گھر نہیں جانا چاہئے تھا اور نہ ہی اس کو سافٹ ڈرنکس پینا چاہئے تھا وغیرہ ۔
لیکن ذہن کے کسی گوشے سے آواز آتی ہے کہ کیا اس اعلی تعلیم یافتہ سافٹ ویئر پروفیشنل لڑکی کے لئے کوئی مناسب لڑکا مسلم سماج میں شادی کے لئے تھا بھی یا نہیں ؟
مصری گنج کی ایک لڑکی ایک ویلڈر سے شادی کرنے تیار ہوجاتی ہے ۔ ایک اور مسلم لڑکی ایم ٹیک کرنے کے باوجود ایس ایس سی فیل لڑکے سے شادی کرلیتی ہے ۔ گولکنڈہ پولیس میں شکایت درج کروانے والی لڑکی نے جس وشنو کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا وہ بھی ایک سافٹ ویئر پروفیشنل ہے ۔ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمان نوجوان لڑکے تعلیم کے میدان میں اتنے پچھڑ گئے ہیں کہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے انکی مناسبت سے رشتے ملنا محال ہوگیا ہے ؟ مجھے نہیں معلوم کہ اصل سچائی کیا ہے ۔ میں تو صورتحال کا انہی باتوں پر تجزیہ کررہا ہوں جو پولیس کے ذریعہ اخبارات اور میڈیا تک پہونچی ہیں ۔
ان تینوں لڑکیوں میں سے دو لڑکیوں کی عمر 32 برس بتائی گئی ہے اور تیسری لڑکی کی عمر 26 برس ۔ یعنی قانونی طور پر لڑکیوں کی شادی کی جو عمر ہے یہ تینوں اس کو کبھی کا پار کرچکی تھی  ۔اس کے باوجود ان کی شادیاں نہیں ہورہی تھی ۔ کوئی بھی غیرت مند والدین ایسے نہیں جو یہ چاہیں گے کہ اپنی لڑکیوں کی شادی نہ کریں ؟ پھر کیا وجوہات ہیں جس کے سبب مسلمان لڑکیاں 32 برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی ان کی شادیاں نہیں ہورپارہی ہیں اور ایسے ہی حالات میں یہ لڑکیاں غلط قدم اٹھارہی ہیں یا دھوکہ کا شکار ہورہی ہیں ۔
جن مسائل کا ہمارا سماج سامنا کررہا ہے اور جس سماج میں لڑکیوں کی شادیاں یعنی ان کا نکاح مشکل ہوگیا ہے میں بھی اسی سماج کا ایک حصہ ہوں ۔ میں لکھنے کے لئے بڑے بڑے مضامین لکھ دیتا ہوں ۔ تقریر کا وقت آیا تو جذبات سے بھرپور تقریر کرکے لوگوں کی تالیاں سن لیتا ہوں جب مجھے اپنی ذات سے نکاح کو سادی بنانے کا موقع ملتا ہے تو میں یہ عورتوں کا معاملہ ہے کہہ کر پچھلی نشست پر بیٹھ جاتا ہوں ۔ آخر میں کس منہ سے ان لڑکیوں کو گالیاں دو ؟ اور مجھے کس نے حق دیا ہے کہ میں ان لڑکیوں کو لالچی اور دنیادار کہوں ۔ میں کس طرح ان لڑکیوں کے والدین کو غیر ذمہ دار قرار دوں ، ان کو بُرا بھلا کہوں کہ کیوں ان لوگوں نے اپنی بچیوں کو دین نہیں سکھایا اور اور دین کی تعلیم نہیں دی میں کیسے کسی لڑکی اور اسکے والدین کو دنیا کے جائیداد کے لالچی کہوں ، میں بھی تو یہی چاہتا ہوں کہ جب میری لڑکی کی شادی ہو تو اس کے شوہر کے پاس اچھا خاصا مال اور دولت ہو ۔
میں نے بھی تو اپنی بچیوں کو ایک سے بڑھ کر ایک عصری ماڈرن تعلیم دلانے کی فکر کی ۔ مدرسہ بھیج کر دینیات پڑھانے سے زیادہ ضروری یہ سمجھا کہ اپنی بچیوں کو پابندی سے ٹیوشن بھیجوں تاکہ وہ لوگ اپنی کلاس اور اپنے اسکول میں اچھا اکیڈیمک پرفارمنس دکھاسکیں ۔ جب کبھی اسکول و کالج کے امتحانات کا وقت قریب آتا تو میں قرآن شریف پڑھانے والے مولوی صاحب کو چھٹی کروادیتا تھا ۔
چھوٹی سی عمر میں بچوں کے ذہنوں میںکس بات کی پختگی ہورہی ہے کہ اسکول کی تعلیم اور قرآن پڑھنے میں سے کیس ایک کو منتخب کرنا ہے تو اسکول کی تعلیم اور امتحانات کو preference دینا چاہئے  ۔

فجر کی نماز کے لئے بچوں کو جگانا میں مناسب نہیں سمجھتا لیکن جب ایمسیٹ کی کوچنگ کا وقت آیا تو صبح پانچ بجے اپنے بچوں کو اٹھا کر میں خود کوچنگ سنٹر چھوڑتا ہوں ۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد میں اپنی بچیوں سے توقع رکھوں کہ جب انھیں ان کی اپنی زندگی میں دین اور دنیا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ دنیا کا  انتخاب کریں ۔ واہ رے واہ یہ تو بچوں کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔ زندگی بھر ایک چیز سکھاتا رہا انکے دلوں میں محبت جگاتا رہا اور پھر ان سے توقع رکھ رہا ہوں کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دیں جس کی محبت اور ترغیب میں خود ان کو دلاتا رہا ۔
میں نے یہی تو اپنے بچوں کو چھوٹے رہنے سے سکھایا کہ زندگی میں کامیاب بننا ہو تو ڈاکٹر ، انجینئر اور کوئی پروفیشنل کورس کرنا ہے ۔ میں نے ہی یہ بات بتائی کہ دنیا میں عزت کا پیمانہ مال و دولت ہے ۔
ہاں اپنی بات کرتے کرتے میں تو یہ بھول ہی گیا ہوں کہ قارئین کرام آپ حضرات بھی تو اسی زمین اور اسی سماج میں رہتے ہیں ۔ جہاں میں رہتا ہوں ۔ کیا آپ نے کبھی اپنا جائزہ لیا ہے نہیں تو آپ کو ہرگز ہرگز یہ حق نہیں کہ خبروں کی زینت بننے والی ان لڑکیوں کو ان کے والدین کو برا بھلا کہیں ۔ آپ کو اگر مسلمان لڑکی کا ہندو لڑکوں کے ساتھ دوستی کرنا اور شادی کرلینا پسند نہیں ہے تو ہمارے سماج میں نکاح کو آسان بنایئے یہ تو بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ جو چیز آسانی سے میسر آجاتی ہے اس کے لئے بہت سارے خریدار رہتے ہیں او رمہنگی چیزیں خریدنا سب کے بس کی بات نہیں ؟
جب تک آپ اپنے نکاح میں مسلم لڑکیوں کے نکاح کو آسان نہیں بنائیں گے ۔ تب تک واٹس اپ ہو یا فیس بک مسیج شیئر کردینے سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ۔ اگر اب بھی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو ڈر ہورہا ہے کہ خدانخواستہ ایسے ہی حالات ہمیں سبق نے سکھائیں ۔ بقول علامہ اقبال
اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT